عین مسجد سے سیڑھیاں نکالنے کا حکم
    تاریخ: 28 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 921

    سوال

    ایک شخص نے مسجد ومدرسہ کے لیے جگہ دی جس میں سے 6 مرلہ پر مسجد بنائی گئی اور وضو خانہ و استنجا خانہ کے علاوہ تمام جگہ کو عین مسجد قرار دے دیا گیا،مدرسہ میں طلبا ء کے اضافہ کی وجہ سے مسجد میں نمازیوں کا اضافہ ہوا جس بنا پر مسجد میں توسیع کی ضرورت پیش آئی، مسجد کے آگےمسجد کی توسیع کےلیے 10 مرلہ کا ایک پلاٹ مل چکا ہے اب مسجد کی نئی تعمیر 16 مرلہ جگہ پر کی جانی ہےنئی تعمیرات کاجو نقشہ انجینئر نے بنا کر دیا ہے اس کے مطابق موجودہ مسجد کونئی مسجد کا برآ مدہ بناکر اس میں سے ایک سیڑھی فرسٹ فلور کے لیے نکالی گئی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے:

    1۔ نئی تعمیرا ت میں مسجد کا برآمدہ جو کہ عین مسجد ہے اس میں فرسٹ فلور پر جانے کے لیے سیڑھی کی تعمیر کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    2۔ اگر نہیں کر سکتے تو ا س کا کوئی متبادل بتا دیں کیونکہ پرانی و نئی جگہ کے علاوہ سیڑھی کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے ۔

    سائل:نقیب اللہ مدنی: پاکپتن۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس جگہ کو ایک مرتبہ مسجد قراردے دیا جائے تو تحت الثری سے عرش اعظم تک اُتنی فضاء مسجد ہوجاتی ہے اور قیامت تک ہمیشہ مسجد ہی رہے گی ، اب اس کی مسجدیت باطل نہیں کی جا سکتی ۔مسجدیت تام ہونے یعنی اسے عین مسجد قرار دینے کے بعد اس کے کسی حصہ کو مسجدسے خارج کرنایااس پر کوئی ایسی چیز تعمیر کرنا جو مسجد نہ ہواگر چہ متعلقات مسجد سے ہی کوئی چیز بنائی جائے مثلا مسجد ہونے کے بعد اس پر امام کے لیے حجرہ بنانا یا اس میں سیڑھی بناناگویا کہ ان حصوں کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذکر و نماز سے معطل کرنا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے،مسجد کو بطور مسجد باقی رکھنا بہر صورت لازم ہےلہذا موجودہ مسجد کے ہال کو نئی مسجد کا برآمدہ تو بناسکتے ہیں کہ یہ عین مسجد ہی رہےگا البتہ اس میں سیڑھی ہرگزنہیں بناسکتےکہ یہ ناجائز،حرام وگناہ ہے۔

    مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں سے متعلق اللہ رب العزت کا قرآن پاک میں فرمان ہے :’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ترجمہ کنزالایمان :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ۔‘‘(البقرہ،آیت:114)

    اس آیت کے تحت صدرالافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ کنزالایمان پر اپنے حاشیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں :مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔مسئلہ :مسجد کی ویرانی جیسے ذکر و نماز کے روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سےبھی۔(خزائن العرفان ،زیر آیت البقرہ :114)

    فتح القدیر میں ہے:”الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ ۔“وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔ (فتح القدیر مع الھدایہ،جلد5، صفحہ440، مطبوعہ کوئٹہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:”جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ، کسی جز کاغیرِ مسجد کردینا اگرچہ متعلقاتِ مسجد ہی سے کوئی چیز ہو،حرامِ قطعی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،ج16،ص482،مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :’’خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایک حصہ زمین میں اس کا زینہ (سیڑھی)بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیلی کی متحمل نہیں۔ واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔ درمختار میں ہے: امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذٰلک لایصدق تاتارخانیۃ، فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر (حجرہ امام)تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگا، اگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہ، جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔ (فتاوی رضویہ،جلد 16،صفحہ 492،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”جب مسجد تعمیر ہو گئی تو تحت الثریٰ سے عرش تک اتنی فضا مسجد ہو گئی،اس کی مسجدیت باطل نہیں کی جا سکتی۔(فتاوٰی امجدیہ،ج2،ص143،مطبوعہ:مکتبہ رضویہ کراچی)

    2۔جس جگہ کو مسجد قرار نہ دیا ہو اس میں یا اس کی چھت پر متعلقات مسجد میں سے کوئی چیز مثلا ،امام و مؤذن یا ساما ن وغیرہ رکھنے کےلیے کمرہ بنانا اسی طرح چھت پر جانے کےلیے سیڑھی وغیرہ بنانا جائز ہے لہذا توسیع کےلیے جوجگہ ملی ہے اگر اس کو مسجد قرار نہیں دیا تو اس میں سے کسی جگہ پر سیڑھی بنائی جاسکتی ہے اسی طرح مسجد قرار دینے سے پہلےعمارت کی چھت پر امام ومؤذن کےلیے کمرہ وغیرہ بھی بنایا جاسکتاہے ۔

    سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کے لئے دکانیں یا اوپر امام کے لئے بالاخانہ بانی بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجدکی دیوار کا صرف اسارااس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کوڈھادیں گے۔ درمختار میں ہے:’’لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلک لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ولایجوز اخذالاجرۃ منہ ولان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ۔ترجمہ:اگرواقف نے مسجد کے اوپر امام کے لئے حجرہ بنادیا تو حرج نہیں کیونکہ وہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایساکرنا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گا، اگر وہ کہے کہ میرا شروع سے ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی(تاتارخانیہ)جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو کسی اور کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے لہذا ایسی عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ صرف دیوار مسجد پر وہ استوار کی گئی ہو، اس کی اجرت لینا یا مسجد کا کوئی حصہ کرایہ کے لئے یا رہائش کے لئے مقرر کرنا جائز نہیں۔ (فتاوی رضویہ،جلد 16،صفحہ 432،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتےہیں:’’صحن مسجد یعنی مسجد کا وہ حصہ جس میں عمارت نہیں ہے ،جسے مسجد صیفی کہتے ہیں یہ مسجد ہی ہے اور اس حصہ میں بعد تمام مسجد یت حوض نہیں بنایا جا سکتا اور اگر مسجد بناتے وقت قبل تمام مسجد یت حوض بنائیں تو بنا سکتے ہیں،کہ ابھی تک وہ جگہ مسجد نہیں ہے۔(فتاوی امجدیہ جلد 3ص 125مطبوعہ :دارالعلوم امجدیہ )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:29 ذوالقعدہ 1442 ھ/10 جولائی2021 ء