سوال
ایک قدیمی جامع مسجد کی توسیع اور تعمیر جدید کا مرحلہ درپیش ہے ۔ توسیع کیلئے مشرق کی جانب سے جگہ دستیاب نہیں ہے ۔ جبکہ غربی جانب محراب والی دیوار کے اس پار تقریباً ڈیڑھ / دو کنال رقبہ پر مشتمل ایک قبرستان موجود ہے ۔ نیز مسجد والی جگہ مسجد اور قبرستان والی جگہ قبرستان کیلئے وقف شدہ ہے۔توسیعی منصوبہ یہ ہے کہ پورے قبرستان کے اوپر سے آٹھ دس فٹ کی بلندی پر لینٹر کی چھت بنادی جائے پھر اس قبرستان کی چھت پر مسجد کی جدید تعمیر کی جائے ۔ یعنی عین مسجد کے نیچے قبریں اور اوپر مسجد بنادی جائے،اس طرح پرانی مسجد والی جگہ جدید مسجد کے صحن میں شامل رہے گی۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ قبرستان کے اور مجوزہ چھت پر مسجد کی جدید تعمیر کی جا سکتی ہے کہ نہیں ؟ از روئے شریعت مطہرہ کیا حکم ہے ؟
سائل: عبداللہ : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب وہ حصہ جہاں مسجد کی توسیع کا منصوبہ ہے خاص قبرستان کے لئے وقف ہے تو اس میں مسجد یا متعلق مسجد کسی چیز کی تعمیر کرنا جائز نہیں کہ بابِ وقف میں نص واقف نمنزلِ نصِ شارع ہے جس کی پوری پوری رعایت لازم و واجب ہے۔ اور جب اس قبرستان کے خواہ اوپر ہی مسجد کی تعمیر ہوگی تو بلاشبہ اس کے ستون قبرستان کی زمین پرہی قائم کئے جائیں گےلہذا بے شک وہاں شرطِ واقف کی خلاف وزری لازم آئے گی جو کہ جائز نہیں ۔
شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :یہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام ،حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص)۔(فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص486،486، ملخصا)
شامی کتاب الوقف میں ہے:فِي الْفَتْحِ: وَلَوْ ضَاقَ الْمَسْجِدُ وَبِجَنْبِهِ أَرْضُ وَقْفٍ عَلَيْهِ أَوْ حَانُوتٌ جَازَ أَنْ يُؤْخَذَ وَيُدْخَلَ فِيهِ اهـ زَادَ فِي الْبَحْرِ عَنْ الْخَانِيَّةِ بِأَمْرِ الْقَاضِي وَتَقْيِيدِهِ بِقَوْلِهِ: وَقْفٌ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْمَسْجِدِ يُفِيدُ أَنَّهَا لَوْ كَانَتْ وَقْفًا عَلَى غَيْرِهِ لَمْ يَجُزْ ۔ترجمہ:فتح القدیر میں ہے کہ اگر مسجد تنگ ہوجائے اور اس مسجد کے پہلو میں زمین ہو جو مسجد پر ہی وقف ہو یا دوکان ہو تو اس کو مسجد میں داخل کرنا جائز ہے ،اور بحر میں خانیہ سے یہ بات بھی زائد کی گئی کہ قاضی کی اجازت سے داخل کی جائے، اور ان کا یہ کہنا کہ (زمین یا دوکان)مسجد پر ہی وقف ہو اس بات کا فائدہ دے رہا ہے کہ اگر مسجد کے علاوہ کسی اور چیز پر وقف ہو تو اب اسکو مسجد میں داخل کرنا جائز نہیں ہے (شامی کتاب الوقف مطلب فی الوقف اذا خرب جلد 6ص 576،577)
البتہ اگر اس قبرستان کے اوپر مسجد کے اس حصہ کی یوں تعمیر کی گئی کہ مسجد کے ستون عین قبرستان پر واقع نہ ہوں بلکہ قبرستان کے باہر واقع ہوں اور اس تعمیر سے قبرستان آنے جانے والوں کا راستہ نہ رکےاور نہ قبروں کی جگہ تنگ ہو، نہ وہ زمین کہ جس پر ستون قائم ہونگے کسی کی متروکہ یا ذاتی ملکیت ہو،یا اگر کسی کی ملکیت ہو تو وہ اجازت دے دےیا گورنمنٹ زمین کی ہے جو ناکارہ پڑی ہے اور اس پر تعمیر سے لوگوں کے راستے وغیرہ پر کچھ فرق نہ ہوگا تو ان شرائط کے ساتھ تعمیر کی اجازت ہے۔نیز یہ بھی لازم کہ تعمیر اہلِ محلہ خود کریں یا انکی اجازت سے ہو تاکہ کسی طرح کا فساد لازم نہ آئے۔
سیدی اعلٰی حضرت اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:مسجد قدیم لبِ مقبرہ واقع ہے، یہ بیرون حدودمقبرہ ستون قائم کر کے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے، اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے، نہ اس میں دفن مَوتٰی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے ،نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پر واقع ہوں، بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں کہ اس میں حرج نہیں، جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کیے گئے، متعلق مسجد ہو اور کاروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملک ہو اور مالک اسے ہر کام کے لیے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کاروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بے جا تصرف نہ کیا، نہ وقف کو روکا، نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیاصرف بلائی ہوامیں کہ نہ موقوف تھی، نہ مملوک، ایک تصرفِ غیر مضرنفع مسلمین کے لیےکیا ۔(فتاوی رضویہ جلد16ص303،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی فرماتے ہیں:وقفی قبرستان مسلمانوں کے مردوں کو دفن کے لئے موقوف ہوتا ہے۔ لہذا اس کے کسی حصہ کو مدرسہ بنا دینا سخت نا جائز و حرام ہے اس لئے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ ہر گز جائز نہیں... البتہ اگر قبرستان کی حدود سے باہر ستون قائم کریں اور اس کی چھت اتنی بلندی پر ڈھالیں کہ اس میں دفن کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور نہ قبرستان کی زمین کا کچھ حصہ ستون کے قائم کرنے میں لیں تو اس صورت میں اس کی چھت پر مدرسہ اور دکانیں بنا سکتے ہیں ورنہ نہیں ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۳۹۹ پر ہے اور قبرستان میں ہر وہ بات جائز نہیں جو اس کے وقف کی غرض کے خلاف ہو یا مردہ کی اذیت کا سبب ہو۔(فتاوی فیض رسول،3/374،شبیر برادرز لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ربیع الثانی 1445ھ/ 31 اکتوبر 2023 ء