عمل کثیر کی جامع مانع تعریف،اور نماز فاسد ہونے کا حکم
    تاریخ: 8 جنوری، 2026
    مشاہدات: 103
    حوالہ: 545

    سوال

    عمل کثیر کی تعریف میں متعدد اقوال ہیں نیز فقہاء کی عبارات و جزئیات سے کسی ایک تعریف کو متعین کر نا ایک مشکل امر ہے سو اس حوالے سے عمل کثیر کی ایسی جامع تعریف کر دی جائے جسکی روشنی میں نماز میں کسی بھی عمل کے کثیر یا قلیل ہونے کا حکم لگایا جا سکے ۔ بالخصوص یہ ارشاد فرمائیں کہ ایک رکن میں تین دفعہ ہاتھاٹھانے سے نماز کب فاسد ہو گی ؟۔بینوا و توجروا!

    سائل:علی داد / کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب طلب امر کا تعلق ان مسائل سے ہے جن میں فقہائے کرام کی عبارات میں بظاہر تفاوت پایا جاتا ہے،جس بنا پر کوئی واضح مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا ،یہی وجہ ہے کہ اس بابت عہدِ عصر کے مفتیان کرام کے درمیان کئی طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالی کی بارگاہ ِ بے کس پناہ میں ملتجی ہیں کہ وہ اس مسئلہ کی تنقیح ہمارے لیے آسان فرمائے۔آمین

    تنقیحی امور:

    عملِ کثیر کی جامع و مانع تعریف

    راجح و مرجوح اقوال کا بیان نیز راجح اقوال میں تطبیق ۔

    عمل کثیر کی مختار تعریف کے تناظر میں مسئلہ مذکورہ کی تنقیح

    نقول و جزئیات میں توالی کی قید کا اعتبار۔

    تراویح یا طویل القیام نمازوں کی ادائیگی میں مسائل۔

    مقدارِ رکن کی قید کا اعتبار،اور مفاد۔

    صاحب خلاصہ کا توالی کی قیدصراحتًا ذکر نہ کرنے کی وجہ

    عمل کثیر کی جامع و مانع تعریف

    بلا عذر سرزد ہونے والا وہ فعل جس کے فاعل کو دورسے دیکھنے والا شخص غالب گمان کرے کہ وہ نماز میں نہیں عمل کثیر ہے ، وہ فعل ایسا ہو جسے عادتًا دو ہاتھ سے کیا جاتا ہو،اگرچہ کرنے والا ایک ہاتھ سے کرےجیسے عمامہ باندھنا،قمیص پہننا،جیکٹ ،جرسی پہننا۔یا وہ فعل تو قلیل ہو مگر ایک رکن میں تین بار پے در پےکیا جائے ،جیسے سر یا داڑھی کے بال اکھیڑنا، جسم کھجانا،پسینہ پونچھنا اور دامن سیدھا کرناوغیرہ۔ یاوہ عمل تو قلیل ہو مگر کسی معنی کثیر کے ساتھ جمع ہو جائے ،جیسے نمازی کا دوران ِنماز بیوی کو بوسہ دینا،کسی انسان کو کنکری مارنا۔یا پھرنمازی کی جانب سے تو کوئی عمل نہ پایا جائے مگر کسی دوسرے کے فعل کی وجہ سے عمل کثیر کا معنی پایا جا رہا ہو جیسے عورت کا مرد کو نماز کی حالت میں شہوت کے ساتھ چھونا یا بوسہ دینا ،کہ اس میں جماع کا معنی پایا جا رہا ہے،یوں ہی بچے کو دودھ پینے کی قدرت دینا ،اس میں ارضاع کا معنی پا جا رہا ہے اور یہ دونوں (جماع و ارضاع )عمل کثیر ہیں ۔

    راجح و مرجوح اقوال کا بیان نیز راجح اقوال میں تطبیق

    پہلا قول:

    نمازی کا وہ عمل جس کے سبب دور سے دیکھنے والے شخص کو غالب گمان ہو جائے کہ وہ نماز میں نہیں عمل کثیر ہے ۔ صاحب در مختار لکھتے ہیں :(كُلُّ عَمَلٍ كَثِيرٍ) لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا وَلَا لِإِصْلَاحِهَا، وَفِيهِ أَقْوَالٌ خَمْسَةٌ أَصَحُّهَا (مَا لَا يَشُكُّ) بِسَبَبِهِ (النَّاظِرُ) مِنْ بَعِيدٍ (فِي فَاعِلِهِ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا) ترجمہ :ہر وہ عمل جو اعمال ِنماز سے نہ ہو،اور نہ ہی اصلاح نماز سے ہو۔اس میں پانچ اقوال ہیں۔جن میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ :وہ عمل جس کے سبب سے دور سے دیکھنے والے کوفاعل کے بارے میں شک نہ ہو کہ نماز میں نہیں(بلکہ ظن غالب ہوجائے کہ واقعی نماز میں نہیں)۔

