advance zyada kiraya kam ka hukm
سوال
ایڈوانس زیادہ دے کر کم کرایہ پر گھر لینا شرعاً کیسا ہے؟
بینواتوجروا
سائل:خادم حسین قادری (کراچی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
باہمی رضا مندی سے مکان کا کرایہ عرف سے کم یا زیادہ کچھ بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ کم ایڈوانس کی صورت میں زیادہ کرایہ اور زیادہ ایڈوانس کی صورت میں کم کرایہ رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، بس باہمی رضا مندی سے دونوں میں سے کوئی ایک معاملہ طے ہوجانا ضروری ہے۔ چنانچہ
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
یشترط فی صحۃ الاجارۃ رضاء العاقدین یعنی اجارہ کی صحت میں عاقدین کی رضا مندی مشروط ہے۔(صفحہ86، مادہ448، قدیمی کتب خانہ)
اجارہ شرائط و احکام میں بیع کی طرح ہے، تو جس طرح بیع میں مبیع و ثمن کے مقدار کا تعین عاقدین کی رضا مندی پر موقوف ہے چاہے عرف سے زیادہ ہو یا کم اسی طرح اجارہ میں بھی منفعت و اجرت کا تعین باہمی رضا مندی پر موقوف ہے۔
چنانچہ العقود الدریہ میں ہے:والإجارة والبيع أخوان؛ لأن الإجارة تمليك المنافع والبيع تمليك الأعيان یعنی اجارہ اور بیع دونوں بھائی ہیں کیونکہ اجارہ منافع کی تملیک کا نام ہے اور بیع اعیان کی تملیک کا۔ (جلد2، صفحہ120، دار المعرفہ)
کرایہ دار سے سیکیورٹی ڈپازٹ کے عنوان سے جو رقم وصول کی جاتی ہے اس کی حیثیت وصول کرنے کے بعد عرف کی بنا پر قرض کی بن جاتی ہےیعنی عرف جاری ہے کہ مالکِ مکان اسے استعمال کرلیتا ہے اور بعد میں اجارہ ختم ہونے پر اتنی رقم اپنے پاس سے لوٹادیتا ہے تو یہاں معنیٔ قرض متحقق ہے۔
چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:جبکہ یہ امساک عین و دفعِ مثل ضابطۂ معلومہ معہودہ ہے۔۔۔ تو یہاں قرض ماننا غلط نہیں اگرچہ عاقدین بلفظِ قرض تعبیر نہ کریں۔(جلد19، صفحہ565، رضا فاؤنڈیشن)
لیکن جس وقت معاملہ طے پارہا ہوتا ہے یہ رقم قرض کے حکم میں نہیں ہوتی، نہ قرض بول کر لین دین ہوتا ہے نہ عاقدین کے حاشیۂ خیال میں اس کا قرض ہونا موجود ہوتا ہے، بلکہ دونوں ہی اسے سیکیورٹی (زرِ ضمانت) سمجھتے ہیں یعنی مالک مکان اس لیے یہ رقم وصول کرتا ہے تاکہ آئندہ کرایہ نہ ملنے کی صورت میں یا مکان میں کرایہ دار کی جانب سے کسی نقصان کی صورت میں اس سے کٹوتی کی جاسکے۔ اس لیے بوقتِ عقد اس پر قرض کے احکام لاگو نہیں ہوں گے فلہذا زیادہ ڈپازٹ کے ساتھ کم کرایہ مقرر کیا جائے تو یہ ایک ہی معاملہ ہے یعنی عقدِ اجارہ ہی ہے نہ کہ قرض و اجارہ۔ ڈپازٹ اور کرایہ دونوں عقدِ اجارہ کا حصہ ہیں۔جس قدر ممکن ہو لوگوں میں جاری عقود کو صحت کی جانب پھیرا جاتا ہے۔
چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:شرع میں مہما امکن تصحیح کلام و عقود پر نظر رہتی ہے کما لایخفی علی من خدم الفقہ۔(جلد19، صفحہ566، رضا فاؤنڈیشن)
