حج بدل کرنے کا شرعی حکم
    تاریخ: 30 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 481

    سوال

    عرض یہ ہے کہ میری زوجہ 4 سال سے ایسے مرض میں مبتلا ہے جو دنیا میں لاکھوں لوگوں میں سے کسی کو ہوتا ہے ،میڈیکل سائنس کے مطابق دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں ہے ،کراچی کے تمام ہسپتال بشمول آغاخان کے یہ مرض لاعلاج ہے ۔

    کئی جگہ سے ایلو پیتھک ،ہومیوپیتھک ،حکیمی اور ہربل علاج کرواچکے ہیں ،اور پانچ ،چھ جگاہوں سے روحانی علاج کرواچکے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ،ابھی بھی ایک جگہ سے علاج چل رہا ہے ۔

    اس وقت ان کی حا لت یہ ہے کہ وہ مکمل بیڈ پر ہے ،نہ اٹھ سکتی ہے،نہ چل سکتی ہے ،نہ خود کھا ،پی سکتی ہے ،واش روم بھی ویل چیئر پر جاتی ہے وہ بھی کسی کے سہارے ،بغیر سہارے بٹھا دیں تو گر جاتی ہے ،رات کو سوتے ہو ئے ایک پیر دوسرے پر آجائے تو نہیں ہٹا سکتی ،کچھ کہنا چاہے تو بہت قریب ہونا پڑتا ہے ،بعض اوقات سمجھنا مشکل ہو جا تا ہے

    پچھلے سال 2018 ءمیں عمرہ بھی کر چکی ہیں لیکن کو ئی فائدہ نہیں ہوا،اس سال میں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا ہے ،اس حل میں زوجہ نہیں جا سکتی ، شادی کے موقع پر میں اور میرے رشتہ داروں اور زوجہ کے رشتہ داروں نے ان کو تحائف کی شکل میں سونا دیا تھا اور وہ تنی تعداد میں ہے کہ ان پر حج فرض ہے لیکن وہ خود نہیں جا سکتی تو کیا وہ گنہگار ہونگی ؟اور ان کی طرف سے کوئی اور مثلا میری ہمشیرہ جو پہلے حج کر چکی ہیں ،ان کا حج بدل کر سکتی ہیں

    براہ کرم لیٹر ہیڈ پر بمع مہر اور دستخط کے جواب عنایت فرمائیں تاکہ زوجہ مطمئن ہو سکے ۔

    سائل:عبدالماجد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے بیان کیا تو آپ کی زوجہ کی اجازت سے،کو ئی بھی شخص ان کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہےاور اس کے لیئے پہلے حج کیا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے صرف وہ حج بدل کی نیت کرے ۔ اوراگر درمیان میں آپ کی زوجہ تندرست ہو جاتی ہیں اور بذات خود حج کرسکتی ہیں اور دوبارہ حج کی استطاعت بھی رکھتی ہیں تو ان پر بذات خود فرض حج ادا کرنا لازم ہوگا ۔

    لباب المناسک مع المناسک للعلامۃ علی القاری (باب الحج عن الغیر ،فصل فی شرائط جواز الحج ، ص:۴۳۵ ، طبع:ادارۃ القران کراتشی) میں حج بدل کے درجِ ذیل شرائط بیان کیئے گئے ہیں :

    وجوب الحج ،العجز المستدام من وقت الاحجاج الی وقت الموت ،وان زال عذرہ وجب علیہ الاداءبنفسہ ،الامر باالحج ،عدم اشتراط الاجرۃ ،ان یحج بمال المحجوج عنہ ،والمعتبر فی ذالک ان یکون اکثر النفقۃ من مالہ ،ان یحرم من المیقات ،ان یحج المامور بنفسہ ،عدم المخالفۃ فلو امرہ بالافراد او تمتع لم یوع حجہ عن الامر و یضمن النفقۃ ،ان یحرم بحجۃ واحدۃ ،اسلام الاٰمر ،عقلھما

    عدم الفوات ۔(ملخصاً) ترجمہ:حکم دینےوالے پرحج واجب ہو ،وہ بذات خود حج کر نے سے عاجز ہو کہ اس کا یہ عجز موت تک طاری رہے ،اور اگر اس کا عذر زائل ہوگیا تو اس پر بذات خود فرض حج کرنا واجب ہوگا ،دوسرے کو حج کا حکم دیا گیا ہو ،اجرت لینے کی شرط نہ رکھی ہو،جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے سارا خرچہ اس کی طرف سے ہو اور اس میں اعتبا ر اکثر خر چہ کا ہے کہ اکثرخر چہ حکم دینے والے کا ہو،حج کرنے والا میقات سے ہی احرام باندہے ،حج بدل کرنے والا بذات خود حج کرے (یعنی وہ کسی اور کو نہ بھیجے )حکم دینے والے کے حکم کی مخالفت نہ کرے اگر اس نے افراد کا کہا اور حج بدل کرنے والے نے قران یا تمتع کر لیا تو حکم دینے والے کی طرف سے ادا نہیں ہوگا،اور وہ ضامن بھی ہوگا ،بدل کرنے والا ایک ہی حج کا احرام باندھے ،حج کا حکم دینے والامسلمان ہو ،دونوں (یعنی حج کرنے اور کرانے )کا عاقل ہونا ،حج کرنے والااس حج کو فوت نہ کرے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16جمادی الاولی 1440 ھ/22جنوری 2019ء