آپ بتا دیں میں طلاق دے دیتا ہوں

    aap bata den main talaq de deta hun

    تاریخ: 1 اگست، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1682

    سوال

    میرانا م شہر بانو ہے شوہر کا نام انجم اسلم ہے۔ میرے شوہر نے جب میں آٹھ ماہ پیٹ سے تھی دو بار طلاق دی تھی ،اور پھر ہم نے رجوع کرلیا ،چا ر ماہ پہلے تین بار صرف لفظ طلاق کہا تھا کافی غصے میں تھا، لیکن میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو ں۔میرا شوہر مجھے بہت مارتا پیٹتا ہے اور روزانہ طلاق کی دھمکی دیتا ہے روز کا گھر میں تماشہ لگا کے رکھتا ہے ،گالیاں دینا روز کا معمول ہے اور مجھے روز بولتا ہے کہ گھر چھوڑ کو چلی جاؤ۔میرا شوہر طلاق کو نہیں مان رہا ہے وہ بول رہا ہے میں نے کوئی طلاق نہیں دی ۔

    نوٹ: بیوی طلاق کادعوٰی کرتی ہے مرد اس کا انکار کرتا ہے ہے کہتا ہے میں نے کوئی طلاق نہیں دی البتہ میں نے اتنا بولاکہ اگر آپ نے نہیں رہنا تو آپ بتا دیں تو میں طلاق دے دیتا ہوں ۔بیوی کے پاس اپنے دعوٰی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی گواہ نہیں ہیں اور شوہر نے حلف اٹھا لیا کہ میں نے بیو ی کو کوئی طلاق نہیں دی ۔

    سائلہ:شہر بانو:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب مرد بالکل طلاق کا انکار کر رہا ہے کہ اس نے کوئی طلاق نہیں دی، تو ایسی حالت میں عورت کو کوئی طلاق نہیں ہوئی وہ بدستور مرد کے نکاح میں ہے ۔لیکن یاد رہے یہ حکم قضاءًہے یعنی (ظاہری صورتِ حال )کے مطابق ہے ،نیز شوہر کے یہ الفاظ (اگر آپ نے نہیں رہنا تو آپ بتا دیں تو میں طلاق دے دیتا ہوں )سے کسی قسم کی کوئی طلاق نہیں ہوئی؛ کیونکہ یہ مستقبل میں طلاق دینے اور عورت کے نہ رہنے کے بتانے پر طلاق دینے کا محض ارادہ ہے۔ لہٰذا فقط پوچھنے سے، یا طلاق کی دھمکی دینے یا مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ کیونکہ طلاق کے لیے انشاءِ طلاق (یعنی طلاق کا واقع کرنا) ضروری ہوتا ہے، جو کہ یہاں نہیں پایا جاتا۔

    البتہ اگرشوہر نے طلاقیں تو تین ہی دیں مگر بعد میں حلفاً کہہ رہا ہے کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی تو دیانۃً (یعنی بندے اور خدا کے درمیان جو معاملہ ہے اسکے مطابق) تین طلاقیں ہی واقع ہونگی ۔ اور اس جھوٹ کا وبال شوہر پر ہی ہوگا۔اگر اس صورتِ حال کے بعد شوہرو بیوی والے معاملات کرے گا تو سخت گناہ میں ملوث ہوگا بَروز قیامت سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑےگا۔

    اس امر کی تفصیل یہ ہے کہ :

    مذکورہ صورت حال میں شوہر و بیوی کا طلاق کے ہونے یا نہ ہونے میں اِختلاف ہے ، شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں۔ لہٰذا یہاں عورت مدّعیہ اور مرد مُنکر ہے ، کیونکہ عورت طلاق کا دعوٰی کررہی ہے۔ لہذا اس پر گواہ دینا لازم ہے ، لیکن بیوی کے پاس کوئی گواہ موجود ہی نہیں تو لامحالہ یہاں مرد کی بات حلف کے ساتھ معتبر ہوگی۔ اور اس مقام پر شرعی طریقہ کے مطابق مرد کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے کسی بھی طلاق کے وقوع کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔

    باقی اگرعورت کو یقین کامل ہے کہ مرد نے اسکو تین طلا قیں دے دی ہیں، اور اس نے اپنے کانوں سے سنا تھا تو اس پر لازم و ضروری ہے کہ خودکودیانۃ (یعنی اللہ تعالی اور بندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )تین طلاقوں والی سمجھے اوراپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کرے۔ کیونکہ عورت کے اپنے بیان کےمطابق شوہر نے دو طلاقیں دیں پھر رجوع کرلیا اس کے بعد غصہ کی حالت میں تین بار لفظ طلاق بولا۔لہذا اب اگر وہ علیحدگی اختیار نہ کرے اور میاں و بیوی والے تعلقات قائم رکھے تو سخت گنہگار ہوگی اور اگر بیوی جھوٹ بول کر ان تین طلاقوں کا دعوی کر رہی ہے کسی مالی یا اور معاملات کی بنا پہ تو اس میں بیوی سخت گناہ گار ہوگی اللہ تعالٰی سے توبہ و استغفار کرے ۔

    دلائل و جزئیات:

    اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے"اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ ترجمہ کنز الایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔

    (البقرہ :۲۲۹)

    محض وعدہ اور ارادہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس بارے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی ا عظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اگر واقعی میں یہی الفاظ کہے تھے" کہ طلاق دے دوں گا" تو طلاق واقع نہ ہوئی کہ یہ طلاق دینا نہیں ہے بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے اور محض اس ارادہ یا و عددپہ طلاق نہیں ہوتی۔ " لان هذا الفظ متعين لاستقبال ولایقع به الطلاق کمافی الفتاوی الخیر یۃ و غیر ها"(فتاوی امجدیہ ،جلد:۲،صفحہ :۱۷۱،مکتبہ رضویہ آرام باغ )

    ایک اور مقام پہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں " عورت سے کہا تجھے طلاق دیتا ہوں یا کہا تو مطلقہ ہو جا تو طلاق ہو گئی مگر یہ لفظ کہ طلاق دیتا ہوں یا چھوڑتا ہوں اس کے یہ معنے لیے کہ طلاق دینا چاہتا ہوں یا چھوڑ نا چاہتا ہوں تو دیانتہً نہ ہوگی قضاء ہو جائیگی۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارادہ کے لیے ہے۔(بہار شریعت،جلد:۸،حصہ:ہشتم،صفحہ:،مکتبۃ المدینہ۱۱۹)

    جب طلاق کے معاملے میں شوہر اور بیوی کا اختلاف ہو جائے تو اس بارے سیدی اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں ’’حالتِ اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہِ شرعی اداکریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلّقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلاً مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اُس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی ۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اگر طلاق کے معاملے میں اختلاف ہو گیا عورت کے پاس گواہ نہیں تو مرد کے قول کا اعتبار ہے اس بارے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں ’’ وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزوج إلا أن تقيم المرأة البينة لأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط ولأنه ينكر وقوع الطلاق وزوال الملك والمرأة تدعيه۔ ترجمہ : "اور اگر شوہر اور بیوی کے درمیان شرط (طلاق)کے پائے پر اختلاف ہو جائے، تو شوہر کا قول معتبر ہوگا، مگر جب عورت کوئی گواہی پیش کرے؛ کیونکہ شوہر اصل یعنی شرط کے نہ ہونے کو پکڑے ہوئے ہے اور طلاق واقع ہونے اور نکاح کے ختم ہونے کا انکار کر رہا ہے، جبکہ عورت ان کا دعویٰ کر رہی ۔(الهدایة، باب الأيمان في الطلاق،ج:1،ص:245، دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)

    جبعورت کو یقین کامل ہے کہ مرد نے تین طلاقیں دی لیکن گواہ نہیں تو جیسے ممکن ہو شوہر سے خلع لے لےاس بارے وكذلك إن سمعت أنه ‌طلقها ‌ثلاثا ‌وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه۔ ترجمہ : "اور اسی طرح اگر کسی عورت نے سنا کہ اس کا شوہر اسے تین طلاقیں دے چکا ہے، اور شوہر اس کا انکار کرے اور قسم کھائےتو قاضی اس کے انکار پر اسے اس کے ساتھ رہنے دے، تو عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کے ذریعے شوہر سے علیحدگی اختیار کرے یا اس سے بھاگ جائے۔ ( الفتاوی الهندية، الباب الثاني في العمل بغالب الرأي،ج:5،ص:313،دار الفکر بیروت)

    ردالمحتارعلی الدرالمختار میں ہے’’وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ ۔ترجمہ:اور قاضی کی طرح ہے جب وہ خود (طلاق کے الفاظ )سنے یا عادل گواہ اس کو خبر دیں تو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے ۔اور فتوی اس پر ہے کہ عورت کے لئے مرد کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ،اورنہ ہی عورت اپنے آپ کو قتل کرے بلکہ مال کے ذریعے اس سے خلع حاصل کرے ۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار، کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق،ج:3،ص:251،دارالفکر بیروت )۔

    سیدی اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں’’اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے، لایکلّف اﷲنفسا الا وسعھا(اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے) ۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق ،جلد 12 ص 424،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    والله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 شعبان المعظم 1447ھ/18 فروری 2026