وراثت کےرقم کی تقسیم

    wirasat ki raqam ki taqseem

    تاریخ: 16 اپریل، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1142

    سوال

    میرے والد صاحب کا مکان جوکہ پگڑی پر تھا اس کو میں نے 2019 میں تمام ورثاء کی اجازت سے 8 لاکھ کا بیچ دیا، میری چار بہنیں اور والدہ موجود ہیں جبکہ میں ایک اکیلا بھائی ہوں ۔ آپ سے گزارش ہے کہ رقم کی تقسیم کرکے رہنمائی فرمائیں کہ کس کے حصے میں کتنی رقم آئے گی۔

    سائل:فیضان : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولاً جان لیں کہ پگڑی کی خرید و فروخت کے بارے میں موجودہ دور کے علماءکے دو گروہ ہیں، بعض عدمِ جواز کے قائل ہیں اور بعض جواز کے۔ عدمِ جواز کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ پگڑی ''حقِ قبضہ'' کی بیع کا نام ہے اور ''حق ''مال نہیں ہے ، جبکہ بیع کے لئے مال ہونا لازم ہےلہذا اس دکان یا مکان کے بجائے فقط اس پر حقِ قبضہ کی بیع ہونے کی بناء پر ناجائز ہے ۔

    جبکہ دیگر مفتیان بلکہ خود ہمارے نزدیک اسکی بیع جائز ہے ،(جس کی تفصیل ہمارے دیگر فتاوٰی میں موجود ہے۔) لہذا جس نے بھی دوکان یا مکان پگڑی پر خریدا وہ اسکا مالک ہوجائے گا اور بعد از وصال وہ مکان اسکے ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔لہذا یہاں بھی اس مکان کی قیمت ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    نوٹ: اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے ۔