فتویٰ

    مسئلہ برائ رشتہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مسئلہ دراصل یہ ہ کہ میری بڑی بیٹی س جو نواسی ہ اس کا رشتہ آیا ہ میری چھوٹی بیٹی ک شوہر جو میرا داماد ہ اس ک بھتیج کا الحمدللہ لڑکا حافظ القران ہ اور اہل سنت مکاتب فکر دیوبند مسلک س تعلق رکھتا ہ اور میری نواسی اور بڑی بیٹی اہل سنت مکاتب فکر بریلوی مسلک س تعلق رکھتی ہ دونوں گھرانوں میں کوئی شدت پسندی نہیں غم اور خوشی اور بیماری میں برابر آنا جانا ہ آپس میں تعلقات بہتر ہ اور بہت اچھ س ہ اب دونوں بہنیں آپس میں بچوں ک رشت ک لی رضامند تو ہ ہماری بھی یہی رائ ہ اس رشت س متعلق اپنی رضامندی کی اور لڑکا اور لڑکی بھی اس رشت س خوش ہ اور شادی کرنا چاہت ہیں مگر چند رشتہ دار ہمیں یہ کہت ہیں ہمار مسلک اہل سنت بریلوی ک مطابق یہ رشتہ نہیں ہو سکتا کہ لڑکا دیوبند اور لڑکی بریلوی ہ تو یہ رشتہ نہیں ہو سکتا اور اگر یہ رشتہ ہو گیا تو ہم گناہ ک زمر میں آجائیں گ آپ مفتی صاحب س میری درخواست ہ کہ میری رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح ک رشت ک بار میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہ اور قران اور حدیث کی روشنی میں کیا یہ رشتہ ہو سکتا ہ کیا یہ رشتہ کر دین س ہم کہیں ب دین تو نہیں ہو جائیں گ ہماری رہنمائی فرمائ قران اور حدیث کی روشنی میں اور فتوی عنایت فرمائ اپ جناب کی بڑی مہربانی ہوگی

    تاریخ: 13 جنوری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 578

    سوال

    . *مسئلہ برائے رشتہ *السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ* مسئلہ دراصل یہ ہے کہ میری بڑی بیٹی سے جو نواسی ہے اس کا رشتہ آیا ہے میری چھوٹی بیٹی کے شوہر جو میرا داماد ہے اس کے بھتیجے کا الحمدللہ لڑکا حافظ القران ہے اور اہل سنت مکاتب فکر دیوبند مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور میری نواسی اور بڑی بیٹی اہل سنت مکاتب فکر بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہے دونوں گھرانوں میں کوئی شدت پسندی نہیں غم اور خوشی اور بیماری میں برابر آنا جانا ہے آپس میں تعلقات بہتر ہے اور بہت اچھے سے ہے اب دونوں بہنیں آپس میں بچوں کے رشتے کے لیے رضامند تو ہے ہماری بھی یہی رائے ہے اس رشتے سے متعلق اپنی رضامندی کی اور لڑکا اور لڑکی بھی اس رشتے سے خوش ہے اور شادی کرنا چاہتے ہیں مگر چند رشتہ دار ہمیں یہ کہتے ہیں ہمارے مسلک اہل سنت بریلوی کے مطابق یہ رشتہ نہیں ہو سکتا کہ لڑکا دیوبند اور لڑکی بریلوی ہے تو یہ رشتہ نہیں ہو سکتا اور اگر یہ رشتہ ہو گیا تو ہم گناہ کے زمرے میں آجائیں گے آپ مفتی صاحب سے میری درخواست ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کے رشتے کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہے اور قران اور حدیث کی روشنی میں کیا یہ رشتہ ہو سکتا ہے ؟کیا یہ رشتہ کر دینے سے ہم کہیں بے دین تو نہیں ہو جائیں گے ؟ ہماری رہنمائی فرمائے قران اور حدیث کی روشنی میں اور فتوی عنایت فرمائے اپ جناب کی بڑی مہربانی ہوگی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اگر تو شادی سے پہلے لڑکاسابقہ مسلک سےصدق ِ دل سے تائب ہوکر مسلکِ حق مسلک اہل سنت و جماعت سنی حنفی بریلوی قبول کر لیتاہے اور پھر اسکے بعد لڑکا لڑکی کا کفو بھی ہو یعنی لڑکے سے نکاح کے باعث اسکے گھرانے کا وقار اور عزت معاشرے میں مجروح نہ ہو یا اگر چہ کفو نہ ہو لیکن لڑکی کے اولیاء یعنی والد وغیرہ اس رشتے پر راضی ہوں تو ایسےلڑکے سے نکاح درست ہے۔لیکن اگر لڑکا شادی سے پہلے سابقہ مسلک چھوڑ کر مسلک اہل سنت و جماعت سنی حنفی بریلوی قبول کرنے پر راضی نہ ہو بلکہ شادی کے بعد سابقہ مسلک چھوڑنے کا وعدہ کرے یا یہ کہے کہ میں غور و فکر کروں گا صحیح لگا تو قبول کرلوں گاان سب صورتوں میں ایسے لڑکےسے نکاح ہرگز جائز نہیں ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا '' ایک عورت سنیہ حنفیہ جس کا باپ بھی سنی حنفی ہے اس کا نکاح ایک غیرمقلد وہابی سے کردینا جائز ہے یا ممن

