سوال
میرے والدین نے مجھے ایک مکان دیا تھا ہم اس مکان میں 28 سال رہے ۔ پھر میرے شوہر نے وہ مکان بیچ دیا اور کہا کہ زمین تمہارے نام سے لونگا۔پھر میرا 5 تولہ سونا بھی بیچ دیا اور کہا کہ ابھی ضرورت ہے بعد میں بنادونگا۔ لیکن زمین لیتے ہوئے اپنے نام پر لی اور پھر اس پر تعمیرات کیں ۔ ان کے بقول زمین میری ہےاورتعمیرات انکی ،اب ہم جدا ہونا چاہ رہے ہیں تو اس صورت میں زمین اور تعمیرات کی تقسیم کا کیا حکمِ شرع ہوگا۔کس طرح تقسم ہوگی۔
سائلہ:فرزانہ :کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں جبکہ زمین بیوی کی ہے اور اس پرشوہر نے باجازتِ بیوی تعمیرات کیں،تو تعمیرات کی اجازت دینا عاریت کے طور پر ہے۔جس کا حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے زمین اور عمارت دونوں کی الگ الگ ویلیو لگوائی جائے بعد ازاں باہمی رضامندی سے یا تو بیوی تعمیرات کی قیمت شوہر کو دےدے اور زمین و عمارت دونوں کی مالک ہوجائے یا پھر شوہر زمین کی قیمت بیوی کو دے کر کل اپنی ملک کرلے۔
نیز جو سونا انہوں نے بیچا اسکا لوٹانا بھی شوہر پر لازم ہے۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَلَوْ أَعَارَ أَرْضًا لِلْبِنَاءِ وَالْغَرْسِ صَحَّ) لِلْعِلْمِ بِالْمَنْفَعَةِ (وَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ مَتَى شَاءَ وَيُكَلِّفُهُ قَلْعُهُمَا إلَّا إذَا كَانَ فِيهِ مَضَرَّةٌ بِالْأَرْضِ فَيُتْرَكَانِ بِالْقِيمَةِ مَقْلُوعَيْنِ) لِئَلَّا تَتْلَفَ أَرْضُهُ :ترجمہ:اگر زمین عمارت بنانے کے لیےیا درخت لگانے کے لیے عاریت پر دی تو ایسا کرنا درست ہے کیونکہ منفعت معلوم ہےاور مالک جب چاہے واپس لے سکتا ہے، اور (عمارت اور زمین )کو اکھاڑ نے کا حکم دیا جائے لیکن اگر اکھاڑنے میں زمین کا نقصا ن ہو تو ملبے اور اکھاڑے گئے درختوں کی قیمت دیکر (عمارت اور درخت )چھو ڑ دیا جائے گا،تاکہ زمین تباہ نہ ہوجائے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رمضان المبارک 1442 ھ/27 اپریل 2021 ء