سوال
آج کل گندم پیسنے والی بجلی کی مشینیں، گندم پسائی کے دوران تقریباً آدھا کلو سے تین پاؤ تک گندم جلا دیتی ہیں۔ اب جو شخص چکی والے کے پاس گندم لے کر آتا ہے، وہ 40 کلو وزن کرواتا ہے لیکن آٹا 39 کلو ایک پاؤ نکلتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو حصہ جل کر ضائع ہو گیا، وہ شرعی طور پر کس کے کھاتے میں جائے گا؟ چکی والے کے یا گندم لانے والے کے؟ اس مسئلے کا شرعی حل بیان فرما دیں۔
سائل: تیمور خان، واٹس ایپ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چکی والا شرعاً اجیرِ مشترک ہے اور اس کی حیثیت ایک امین کی ہے۔ شرعی قاعدہ ہے کہ امین کے پاس اگر کوئی چیز بغیر اس کی تعدی (زیادتی یا کوتاہی) کے ضائع ہو جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا۔ لہٰذا، چکی میں پسائی کے دوران گندم کا جو حصہ جل کر ضائع ہو جاتا ہے، اگر وہ مشینری کی ضرورت اور پسائی کے عمل کا ایسا ناگزیر حصہ ہے جس سے بچنا ممکن نہیں، تو یہ نقصان گاہک (مالکِ گندم) کا شمار ہوگا، چکی والے پر اس کا کوئی ضمان (تاوان) نہیں۔اسی طرح اگر چکی والا پہلے سے گاہک کو آگاہ کر دے کہ اس کی مشین میں خرابی ہے یا لوگوں کو معلوم ہو بھی وجہ سے اتنی گندم ضائع ہوتی ہے اور گاہک جانتے ہوئے گندم پسوائے، تب بھی چکی والا ضامن نہیں۔ البتہ، اگر چکی والے نے مشین کی صفائی نہ رکھی ہو یا اس کی کسی ایسی غفلت سے گندم جلے جس سے بچنا ممکن تھا، تو یہ تعدی کہلائے گی اور وہ ضامن ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر فریقین میں پہلے سے یہ شرط طے ہو جائے کہ ضائع شدہ گندم کا تاوان لیا جائے گا، تو ایسی صورت میں بھی تاوان لینا جائز ہوگا۔
دلائل وجزئیات:
بلا تعدی اجیر مشترک پر ضمان سے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وَحُكْمُ الْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ إنْ هَلَكَ فِي يَدِهِ مِنْ غَيْرِ صُنْعِهِ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ".ترجمہ: اور اجیر مشترک کا حکم یہ ہے کہ اگر مال اس کی تعدی (عمل) کے بغیر ہلاک ہوا تو اس پر ضمان نہیں ہوگا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک۔ (الفتاوی الہندیۃ ، 3/555، دار الفکر بیروت)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: " اعْلَمْ أَنَّ الْهَلَاكَ إمَّا بِفِعْلِ الْأَجِيرِ أَوْ لَا وَالْأَوَّلُ إمَّا بِالتَّعَدِّي أَوْ لَا وَالثَّانِي إمَّا أَنْ يُمْكِنَ الِاحْتِرَازُ أَوْ لَا فَفِي الْأَوَّلِ بِقِسْمَيْهِ يَضْمَنُ اتِّفَاقًا وَفِي الثَّانِي لَا يَضْمَنُ عِنْدَ الْإِمَامِ مُطْلَقًا... وَفِي التَّبْيِينِ وَبِقَوْلِهِمَا يُفْتَى لِتَغَيُّرِ أَحْوَالِ النَّاسِ وَبِهِ يَحْصُلُ صِيَانَةُ أَمْوَالِ النَّاسِ لِأَنَّهُ إذَا أَعْلَمَ لَا يَضْمَنُ رُبَّمَا يَدَّعِي أَنَّهُ سَرَقَ أَوْ ضَاعَ مِنْ يَدِهِ".ترجمہ: جان لو کہ ہلاکت یا تو اجیر کے فعل سے ہوگی یا نہیں، پہلی صورت میں یا تو تعدی (زیادتی) کے ساتھ ہوگی یا نہیں، دوسری صورت میں یا تو اس سے بچنا ممکن ہوگا یا نہیں، پہلی صورت میں دونوں قسموں میں بالاتفاق ضامن ہوگا اور دوسری صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا۔ تبیین میں ہے کہ اب صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے احوال تبدیل ہوچکے ہیں اور اسی سے لوگوں کے اموال کی حفاظت ہوتی ہے، کیونکہ جب اسے معلوم ہوگا کہ وہ ضامن نہیں ہوگا تو وہ بعض اوقات یہ دعویٰ کرے گا کہ مال چوری ہوگیا یا ضائع ہوگیا۔ (رد المحتار، باب فسخ الاجارۃ، 6/65، دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”جمہور آئمہ متاخرین وصحابہ وتابعین رضی اللہ عنھم اجمعین کے اختلافات کو دیکھ کر وہ قول اختیار فرمایا ہے کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار ہے یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف واجب نصف ساقط اور شک نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق الناس واحفظ الاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہا امید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے“۔ (فتاویٰ رضویہ، 19/573، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اجیرِ مشترک کے ساتھ ضمان کی شرط سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے فرمایا:” اگر اجیر ِمشترک اور آجِر کے درمیان یہ طے ہوجاتا ہے کہ نقصان پر ضمان دینا ہوگا تو ٹھیک ہے پھر تاوان لیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا یہاں بھی اگر دونوں کے درمیان پہلے سے طے ہو تو پھر نقصان کا تاوان اجیر پر لازم ہوگااور دھوبی کو تاوان دینا ہوگا“۔ (فتاویٰ رضویہ، 19/571، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
الفتاوى الہندیۃ میں ہے: "وَالْأَصْلُ أَنَّ الْإِجَارَةَ إذَا وَقَعَتْ عَلَى عَمَلٍ فَكُلُّ مَا كَانَ مِنْ تَوَابِعِ ذَلِكَ الْعَمَلِ وَلَمْ يُشْتَرَطْ عَلَى الْأَجِيرِ فِي الْإِجَارَةِ فَالْمَرْجِعُ فِيهِ إلَى الْعُرْفِ. كَذَا فِي الْمُحِيطِ".ترجمہ: اصل قاعدہ یہ ہے کہ جب اجرت کا معاملہ کسی مخصوص کام پر طے پائے، تو وہ تمام چیزیں جو اس کام کے لوازمات اور توابع (یعنی ضروری حصوں) میں سے ہوں لیکن معاہدے کے وقت اجیر پر ان کی شرط نہ لگائی گئی ہو، تو ان کے بارے میں فیصلہ عرف کے مطابق کیا جائے گا، المحیط میں اسی طرح مذکور ہے۔(الفتاوى الہندیۃ، کتاب الاجارۃ، الباب العاشر، 4/432، دار الفکر)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے سلائی کے تفاوت اور تاوان کے قاعدہ کلیہ کے بارے میں فرمایا:”اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تفاوت ہو یعنی اس کام کے کرنے والے یہ کہیں کہ یہ فرق ہے تو اختیار ہے کہ کپڑے کی قیمت لے یا وہی سلا ہوا کپڑا اور اس صورت میں سلائی وہ دے جو خراب سلے ہوئے کی ہونی چاہیے نہ وہ جو باہم ٹھہر چکی اور تھوڑا فرق ہو تو تاوان لینا جائز نہیں ہے اور صورت مسئولہ میں چونکہ بہت زیادہ تفاوت نہیں کہ کپڑا الٹا نہیں سیا گیا بلکہ بوٹیوں کا رخ جو اوپر ہونا چاہیے نیچے ہوگیا معمولی درزیوں کو اس کی تمیز بھی نہیں ہوتی لہذا تاوان جائز نہیں ہے اور وہ سلائی دی جائے گی جو اس کی ہونی چاہیے نہ وہ جو باہم ٹھہر چکی ہے “۔ (فتاویٰ امجدیہ، /269، مکتبہ رضویہ کراچی) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:23شعبان المعظم 1447ھ/12 فروری 2026ء