    فائدہ:عمل کثیر کی تعریف میں صاحبِ در مختار نے (لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا)قید کو ذکر کیا ،جس سے مقصود ان تمام صورتوں کو خارج کرنا تھاجن میں وہ عمل تو کثیر ہوتا ہے لیکن اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی ،جیسے نمازی کا نماز میں کوئی زائد رکوع و سجدہ کر لینا ،یہ عمل کثیرتو ہے لیکن مفسدِ نماز نہیں ہے۔ محشی علامہ شامی علیہ الرحمہ اس پر فرماتے ہیں کہ عمل کثیر کی تعریف میں اس قید کوبڑھانے کی ضرورت نہیں تھی ،کیوں کہجواس قید سے مقصود تھا وہ عمل کثیر کی مابعدتعریف سے حاصل ہو رہا ہے ۔وہ یوں کہ ناظر اس طرزِ عمل(زائد رکوع و سجدہ) کو کبھی بھی عمل کثیر نہیں گردانے گا۔لکھتے ہیں :قلت: والظاهر الاستغناء عن هذا القيد على تعريف العمل الكثير بما ذكره المصنف تأمل۔ترجمہ:عمل کثیر کی تعریف پر اس قید سے عدم حاجت ظاہر ہے اس سے جس کو مصنف نے ذکر کیا ،پس تامل کرو۔(رد المحتار،کتاب الصلاۃ جلد 1،صفحہ 624،دار الفکر بیروت)

    جبکہ امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تو دوسری قید(لَا لِإِصْلَاحِهَا)کو بھی تسلیم نہیں کیا،آپ علیہ الرحمہ نے ایک مسئلہ سے اس پر نقض وارد فرمایا ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ باندی نماز پڑھ رہی تھی کہ دورانِ نماز آقا نے آزاد کر دیا ،یہ سنتے ہی اس نے سر ڈھانپنے کے لیے چادر اوڑھ لی تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،حالاں کہ اس کا یہ عمل اصلاحِ نماز ہی کے لیے تھا کہ آزادعورت کے بال بھی ستر میں شامل ہیں ۔لہذا یہ عمل اصلاح نماز کے لیے تھا اس کے باوجود نما ز کے فاسد ہونے کا حکم ہے۔لکھتے ہیں :من اعتقت فی الصلاۃ ،فان سترت راسھا بعمل کثیرفسدت ،مع انہ لاصلاح الصلاۃ ۔جس لونڈی کونماز میں آزاد کیا گیا ، پس اگر اس نے اپنا سرعمل کثیر کے ساتھ ڈھانپا تواس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،حالاں کہ اس کا یہ عمل نماز کی اصلاح کے لیے تھا ۔(جد الممتار ،جلد 03،صفحہ 100دارالفقیہ)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ نے( لاصلاحھا )کی جگہ (لافعل لعذر)کے اضافے کو مناسب سمجھا ہے تاکہ اس قیدسے وہ صورتیں خارج ہو جائیں جن میں پہلی دونوں تعریفوں کے مطابق عمل کثیر کا معنی تو پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود فسادِ نماز کا معنی نہیں پایا جاتا جیسے نمازکے دوران وضو ٹوٹنے کی وجہ سے نماز روک کر وضو کے لیے جانا ،اسی طرح بہ حالتِ نماز سانپ یا بچھو کو مارنا ۔لکھتے ہیں :قلت: وينبغي أن يزاد ولا فعل لعذر احترازا عن قتل الحية أو العقرب بعمل كثير على أحد القولين ترجمہ:میں کہتا ہوں :لافعل لعذر کا اضافہ کرنا مناسب ہے تا کہ سانپ ،بچھوکو مارنے کے عمل کی وجہ سے عمل کثیر کے دوقولوں میں کسی ایک پر(نماز کے فساد کے حکم سے)احتراز کیاجائے ۔

    دوسرا قول:

    مَا يُعْمَلُ عَادَةً بِالْيَدَيْنِ كَثِيرٌ وَإِنْ عُمِلَ بِوَاحِدَةٍ كَالتَّعْمِيمِ وَشَدِّ السَّرَاوِيلِ وَمَا عُمِلَ بِوَاحِدَةٍ قَلِيلٌ وَإِنْ عُمِلَ بِهِمَا كَحَلِّ السَّرَاوِيلِ وَلُبْسِ الْقَلَنْسُوَةِ وَنَزْعِهَا إلَّا إذَا تَكَرَّرَ ثَلَاثًا مُتَوَالِيَةً.ترجمہ:"وہ کام جو عادتا دو ہاتھ سے کیا جاتاہے عمل کثیر ہے،اگرچہ اسے ایک ہاتھ سےکیا جائے،جیسے عمامہ باندھنا ،شلوار باندھنا (اور جن کاموں کو ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے وہ عمل قلیل ہیں ،جیسے شلوار کھولنا ،ٹوپی پہننا ،اور اس کو اتارنا )مگر یہ عمل کثیر اس وقت ہو گا کہ جب یہ عمل پے در پے تین بار تکرار کے ساتھ کرے۔

