سوال
ایک عورت (شہزادی)نے اپنے بھتیجے ذیشان کو دودھ پلایا اس وقت اسکا ایک بیٹا سرادر علی بھی شیر خوار موجود تھا۔ بعد ازاں اس عورت کی ایک بیٹی سلمٰی کا نکاح ذیشان کے بھائی شیراز اور ایک بیٹے سجاد کا نکاح ذیشان کی بہن اقرا سے طے پارہا ہے ۔ کیا شرعا اس نکاح کی کوئی ممانعت ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔سائل:شہزادی:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعا ان کے مابین نکاح کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔کہ ان کے مابین میں کوئی وجہِ حرمت موجود نہیں نہ نسبا نہ رضاعا۔
کیونکہ شہزادی کے بھتیجوں میں سے صرف ذیشان نے ان کا دودھ پیا ہے لہذا حرمت رضاعت صرف ذیشان کے لیے ہی ثابت ہوگی اس کے دوسرے بہن بھائیوں کے لیے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔
جیساکہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَتَحِلُّ أُخْتُ أَخِيهِ رَضَاعًا) كَأَنْ يَكُونَ لَهُ أَخٌ نَسَبِيٌّ لَهُ أُخْتٌ رَضَاعِيَّةٌ،كَأَنْ يَكُونَ لِأَخِيهِ رَضَاعًا أُخْتٌ نَسَبًا۔ترجمہ:اور رضاعی (دودھ شریک)بھائی کی بہن حلال ہے، جیسا کہ کسی کا نسبی بھائی ہو اور اسکی رضاعی بہن ہو یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن ہو ( تو ان سے نکاح حلال ہے)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب النکاح باب الرضاع جلد 3 ص 217)
اسی طرح ہدایہ میں ہے:" ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع " لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب وذلك مثل الأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها "ترجمہ:اور آدمی کے لیے اپنے رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ اس کے لیے اپنے نسبی بھائی کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے ، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی باپ شریک بھائی کی ماں شریک بہن ہو تو باپ شریک بھائی کے لیے اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے۔(ہدایہ کتاب النکاح باب الرضاع جلد 1 ص 218 الشاملہ)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 08 رمضان المبارک 1442 ھ/21 اپریل 2021 ء