فتویٰ

    حدیث میں فرشتوں ک نام پر نام رکھنا منع ہتو اس کی حکمت کیا ہ

    تاریخ: 3 فروری، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 733

    سوال

    حدیث میں فرشتوں کے نام پر نام رکھنا منع ہے۔تو اس کی حکمت کیا ہے ؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا منع فرمادینا ہی سب سے بڑی حکمت ہے کیونکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حکیم ہے اور حکیم کوئی بھی قول یا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا بہرحال علماء و محدثین اس کی چند حکمتیں ذکر کی جو کہ درج ذیل ہیں :

    1.فرشتے چوں کہ انسانی اوصاف و کمالات سے ماوراء اور بشری احتیاجات و عوارض سے مُبَرّا ہیں، اس لیے بعض اہل علم کے نزدیک ان کے ناموں پر بچوں کے نام رکھنا خلاف اولٰی ہے۔ امام بخاری اپنی تاریخ میں ایک روایت لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

    ”انبیاء کے ناموں پر نام رکھو اور فرشتوں کے ناموں پر نام نہ رکھو۔“

    علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدہ القاری میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا مقولہ نقل کیا ہے کہ " تمہارے لیے انسانوں کے نام کافی نہیں ہوئے کہ تم ملائکہ کے نام رکھنے لگے ہو"۔

    1 صحابہ ، تابعین کے زمانہ میں اور اسی طرح بعد مسلمانوں میں بھی اس طرح کے نام رکھنے کا تعامل نہیں، بلکہ یہ انسانوں کے لیے غیرمانوس نام ہیں، لہذا بچوں کا نام انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور نیک مسلمان مردوں کے ناموں میں سے کسی نام پر یا اچھے بامعنی نام رکھنا بہتر ہے۔