مفتی نظام الدین رضوی صاحب لکھتے ہیں:
شریعتِ طاہرہ کا ضابطہ ہے کہ مسلمان کا فعل امکانی حد تک حرمت و فساد سے بچایا جائے، اسی لیے فقہائے کرام نے بہت سے مسائل میں امکانی گوشوں کو تلاش کرکے تصحیحِ عقد فرمائی۔ مثلاً بازار میں مالِ حرام غالب اور حلال مغلوب ہو تو بھی اشیاء کی خریداری کو جائز فرمایا۔ بیع سیف محلی بحلیۃ میں جز ثمن دے کر کہا خذمن ثمنھا تو اسے من احدھما قرار دے کر حلیہ کی بیعِ صرف کو جائز کہا۔ بیع درہم و دینار بدرھمین و دینار کو مقابلۂ مطلقہ مان کر مقابلۃ الجنس بخلافہ کے احتمال کو تصحیحِ عقد کے لیے متعین کیا۔(مجلسِ شرعی کے فیصلے، صفحہ141، دار النعمان)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص مالکِ دکان ، کرایہ دار سے کہتا ہے کہ مجھ کو چار سو روپیہ قرضہ دے دو تاکہ میں اپنا سودی قرضہ اتاردوں ، اس کے بدلے میں تم کو دکان کے کرایہ میں کمی کردوں گا ، کیا یہ صورت جائز ہے؟ آپ جواباً فرماتے ہیں:
اگر ہمیشہ کے لیے کمی کردے اور صاف صاف قرض میں تحریر کردیں کہ کچھ نفع اس پر لیا دیا نہ جائے گا یہ کمی صرف اس احسان کے بدلے میں احسان ہو، قرض کا منافع نہ ہو تو حرج نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، جلد17، صفحہ336، رضا فاؤنڈیشن)
یہاں اس شخص نے حقیقۃً قرض لیا اس کے باوجود کرایہ میں کمی کو قرض پر نفع کے بجائے احسان کا بدلہ احسان شمار کیا جاسکتا ہے تو مانحن فیہ مسئلہ میں حقیقۃً قرض نہیں بلکہ سیکیورٹی یعنی زرِ ضمانت ہے تو یہاں کرایہ میں کمی خوانخواہی قرض پر نفع کیسے بن جائے گی؟
بعض اوقات دو چیزیں بظاہر یکساں نظر آرہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں دونوں کے مقاصد اور نتائج و ثمرات میں بہت تفاوت ہوتا ہے ، یہاں بظاہر ڈپازٹ اور قرض یکساں نظر آرہے ہیں لیکن دونوں الگ الگ ہیں۔ ڈپازٹ کا اصل مقصد سیکیورٹی یعنی مالک مکان کے حقوق کا تحفظ ہے اگرچہ بعد میں اُس کی حیثیت قرض کی بن جانی ہے لیکن وقتِ عقد ایسا نہیں، اور قرض کا اصل مقصدمحض رقم یا مثلی چیز کا حصول ہے تاکہ اپنی ضرورت پوری کی جاسکے۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت نے منی آرڈر کے جواز پر فتویٰ لکھا تو اس میں اسی طرح کے ایک شبہ کہ منی آرڈر ہنڈی کی طرح ہے کیونکہ دونوں میں سقوطِ خطرِ طریق کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، کا جواب لکھتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
ان میں باہم زمین آسمان کا فرق ہے، ہنڈوی محض قرض ہے اور اس میں قرض دینا خاص مرسِل کی غرض اور اس کے ذریعہ سے اُسے سقوط ِ خطر کی منفعت حاصل تو قرض جر منفعۃ فھو ربا بلاشبہ صادق۔۔۔ بخلاف ڈاکخانہ کہ اجیرِ مشترک کی دکان ہے اور اُس کی وضع ہی اجیر بننے کے لیے، جو فیس دی جاتی ہے یقیناً اجرت ہے۔۔۔ مرسل کی غرض نفسِ عقدِ اجارہ سے حاصل۔(جلد19، صفحہ575، رضا فاؤنڈیشن)
