اگر تو نے بچوں کو مارا تو طلاق دے دوں گا

    agar tu ne bachon ko mara to talaq de doon ga

    تاریخ: 5 نومبر، 2026
    مشاہدات: 72
    حوالہ: 1926

    سوال

    زید کی بیوی بچوں کو اکثر ڈانٹتی اور بعض اوقات مارتی تھی، جس کی وجہ سے بچے خوفزدہ رہنے لگے۔ زید نے متعدد مرتبہ اسے سمجھایا، مگر جب کوئی اثر نہ ہوا تو بطورِ تنبیہ اس سے کہا "اگر تم نے بچوں کو مارا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔" بعد میں ایک موقع پر زید کے والد نے اپنے چار سالہ پوتے پر ہاتھ اٹھایا۔ اس پر زید نے اپنے والد سے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو نہیں مارتے اور ان کی ماں کو بھی اس کی اجازت نہیں۔ والد نے کہا: "یہ تو مارتی ہے۔" اس پر زید نے جواب دیا: "نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ بھی جانتی ہے کہ اگر اس نے بچوں کو مارا تو وہ مجھ پر حرام ہو جائے گی، اسے طلاق ہو جائے گی۔" اس موقع پر زید کا مقصد اپنے والد کو سابقہ بات سے آگاہ کرنا تھا، نہ کہ کوئی نیا جملہ انشاءً کہنا یا پہلی بات کی تجدید کرنا۔ بعد میں زید کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ کہیں اس گفتگو کے دوران اس کے الفاظ سے کوئی نیا معلق طلاق کا صیغہ یا پہلی بات کا ایسا اقرار تو نہیں ہوگیا جس سے بیوی کے بچوں کو مارنے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے۔ سوال: مذکورہ صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا والد سے گفتگو کے دوران ادا کیے گئے مذکورہ الفاظ سے کوئی نئی معلق طلاق یا ایسا اقرار ثابت ہوتا ہے جس کا شرعی اثر مرتب ہو، یا یہ محض سابقہ بات کی خبر دینے کے حکم میں ہے؟

    سائل : سید :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں زید کاجملہءِ اولٰی یعنی '' اگر تم نے بچوں کو مارا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا'' نہ طلاق ہے اور نہ ہی تعلیقِ طلاق، بلکہ یہ محض وعدہ کی ایک صورت ہے، کیونکہ یہ الفاظ مستقبل میں وعدہ طلاق پر دلالت کرتے ہیں ،اور وعدہ طلاق ،طلاق نہیں ہوتی ۔فتح القدیر باب ایقاع الطلاق جلد 4ص7میں ہے:وَلَا یَقَع بِأُطَلِّقُک إلَّا إذَا غَلَبَ فِی الْحَالِ۔ترجمہ : اور میں تجھے طلاق دے دونگا سے طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن جبکہ حال میں اسکا استعمال غالب ہو تواس سے طلاق ہو جائے گی۔

    سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ،جلد 13 ص 159)

    جبکہ زید کا جملہِ ثانیہ جواس نے اپنے والد سے کہا وہ اسی جملے کی خبر ہے ،الگ سے انشاء یا تعلیق نہیں ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ زید نے والد صاحب کو کہے گئے جملہ میں کہا '' نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ بھی جانتی ہے کہ۔۔۔۔۔الخ'' جس کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اگر تم نے بچوں کو مار اتو تمہیں طلاق دے دوں گااور بیوی کے علم میں بھی یہی جملہ ہے اگرچہ زید نےوالد کے سامنے اس جملے کو تعبیر کرتے ہوئے ایسے الفاظ کہہ دیئے جو عمومی حالات میں بولے جاتے تو ضرور مفیدِ تعلیق ہوتے لیکن یہاں یہ جملے اسی سابقہ واقعہ کی حکایت کرنے کے لئے ہی بولے گئے ہیں اور اس سابقہ جملے کا حکم گزر چکا کہ وہ جملہ مفیدِ طلاق نہیں بلکہ محض ایک وعدہ ہے لہذا زید کے والد کے سامنے ادا کئے گئے جملے کا حکم بھی یہی ہوگا۔

    اس مسئلے سے ملتی جلتی قریبی نظیر فتاوی خانیہ میں ہے: رجل قال لامرأته يا مطلقة وكان لها زوج قبله وقد كان طلقها ذلك الزوج، إن لم ينو بكلامه الإخبار طلقت، وإن قال عنيت به الإخبار دين فيما بينه وبين الله تعالى، وهل يدين في القضاء اختلفت الروايات فيه، والصحيح أنه يدين۔ ترجمہ: ایک شخص نے بیوی سے کہا "اے طلاق والی"، اور اس عورت کو پہلے کسی شوہر نے طلاق دی ہوئی تھی،اگر اس نے خبر دینے کی نیت نہ کی تو طلاق ہو جائے گی۔ اور اگر کہے کہ میری مراد خبر دینا تھی تو دیانۃً اس کی بات مانی جائے گی۔ قضاءً ماننے میں روایات مختلف ہیں، اور صحیح یہ ہے کہ قضاءً بھی مانی جائے گی۔(قاضی خان، جلد 1 ص 398، قدیمی)

    وجہِ استدلال: جب کلام کا ایک سچا محمل پہلے سے موجود ہو، یعنی سابقہ واقعہ ثابت ہو، تو اسے اس کی حکایت پر محمول کیا جاتا ہے اور صحیح قول پر قضاءً بھی مانا جاتا ہے۔ ہماری صورت میں سابقہ تعلیق ثابت ہے، اس لیے "بیوی کو پتہ ہے کہ اگر فلاں کام ہوا تو طلاق ہو جائے گی" اور یہ اسی تعلیق کی سچی خبر ہے۔

    یونہی الدر المختار میں ہے کہ جب تک خبر بنانا درست ہو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں: لانہ اخبار فلاضرورۃ فی جعلہ انشاء۔ ترجمہ: کیوونکہ یہ خبر ہے لہذا اسکو انشاء بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے: (قَوْلُهُ لِأَنَّهُ إخْبَارٌ) أَيْ يُجْعَلُ إخْبَارًا لِأَنَّهُ أَمْكَنَ ذَلِكَ۔ترجمہ: کیونکہ یہ خبر ہے یعنی اسکو خبر بنایا جائے گا کیونکہ یہی ممکن ہے۔(الدر المختار مع ردالمحتار، جلد 3 ص 310)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    16 جمادی الاول 1448ھ/ 28 اکتوبر 2026 ء کو جاری کیا گیا