Tasbihat-o-Durood Aur Farz Ki Teesri Rakat Mein Qiraat Ka Hukm
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! ایک شخص (زید) کا معمول یہ ہے کہ جب وہ چار رکعت والی فرض نماز ادا کرتا ہے تو آخری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھتا، بلکہ قیام میں صرف تین مرتبہ "سبحان اللہ" کہہ کر رکوع میں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات فرض، سنت اور نفل نمازوں میں رکوع اور سجدہ کی تسبیحات بھی صرف ایک ایک مرتبہ پڑھتا ہے، اور آخری قعدہ میں درودِ ابراہیمی مکمل پڑھنے کے بجائے مختصر درود پڑھ کر سلام پھیر دیتا ہے۔ بکر کا کہنا ہے کہ اس قسم کی رعایت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ذمہ بہت زیادہ قضا نمازیں ہوں، جبکہ زید کے لیے اس طرح نماز پڑھنا درست نہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں: چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ چھوڑ کر صرف "سبحان اللہ" کہہ کر رکوع میں چلے جانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ رکوع اور سجدہ میں صرف ایک مرتبہ تسبیح پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ آخری قعدہ میں مختصر درود پڑھ کر سلام پھیر دینا جائز ہے یا نہیں؟ زید کی اس طریقے سے ادا کی گئی نمازیں صحیح شمار ہوں گی یا ان کا اعادہ (دوبارہ پڑھنا) لازم ہوگا؟ اگر اس عمل میں شرعی خرابی پائی جاتی ہو تو کیا زید پر توبہ و استغفار لازم ہے؟ قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً یہ انداز دارالافتاء کو بھیجنے کے لیے مناسب، واضح اور باادب ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فرائض کی آخری دو رکعتوں میں امام اور منفرد، دونوں کے لیے افضل یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ پڑھیں۔ البتہ اگر کسی نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی اور اس کی جگہ تسبیحات پڑھ لیں، یا تین مرتبہ "سبحان اللہ" کہنے کی مقدار خاموش کھڑا رہا، تو بھی نماز درست ہو جائے گی اور سجدۂ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔ تاہم بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں۔
جہاں تک تسبیح کے مسئلے کا تعلق ہے تومفتی بہ قول کے مطابق رکوع و سجود کی تسبیحات تین تین مرتبہ پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کا تارک، یا تین سے کم مرتبہ پڑھنے والا، مرتکبِ اساءت ہوگا۔ یعنی سنتِ مؤکدہ کی ادائیگی موجبِ ثواب ہے، جبکہ اس کی عادتاً ترک کرنے والا گناہ گار ہوگا، اور کبھی کبھار ترک کرنے کی صورت میں مستحقِ ملامت و عتاب ہوگا۔(البتہ بعض فقہاء نے ان تسبیحات کے ترک یا تین سے کم پڑھنے کو مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے، جس کا مقابل سنتِ غیر مؤکدہ ہے، اور اس کا مرتکب گناہ گار نہیں ہوتا)۔یاد ر کھیں کہ ترکِ سنت کی وجہ سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ واجبُ الإعادہ، البتہ وہ خلافِ سنت ہے اور اس کا اعادہ مستحب ہوتا ہے۔
اسی طرح افضل یہ ہے کہ نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی درود کی تعلیم ارشاد فرمائی ہے۔ البتہ درودِ ابراہیمی کے علاوہ کوئی دوسرا درود شریف پڑھنا بھی جائز ہے۔ لہٰذا قعدۂ اخیرہ میں التحیات کے بعد درودِ ابراہیمی کے بجائےدوسرا درود پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
لہٰذا زید کی ادا کی گئی نماز صحیح شمار ہوگی، اعادے کی ضرورت نہیں۔
دلائل و جزئیات:
