فتویٰ
کیا فرمات ہیں علمائ دین اس مسئلہ ک بار میں کہ ایک شخص کی ملکیت میں تقریباً 47 لاکھ روپ ہیں اس کی یک بیوی دو بیٹ اور دو بیٹیاں ہیں اس کی تمام اولاد شادی شدہ ہ اور اپن اپن گھروں میں رہتی ہ 1 کیا اس کی اولاد میں س کوئی اس کی زندگی میں اپن حص کا مطالبہ کر سکتا ہ یا نہیں 2 اگر اس شخص ک دنیا س رخصت ہون ک بعد یہی ترکہ تقسیم کیا جائ تو شرعی طور پر کس طرح اور کن حصوں میں تقسیم ہوگا 3 کیا اس کی بیوی اپنا شرعی حصہ کسی ایک بیٹ کو اس کی باقی اولاد میں س تنگ حالی کی بنا پر اپنی رضامندی س د سکتی ہ یا نہیں برائ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں
تاریخ: 2 فروری، 2026
مشاہدات: 3
حوالہ: 723
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص کی ملکیت میں تقریباً 47 لاکھ روپے ہیں۔ اس کی یک بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اس کی تمام اولاد شادی شدہ ہے اور اپنے اپنے گھروں میں رہتی ہے۔
1. کیا اس کی اولاد میں سے کوئی اس کی زندگی میں اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟
2. اگر اس شخص کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہی ترکہ تقسیم کیا جائے تو شرعی طور پر کس طرح اور کن حصوں میں تقسیم ہوگا؟
3. کیا اس کی بیوی اپنا شرعی حصہ کسی ایک بیٹے کو (اس کی باقی اولاد میں سے تنگ حالی کی بنا پر) اپنی رضامندی سے دے سکتی ہے یا نہیں؟
برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1.جب تک والدین حیات ہیں اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ والدین کی جائیداد میں سے حصے کا تقاضہ کریں کہ جب تک وہ خود بقید حیات ہیں ان کی ملکیت میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ۔
2.اس وقت موجود زندہ ورثاء کی تعداد کے اعتبار سے ترکے کی شرعی تقسیم کی جائے گی ۔
3.وراثت سے اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد کسی کو بھی دے سکتی البتہ وراثت سے دست برداری نہیں ہوسکتی ۔