موجودہ صدی کے عظیم مفکر و محقق پیر محمد چشتی صاحب رحمہ اللہ سے اسی طرح کے دو سوالات ہوئے تو آپ نے اس پر باقاعدہ ایک رسالہ تحریر کیا جو الرسائل والمسائل کی جلد اول میں بنام ‘‘رہن کے نام سے اجارہ کی شرعی حیثیت’’ کے عنوان سےموجود ہے۔
دوسرا سوال یہ ہوا کہ‘‘آج کل لوگوں نے ایک جدید طریقہ نکالا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کرایہ کی ایک جائیداد مثلاً مکان یا دوکان جس کا ماہوار کرایہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق مثلاً پانچ ہزار ہے لیکن مالکِ جائیداد پانچ لاکھ روپیہ اُس سے پیشگی وصول کرکے یہ جائیداد اُسے رہنے کے لیے دے دیتا ہے اور ایک ہزار روپیہ بطور کرایہ ہر ماہ اُس سے وصول کرتا ہے۔ ’’
آپ جواب میں فرماتے ہیں:
مذکور فی السوال دونوں صورتیں شریعتِ مقدسہ کے مطابق جائز ہیں کیونکہ ان دونوں صورتوں میں جانبین سے اجارہ ہی اجارہ ہے۔(الرسائل والمسائل، جلد1، صفحہ213، مکتبہ آوازِ حق)
البتہ اگر معاملہ طے ہوجائے مثلاً مقرر ہوچکا کہ پچاس ہزار ایڈوانس اور دس ہزار کرایہ ہوگا ، اس کے بعد مالک مکان مزید رقم مانگے اور کرایہ میں کمی کا کہے مثلاً یوں کہے کہ پچاس ہزار مزید دے دو تو میں کرایہ پانچ ہزار کردیتا ہوں ،تو یہ قرض پر نفع ہوگا کیونکہ اب دی جانے والی مزید رقم زرِ ضمانت نہیں بلکہ محض قرض ہے اور یہ قرض پر نفع ہے جو بلاشبہ سود ہے۔
چنانچہ مشہوراصولی قاعدہ ہے:
کل قرض جرنفعا حرام یعنی ہر وہ قرض جو منفعت لائے وہ حرام (سود) ہے۔(رد المحتار، جلد7، صفحہ413، دار المعرفہ)
اسی طرح اگر کسی نےباقاعدہ قرض لیا ہو اور پھر قرض خواہ کو مکان کرائے پر دے تو اجرتِ مثل لازم ہوگی، یہاں کمی کرے گا تو قرض پر نفع والی صورت پیدا ہوگی جو کہ حرام ہے۔ مندرجہ ذیل عبارات میں اسی کا بیان ہے۔ چنانچہ
رد المحتار میں خانیہ سے ہے:وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا یعنی خانیہ میں ہے کہ ایک شخص نے کسی سے کچھ دراہم قرض لیے اور قرض خواہ کو اپنے مکان میں ٹھہرایا تو فقہاء نے فرمایا کہ قرض خواہ پر اجرتِ مثل لازم ہوگی کیونکہ قرض دار نے اسے اپنے گھر قرض کی منفعت کے عوض ٹھہرایا ہے نہ کہ مفت میں (اس لیے سود سے بچنے کے لیے اُس پر کرایہ کی ادائیگی لازم ہے)۔(رد المحتار، جلد9، صفحہ107، دار المعرفہ)
اسی میں ہے:قلت: وھو مقید ایضا بما قلنا بما اذا کان یدفع اجر المثل، والا کانت سکناہ بمقابلۃ ما دفعہ من الدراھم عین الربا یعنی میں کہتا ہوں کہ یہ جواز مقید ہے اس بات کے ساتھ کہ جب وہ اجرتِ مثل ادا کرے ورنہ ادا کردہ دراہم کے مقابلے میں اس کا مکان میں رہنا عین سود ہے۔(رد المحتار، جلد7، صفحہ38، دار المعرفہ)
ان عبارات کو زیادہ ایڈوانس اور کم کرایہ پر محمول کرنا درست نہیں جیسا کہ واضح ہوچکا۔