ملازم کو کمپنی کی طرف سے دی گئی گاڑی آگے کرایہ پر دینا کیسا
تاریخ: 24 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 62
حوالہ: 26
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کمپنی نے کسی ملازم کو استعمال کے لیے گاڑی دی ہے جو کہ کمپنی کی ملکیت میں ہی ہے توکیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ اسکو آگے کرایہ پر دے دے یا آگے کرائے پر چلائے؟
سائل : عبدالعزیز :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کمپنی ملازم کو جوگاڑی استعمال کے لیےدیتی ہے وہ بطور عاریت دیتی ہے ،کہ جب تک وہ کمپنی کا ملازم ہے تب تک وہ خود اس گاڑی سے بلا عوض نفع اٹھا سکتا ہے،اسکو اصطلاح شرع میں اعارہ یا عاریت کہتے ہیں۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: الْعَارِيَّةِ (هِيَ) شَرْعًا (تَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ مَجَّانًا) ترجمہ:دوسرے شخص کو کسی چیز کی منفعت کا بغیر کسی عوض کےمالک بنا دینے کو شریعت میں عاریت کہتے ہیں۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب العاریۃ جلد 5ص676)
اورجو چیز بطور عاریت حاصل ہو اس کو آگے کرائے پر دینا جائز نہیں ہے،اسی میں ہے :(وَلَا تُؤَجَّرُ وَلَا تُرْهَنُ) لِأَنَّ الشَّيْءَ لَا يَتَضَمَّنُ مَا فَوْقَهُ۔ترجمہ:اور شئے مستعار (یعنی جو چیز بطور عاریت دی گئی ہے)کو اجارہ پر نہیں دیا جا سکتاہے ، اور نہ ہی بطور رہن رکھوایا جا سکتا ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز خود سے مافوق چیزکی ضامن نہیں ہو سکتی۔(المرجع السابق)
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:وليس للمستعير أن يؤاجر ما استعاره؛ فإن آجره فعطب ضمن لأن الإعارة دون الإجارة والشيء لا يتضمن ما هو فوقه۔ترجمہ: مستعیر (جس کو چیز بطور عاریت دی ہے)کے لیے جائز نہیں کہ جو چیز اسکو بطور عاریت کے دی ہے اسکو کرائے پر دےاگر کرائے پر دی اور وہ شئے مستعار (یعنی جو چیز بطور عاریت دی گئی ہے)ہلاک (ضائع) ہوگئی تو اس کا ضامن ہوگا کیونکہ اعارہ ،اجارہ سے کم درجہ کا ہے اور کوئی بھی چیز خود سے مافوق چیزکی ضامن نہیں ہو سکتی۔( شرح بدایۃ المبتدی کتاب العاریہ جلد 3ص219)
خلاصہ یہ ہوا کہ کمپنی کی دی ہوئی گاڑی آگے کرائے پر دینا جائز نہیں ہے ،اگر دی اور ہلاک ہوگئی تو اس پر ضمان لازم ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء 03 ربیع الاول 1441 ھ/09 نومبر2019 ء