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں نمازی کو اختیار ہے کہ سورۂ فاتحہ پڑھے یا تین مرتبہ تسبیح پڑھے۔اس بارے میں در مختار میں مذکور ہے :(وَاكْتَفَى) الْمُفْتَرِضُ (فِيمَا بَعْدَ الْأُولَيَيْنِ بِالْفَاتِحَةِ) فَإِنَّهَا سُنَّةٌ عَلَى الظَّاهِرِ، وَلَوْ زَادَ لَا بَأْسَ بِهِ (وَهُوَ مُخَيَّرٌ بَيْنَ قِرَاءَةِ) الْفَاتِحَةِ وَصَحَّحَ الْعَيْنِيُّ وُجُوبَهَا (وَتَسْبِيحٍ ثَلَاثًا) وَسُكُوتِ قَدْرِهَا، وَفِي النِّهَايَةِ قَدْرُ تَسْبِيحَةٍ، فَلَا يَكُونُ مُسِيئًا بِالسُّكُوتِ (عَلَى الْمَذْهَبِ) لِثُبُوتِ التَّخْيِيرِترجمہ:فرض نماز پڑھنے والا) پہلی دو رکعتوں کے بعد صرف سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرے، کیونکہ ظاہرِ مذہب کے مطابق (تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ پڑھنا) سنت ہے۔ البتہ اگر وہ (فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی) زیادہ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں۔اور اسے اختیار ہے کہ (تیسری اور چوتھی رکعت میں) سورۂ فاتحہ پڑھے اگرچہ علامہ عینی نے اس کے واجب ہونے کو صحیح قرار دیا ہے یا تین مرتبہ تسبیح پڑھے، یا اتنی ہی مقدار خاموش رہے۔اور "النہایہ" میں ہے کہ ایک تسبیح کی مقدار خاموش رہنا بھی کافی ہے، لہٰذا مذہب کے مطابق خاموش رہنے کی صورت میں وہ گناہگار یا برا کرنے والا شمار نہیں ہوگا، کیونکہ اس بارے میں اختیار (تخییر) ثابت ہے۔( در مختار:کتاب الصلاۃ،جلد:1،ص:511 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
درودِ ابراہیمی پڑھنے کے افضل ہونے کے بارے میں حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار میں ہے:بان یذکر الصلاۃ و البرکۃ و الرحمۃ مع زیاۃ السیادۃ ندباً و تکرار انک حمید مجید و فی القھستانی عن الجلابی: یصلی بما یحضرہ، انتھی، و اتباع المسنون اولیترجمہ: نمازی درود (اللّٰهم صل على محمد)، برکت (اللّٰهم بارک على محمد) اور رحمت کے ساتھ سیادت (سیدنا) کو بھی استحبابی طور پر ذکر کرے اور انک حمید مجید کی تکرار کرے۔ قہستانی میں الجلابی کے حوالے سے یہ منقول ہے کہ نمازی کوجو درود یاد ہو وہ پڑھے، الخ البتہ مسنون درود (درودِ ابراہیمی) کی پیروی بہتر ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، جلد 1، صفحہ 373، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں نماز کی سنتوں کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: بعد تشہد دوسرے قعدہ میں دُرود شریف پڑھنا (سنت ہے) اور افضل وہ دُرود ہے، جو پہلے مذکور ہوا (یعنی درودِ ابراہیمی)۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 531، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے رکوع و سجود کی تسبیحات کو سنت موکدہ ہونے کا قول فرمایا ہے جیساکہ فتاوی شامی میں ہے :وَالْحَاصِلُ أَنَّ فِي تَثْلِيثِ التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثَلَاثَةَ أَقْوَالٍ عِنْدَنَا،أَرْجَحُهَا مِنْ حَيْثُ الدَّلِيلُ الْوُجُوبُ تَخْرِيجًا عَلَى الْقَوَاعِدِ الْمَذْهَبِيَّةِ، فَيَنْبَغِي اعْتِمَادُهُ كَمَا اعْتَمَدَ ابْنُ الْهُمَامِ وَمَنْ تَبِعَهُ رِوَايَةَ وُجُوبِ الْقَوْمَةِ وَالْجِلْسَةِ وَالطُّمَأْنِينَةِ فِيهِمَا كَمَا مَرَّ. وَأَمَّا مِنْ حَيْثُ الرِّوَايَةُ فَالْأَرْجَحُ السُّنِّيَّةُ لِأَنَّهَا الْمُصَرَّحُ بِهَا فِي مَشَاهِيرِ الْكُتُبِ، وَصَرَّحُوا بِأَنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يُنْقِصَ عَنْ الثَّلَاثِ وَأَنَّ الزِّيَادَةَ مُسْتَحَبَّةٌ بَعْدَ أَنْ يَخْتِمَ عَلَى وِتْرِ خَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ أَوْ تِسْعٍ مَا لَمْ يَكُنْ إمَامًا فَلَا يُطَوِّلُ وَقَدَّمْنَا فِي سُنَنِ الصَّلَاةِ عَنْ أُصُولِ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ حُكْمَ السُّنَّةِ أَنْ يُنْدَبَ إلَى تَحْصِيلِهَا وَيُلَامَ عَلَى تَرْكِهَا مَعَ حُصُولِ إثْمٍ يَسِيرٍ وَهَذَا يُفِيدُ أَنَّ كَرَاهَةَ تَرْكِهَا فَوْقَ التَّنْزِيهِ وَتَحْتَ الْمَكْرُوهِ تَحْرِيمًا. وَبِهَذَا يَضْعُفُ قَوْلُ الْبَحْرِ إنَّ الْكَرَاهَةَ هُنَا لِلتَّنْزِيهِ لِأَنَّهُ مُسْتَحَبٌّ وَإِنْ تَبِعَهُ الشَّارِحُ وَغَيْرُهُ فَتَدَبَّرْ. ترجمہ:حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں رکوع اور سجدے میں تین مرتبہ تسبیح پڑھنے کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ دلیل کے اعتبار سے ان میں زیادہ راجح قول یہ ہے کہ یہ واجب ہے، کیونکہ مذہب کے اصول و قواعد پر اسی کا تخریج ہوتا ہے۔ لہٰذا اسی کو اختیار کرنا مناسب ہے، جیسا کہ ابن الہمام اور ان کے متبعین نے قومہ ، جلسہ اور ان دونوں میں اطمینان کے واجب ہونے والی روایت کو اختیار کیا ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔لیکن روایت کے اعتبار سے زیادہ راجح یہ ہے کہ تین مرتبہ تسبیح پڑھنا سنت ہے، کیونکہ مشہور و معتبر کتابوں میں اسی کی صراحت موجود ہے۔ فقہاء نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تین مرتبہ سے کم تسبیح پڑھنا مکروہ ہے، اور تین سے زیادہ پڑھنا مستحب ہے، بشرطیکہ طاق عدد (پانچ، سات یا نو) پر ختم کیا جائے، البتہ اگر آدمی امام ہو تو اتنی طوالت نہ کرے تاکہ مقتدیوں پر مشقت نہ ہو۔ہم پہلے "سننِ نماز" کے بیان میں اصولِ ابی الیسر کے حوالے سے ذکر کر چکے ہیں کہ سنت کا حکم یہ ہے کہ اس کے حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اور اس کے ترک پر ملامت کی جاتی ہے، نیز اس کے چھوڑنے سے ہلکا سا گناہ بھی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو ترک کرنے کی کراہت صرف کراہتِ تنزیہی سے بڑھ کر ہے، لیکن کراہتِ تحریمی سے کم درجے کی ہے۔اسی وجہ سے البحر الرائق کے مصنف کا یہ قول کمزور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کراہت سے مراد صرف کراہتِ تنزیہی ہے، اس بنیاد پر کہ یہ عمل محض مستحب ہے، اگرچہ شارح اور بعض دوسرے علماء نے بھی ان کی پیروی کی ہے۔ پس اس نکتے پر غور کرنا چاہیے۔(رد المحتار شرح الدر المختار ، كتاب الصلوة، باب صفة الصلوة، جلد:2، ص:241)
اس عبارت : فالأرجح السنية لأنها المصرح بها کے تحت امام اہل سنت امام احمد رضا خان حفی، متوفی 1340ھ لکھتے ہیں: المشهور المعتمد في المذهب ترجمہ: راجح ترین قول سنیت کا ہے ، بلکہ یہی مشہور و معتمد مذہب ہے (جد الممتار، كتاب الصلاة، 199/3، مطبوعه : مكتبة المدينة)
حضور شارح بخاری فقیہ اعظم ہند علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، متوفی: 1421ھ سے سوال ہوا : رکوع و سجدے میں تسبیحات پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ ؟آپ علیہ الرحمہ نے جواباً لکھا: سنت مؤکدہ ہے اور عادة تارک مستحق عتاب –( ملخصا فتاوی جامعہ اشرفیہ ، 5 / 414، مجلس برکات، جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور ) واللہ اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
تاریخ اجراء :1447 ھ/24جون 2026ء