ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنا کیسا؟
تاریخ: 23 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 54
حوالہ: 24
سوال
ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنا کیسا؟ بعض کوتاہیوں پر تین دن، ایک ہفتہ یا ایک ماہ تک جبری رخصت پر بھیجنے کا شرعی حکم عنایت فرمائیں؟
سائل:عبداللہ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جبری رخصت، ملازمین پر تاوانِ مالی(مالی جرمانہ )کی ایک صورت ہے ، جسے شرعی اصطلاح میں ضمان بالمال کہا جاتا ہے اور مذہبِ احناف میں ضمان بالمال جائز نہیں ہے ، لہٰذا ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنا از روئے شرع ناجائز ہے۔
کیونکہ جب کوئی اجیر کام کرنے پر راضی و قادر ہے تو اسے زبردستی رخصت پر بھیجنا اور کام نہ لینا،اسے مشاہرہ سے محروم کرنا ہے ، جو بلاشبہ اس اجیر کا مالی نقصان ہے یعنی اس پر تاوانِ مالی کی ایک صورت ہے ۔
تاوانِ مالی عائد کرنا ناجائز ہے ،جیساکہ الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے: (لَا بِأَخْذِ مَالٍ فِي الْمَذْهَبِ) بَحْرٌ.ترجمہ:صحیح مذہب میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے۔( الدرالمختار مع رد المحتار باب التعزیر جلد 4 ص 68)
پھر البحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ۔ترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ صحیح مذہب میں مالی جرمانہ سے سزا دینا جائز نہیں ہے۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)
اسی میں ہے: فی شرح الآثار التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ۔ ترجمہ:شرح الآثار میں ہے کہ تعزیر بالمال ابتدائے اسلام میں تھی پھر اس کو منسوخ کردیا گیا۔(البحر الرائق شرح کنزالدقائق فصل فی التعزیرجلد 5 ص44)
حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق میں ہے:العمل بالمنسوخ حرام۔ترجمہ:منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے۔(حاشیہ شلبی مع تبیین الحقائق، جلد 4ص189)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ جلد 21 ص 273)
اجیروں کی کوتاہیوں پر ا س کے بجائے کوئی جائز طریقہ اختیار کیا جائے، مثلا اجیروں کی اجارہ کے علاوہ دیگر مراعات یا سالانہ بونسز وغیرہ میں کٹوٹی کی جاسکتی ہے۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی اختر المدنی
کتبہ: محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1443 ھ/29 ستمبر 2021 ء