    (1) '' وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار، تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے اگرچہ صورت صورت سوال کا عکس ہویعنی سنی مردایسی عورت کونکاح میں لانا چاہے کہ مدعیان اسلام میں جو عقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتد ہے ۔ ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہامیں ہے: احکامھم مثل احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔)اور مرتدمرد خواہ عورت کا نکاح تمام عالم میں کسی عورت ومرد مسلم یا کافر مرتدیااصلی کسی سے نہیں ہوسکتا۔

    (2)اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا مگر کبرائے وہابیہ یامجتہدین روافض خذلہم اللہ تعالٰی کہ وہ عقائد رکھتے ہیں انھیں امام وپیشوا یامسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقینا اجماعا خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے۔وجیز امام کردری ودرمختار وشفائے امام قاضی عیاض وغیرہا میں ہے: واللفظ للشفاء مختصراً اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ شفاء کے الفاظ اختصاراً یہ ہیں، علما کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ کافرہے۔


    (3)اور اگرا س سے بھی خالی ہے ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایانِ طائفہ ہوں صاف صاف کافر مانتا ہے ،تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا کہ ان طوائف ضالہ کے عقائد باطلہ میں بکثرت ہیں ،اور اگرچہ نہ ہو تو تقلید ائمہ کو شرک اور مقلدین کو مشرک کہنا ان حضرات کا مشہور ومعروف عقیدہ ضلالت ہے یونہی معاملات انبیاء واولیاء واموات واحیأ کے متعلق صدہا باتوں میں ادنٰی ادنٰی بات ممنوع یا مکروہ بلکہ مباحات ومستحبات پر جا بجا حکم شرک لگادینا خاص اصل الاصول وہابیت ہے جن سے ان کے دفاتر بھرے پڑے ہیں،اور پھر خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین وعلما ئے کاملین واولیائے عارفین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین معاذاللہ سب مشرکین قرار پاتے ہیں خصوصاً وہ جماہیر ائمہ کرام وسادات اسلام وعلمائے اعلام جو تقلید شخصی پر سخت شدید تاکید فرماتے اورا س کے خلاف کو منکر وشنیع وباطل وفظیع بتاتے رہے۔ اس طرح ہزاروں اکابر کے ایمان کا توکہیں پتا ہی نہیں رہتا اور مسلمان تو نرے مشرک بنتے ہیں یہ حضرات مشرک ٹھہرتے ہیں والعیاذ باللہ سبحٰنہ وتعالٰی ، اور جمہور ائمہ کرام فقہائے اعلام کا مذہب صحیح ومعتمدومفتی بہ یہی ہے کہ جو کسی ایک مسلمان کوبھی کافر اعتقاد کرے خود کافر ہے،صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہا میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کی حدیث سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرما تے ہیں :ایما امرئ قال لاخیہ کافرا فقد باء بھا احدہما،زاد مسلم ان کا ن کما قال والا رجعت الیہ۔ جو کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایک پر یہ بلا ضرور پڑے گی ،اگر جسے کہا وہ فی الحقیقۃ کافر ہے تو خیر ،ورنہ یہ کفر کا حکم اسی قائل پر پلٹ آئے گا ۔نیز صحیحین وغیرھما میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے ہے : لیس من دعا رجلا با لکفر او قال عدو اللہ و لیس کذلک الا حا ر علیہ۔ اور جو کسی پر پکارے یا خدا کا دشمن بتائے اور وہ ایسا نہ ہو تو اس کا یہ قول اسی پر پلٹ آئے ۔تو دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو او رنکاح کا جوازو عدم جواز نہیں مگر ایک مسئلہ فقہی، تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلا جائز نہیں خواہ مرد وہابی ہو،یاعورت وہابیہ اور مرد سنی، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے، دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے ، مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم نہیں توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب النکاح جلد 11 ص 377 تا 386 ملخصا)