اقساط کا ناجائز معاہدہ
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 307
    حوالہ: 61

    سوال

    زبیر علی سومرو نے سکندر علی سومرو کوایک رکشہ 280000 میں ایک سال کی اقساط میں بیچا ۔ جسکی شرائط و تفصیل درج ذیل ہیں : 1: 50 ہزار ایڈوانس کی صورت میں دئے جائیں گے۔اور بقیہ رقم ایک سال میں اقساط کی صورت میں ادا کی جائے گی ۔ 2: ہر ماہ میں دس ہزارقسط کی صورت اداکرنے ہونگے ۔ اس طرح ایک سال میں ایڈوانس کے ساتھ 1 لاکھ 70 ہزار ادا ہوجائیں گے اور بقیہ 1 لاکھ 10 ہزار رہ جائیں گے جوکہ انہی 12 مہینوں میں کسی بھی طرح ادا کرنے ہونگے۔ 2: اگر کسی وجہ سے سکندر علی رکشہ واپس کرتا ہے تو اسکو ایڈوانس اور اداکردہ اقساط واپس نہیں دی جائیں گی۔ 3: رکشے کا کسی بھی قسم کا نقصان ہوتا ہے تو زبیر علی سومرو اس کا ذمہ دارنہیں ہوگا۔ مذکورہ شرائط پر فریقین راضی ہیں ،اور اسٹامپ پر دونوں پر دستخط ہیں ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ رکشہ 2 لاکھ 8ہزار کا خریدا تھا اور اب 2 لاکھ 80 ہزار میں قسطوں پر بیچ رہے ہیں یہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟؟؟

    سائل:زبیر علی سومرو: کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قسطوں میں اشیاء کی خرید و فروخت اگر حدود شرع میں ہو تو فی نفسہ جائز ہے۔ لیکن مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ اقساط میں بیع کرنا ناجائز ہے ، کیونکہ اس میں ایک شرط یہ عائد کی جارہی ہے کہ اگر سکندر علی کسی وجہ سے رکشہ واپس کرتا ہے تو اسکوایڈوانس اور اداکردہ اقساط واپس نہیں دی جائیں گی،اور دوسری خرابی یہ کہ یہاں قسط کی رقم متعین نہیں ہے کیونکہ ایک سال میں قسطوں کی مد میں دس ہزارہرماہ کے علاوہ 1 لاکھ 10 ہزار مزید بھی اسی سال ادا کرنے ہونگےلیکن یہ 1 لاکھ 10 ہزار کب اور کتنے کتنے ادا کرنے ہونگے ؟؟یہ یہاں مجہول ہے ۔لہذا ان شرائط کے ساتھ کوئی چیز خریدنا اور بیچنا دونوں ہی شرعاناجائز ہیں۔ کیونکہ بیع بالتقسیط (قسطوں پر خرید و فروخت) کے جائز ہونے کی چند شرائط ہیں : 1:۔ قسط کی رقم اور مدت متعین ہو ۔ 2: قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی طرح کا کوئی جرمانہ یا قسط سے اضافی رقم دینے کی شرط نہ ہو۔ 3: جس چیز کو قسطوں پر فروخت کررہے ہیں وہ چیز فروکت کنندہ کی ملک اور اسکے قبضے میں ہو۔ 4: اگر کسی وجہ سے بیع ختم کرنا پڑے تو لازم ہے کہ مشتری نے جس قدر رقم ایڈوانس یا اقساط کی صورت میں ادا کی اسکو واپس کی جائے، البتہ اگر مشتری کی ملک میں مبیع( جس چیز کو بیچا ) کے اندر کوئی ایسا عیب یا خرابی پیدا ہوگئی جو عقد کے وقت نہ تھی تو اس عیب کی بمقدار مشتری سے ضمان لیا جاسکتا ہے ۔

    مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے : الْبَيْعُ مَعَ تَأْجِيلِ الثَّمَنِ وَتَقْسِيطِهِ صَحِيحٌ يَلْزَمُ أَنْ تَكُونَ الْمُدَّةُ مَعْلُومَةً فِي الْبَيْعِ بِالتَّأْجِيلِ وَالتَّقْسِيطِ" ترجمہ: قسطوں میں بیع صحیح ہے ، اس بیع میں لازم ہے کہ قسط اور اسکی ادائیگی کی مدت معلوم ہو۔( مجلة الأحكام العدلية،الْمَادَّةُ 245،الْمَادَّةُ 246 جلد 1 ص 50)

    بدائع الصنائع میں ہے : لامساواة بين النقد والنسيئة لان العين خير من الدين والمعجّل اکثر قيمة من الموجل .ترجمہ: نقد اور ادھار برابر نہیں، کیونکہ معین و مقرر چیز قرض سے بہتر ہے اور فوراََ قیمت اداکرنا ، کچھ عرصہ بعد کی اداکرنے سے بہتر ہے۔( بدائع الصنائع فصل فی شرائط الصحۃ فی البیوع جلد5 ص187) .

    اسی میں ہے: لواشتری شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتی يبيّن لان للاجل شبهة المبيع وإن لم يکن مبيعا حقيقة لانه مرغوب فيه الاتری ان الثمن قد يزاد لمکان الاجل.ترجمہ:اگر ایک چیز قرض پر خریدی، اسے فائدہ لے کر، اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس کی وضاحت نہ کر دے کیونکہ مدت، مبیع (بکاؤ مال)کے مشابہ ہے، گو حقیقت میں مبیع نہیں، کیونکہ مدت کی رعایت بھی رغبت کا باعث ہوتی ہے، دیکھتے نہیں کہ مدت مقررہ کی وجہ سے کبھی قیمت بڑھ جاتی ہے۔( بدائع الصنائع ،فصل فی بیان ما یجب بیانہ فی المرابحۃ ج5 ص 224)

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد2 ص328 میں لکھتے ہیں: '' مختلف افراد،کمپنیاں اور ادارے نئی الیکٹرانک اشیاء کی اقساط پر خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں ، فریقین میں قیمت جو ظاہر ہے رائج الوقت مارکیٹ ویلیو سے زیادہ ہوتی ہے ،طے ہوجاتی ہے اور یہ بھی طے ہوجاتا ہے کہ ماہانہ اقساط اور ادائیگی کتنی مدت میں ہوگی اور مسلم فیہ یا مبیع خریدار کے حوالے کرکے اس کی ملک میں دے دیا جاتا ہے تو یہ عقد شرعا صحیح ہے ، بشرطیکہ اس میں یہ شرط شامل نہ ہو کہ اگر خدا نخواستہ مقررہ مدت میں اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی اور ادائیگی کی اضافی مدت کے عوض قیمت میں کسی خاص شرح سے کوئی اضافہ ہوگا ۔ اور اگر تاخیر مدت کی عوض قیمت میں اضا فہ کردیا تو یہ سود ہے اور حرام ہے ۔ فی نفسہ حدود شرع کے اندر اقساط کی بیع جائز ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجواب صحــــــیـــــــح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:03 ذوالحج 1440 ھ/05 اگست2019 ء

      اقساط کا ناجائز معاہدہ - Islamic Fatwa | Darul Ifta Saylani | Darul Ifta Saylani