کنونشنل(سودی) بینک کی نوکری اور آمدنی کا حکم
    تاریخ: 24 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 67
    حوالہ: 27

    سوال

    میں دس سال سے بینک میں ملازمت کررہا ہوں، میں اکاؤنٹ اوپننگ آفیسر ہوں اور سود کی ڈیلنگ بھی کرتا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ بینک کی نوکری جائز ہے یا نہیں؟آمدنی حلال ہے یا نہیں؟میں اسکو خیر آباد کرنا چاہتا ہوں برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ سائل:ایم اسلم انصاری :کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہے، جیسے منیجر ،کیشئر، اکاؤنٹ اوپننگ آفیسراور لون آفیسر وغیرہ کی ملازمت، ناجائز و حرام ہے، ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے،لہذا اب تک جتنی رقم تنخواہ کی مد میں لی ہے واجب ہے کہ کسی فقیرِ شرعی پر بلا نیتِ ثواب تصدق کرے۔اور ضروری ہے کہ دوسری جگہ ملازمت تلاش کرے،جب تک دوسری جگہ ملازمت نہ مل جائے اس ملازمت کو دل میں برا اور مکروہ جانتے ہوئےجاری رکھ سکتا ہے۔یونہی اگر اسی پوسٹ پر ایسے اسلامی بینک میں جہاں اسلامی اصولوں کے تحت کام ہوتا ہے ملازمت کر سکتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کریم کا ارشاد ہے:وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ ترجمہ:اﷲ نے تجارت (سوداگری)کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، 2 : 275) دوسری جگہ ارشادہے :یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔(الْبَقَرَة ، 2 : 278) صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766) یوں ہی سنن ابن ماجہ، میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرَائِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا "ترجمہ: حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ شبِ معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سےگزرا، جن کے پیٹ کمروں کی طرح بڑے بڑےتھے، جن میں سانپ پیٹوں کے باہر سے دیکھے جا رہے تھے۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا:”یہ کون لوگ ہیں؟“انہوں نے عرض کی:”یہ سود خور ہیں۔(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، الحدیث:2273) حدیث میں ہے:عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ ۔ ترجمہ:حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے اور سودی معاملات تحریر کرنےوالے اور سودی معاملات کا گواہ بننے والوں پرلعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب لوگ ( گناہ میں)برابر ہیں۔(صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ ،حدیث نمبر 1598، مسند أبي يعلى،حدیث نمبر :1849) اسی طرح جو رقم ریٹائرمنٹ پر ملے گی وہ مکمل رقم بھی ناجائز و حرام ہے اسکا بھی یہی حکم ہے کہ کسی فقیرِ شرعی پر بلا نیتِ ثواب تصدق کرے۔اسکو کسی بھی کاروبار یا اپنے کسی ذاتی استعمال میں لانا ناجائز و حرام ہے۔ تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے :لَا تَصِحُّ الْإِجَارَةُ لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي۔ترجمہ:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ گانا گانے ،نوحہ کرنے اور لھوو لعب کے کاموں پر اجارہ کرنا ۔(المرجع السابق، کتاب الاجارۃ ،مطلب الاجارۃ علی المعاصی،ج: 6،ص55، طبع : دارالفکر ) ہدایہ شرح بدایہ میں ہے: لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ ترجمہ:کیونکہ یہ معصیت(گناہ) پر اجارہ ہے اور عقدِ معصیت کے سبب اجارہ کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب الاجار ۃ الفاسدۃ ، جلد 3 ص 238۔ بیروت) یوں ہی البحر الرائق میں ہے:لِأَنَّ الْمَعْصِيَةَ لَا يُتَصَوَّرُ اسْتِحْقَاقُهَا بِالْعَقْدِ فَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْأُجْرَةُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَحَقَّ عَلَيْهِ۔ترجمہ: کیونکہ عقدِ معصیت کے سبب اجارہ کا استحقاق متصور نہیں ہوتا، توبغیر استحقاق کے اسکی اجرت بھی لازم نہ ہوگی۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق،باب اخذ اجرۃ الحمام، جلد8 ص 23) سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:وہ بنک حرام قطعی ہے ، اور یہ قواعد سب شیطانی ہیں اوراس کا ممبر بننا حرام ہے ، حدیث میں ہے :من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام۔ ترجمہ:جو دانستہ ظلم پر اعانت کرے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔ اور شک نہیں کہ سود لینا ظلم شدید ہے اور اس کا ممبر بننا اور اسکے ان سود خوروں کو روپیہ دینا اس ظلم شدید پر اعانت ہےاور معین مثل فاعل ہے ولہٰذاکاتب پر بھی لعنت فرمائی ،تو اس کارکن بننے والا اور اس کےلئے روپیہ دینے والا ضرور کاتب سے بدرجہا زائد لعنت کا مستحق ہوگا اور امام مذکور کا اس پر اصرار حرام پر اصرار اور اعلانیہ فسق واستکبار ہے ۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الربو، جلد 17 ص 342، 343،ملخصا، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب الجـــــواب صحــــیـح ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کتبـــــــــــــــــــــــــــہ محمد زوہیب رضا قادری تاریخ اجراء 22 رجب المرجب 1442 ھ/09 مارچ 2021