    صاحب بحر نے اس تعریف پر اعتراض وارد کرتے ہوئے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ یہ تعریف ان اعمال کثیرہ کو شامل نہیں جو ہاتھوں سے نہیں کیے جاتے ،جیسے چبانا ،بوسہ لینا وغیرہ ۔

    اعلی حضرت علیہالرحمہ اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:اقول:ان کان ھذا قاصرا عن ذاک،فالاول لایشمل مالایقف علیہ الناظر،کابتلاع قدرالحمصۃ من بین الاسنان،وابتلاعذوب السکرالذی فی فیہ،وغیر ذالک مع مافی کتب المذھب من فروع خمسۃ لاتلائم ھذا القول ،انما تنسحب علی القول الثانی مع مانری من تقریرمختاری القول الاول ایاھا،۔اگر یہاں (قول ثانی)ان(چبانا،بوسہ لینا )سے قاصر ہے تو پہلا قول ان صورتوں کو شامل نہیں گا کہ جن پر دیکھنے والا (دیکھنے سے ) واقف نہیں ہوتا۔جیسے دانتوں کے درمیان سے چنے کی مقدار نگلنا،شکر کی وہ ٹکی نگلنا جو منہ میں ہو،اس کے علاوہ کتب مذہب میں پانچ ایسی فروع ہیں جو اس قول کے مناسب نہیں ،نیز قول ثانی پر جمع ہوتی ہیں،باوجود اس کے کہ ہم اپنے مختار قول اول کی تقریر سے ان (فروع )کو دیکھتے ہیں ۔

    تیسرا قول:

    الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ الْمُتَوَالِيَةُ كَثِيرٌ وَإِلَّا فَقَلِيلٌ :ترجمہ:پے درپے تین حرکات عمل کثیرہے ،ورنہ عملِ قلیل ہے ۔اس کامعنی یہ نہیں کہ تینوں قیود(حرکت،تین بار،پے در پے) جس عمل پر ایک ساتھ صادق نہ آئیں تو وہ عمل مطلقاً قلیل ہو گا ،بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی عمل قلیل ، عمل کثیر اس وقت بنتا ہے کہ جب اسے تین بار پے در پے کیا جائے ۔

    جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرشوہر عورت کو حالتِ نمازمیں شہوت کے ساتھ چھولے یا بوسہ دے تو عورت کی نماز فاسد ہوجاتی ہے ،جبکہ یہاں پر عورت کی جانب سے کوئی حرکت ہی نہیں پائی گئی،چہ جائیکہ تین بار اور پھر پے در پے ہو ۔اسی طرح اگر کسی نمازی نے بیوی کا بوسہ لیا یا چھوا تو نماز فاسد ہو جائے گی،ان دونوں مسئلوں میں تینوں قیود ایک ساتھ نہیں پائی جا رہی اس کے باوجود اس عمل کو کسی نے عمل قلیل نہیں بلکہ عملِ کثیر،مفسدِ نماز ماناہے ۔

    چناچہ امام اہلسنت نے اس کا معنی بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :ماکان من عمل قلیل فلا یفسد الصلاۃ،الا اذا تکررثلاثا متوالیاً،فیرجع الی الاستثناء المذکور فی المذہب الثانی :ترجمہ:کوئی عمل قلیل نماز کو فاسد نہیں کرتا مگر یہ کہ جب پے در پے تین بار ہو (تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔)پس یہ قول مذہب ثانی میں مذکور استثنا کی طرف لوٹے گا۔(جد الممتار جلد 03صفحہ101 دار الفقیہ)

    اسی بنا پر ہندیہ وغیرہانے اس قول کو الگ طور پرمذہب نہیں بنایا،بلکہ مذہبِ ثانی میں شمار کیا ہے۔

    قول ثالث کی مذکورہ وضاحت کے بعد قول ثانی کا معنی:

    وہ کام جو عادتًا دو ہاتھ سے کیا جاتاہے عمل کثیر ہے،اگرچہ اسے ایک ہاتھ سےکیا جائے،جیسے عمامہ باندھنا ،شلوار باندھنا،اور جن کاموں کو ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے وہ عمل قلیل ہیں ،جیسے ٹوپی پہننا ،اور اس کو اتارنا ، موبائل کی رنگ ٹون بند کرنا ،مگر یہ عمل کثیر اس وقت ہو گا کہ جب وہ عمل تین بار پے در پے تکرار کے ساتھ ہو ۔

    چوتھا قول :

    مَا يَكُونُ مَقْصُودًا لِلْفَاعِلِ بِأَنْ يُفْرِدَ لَهُ مَجْلِسًا عَلَى حِدَةٍ. قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة: وَهَذَا الْقَائِلُ: يَسْتَدِلُّ بِامْرَأَةٍ صَلَّتْ فَلَمَسَهَا زَوْجُهَا أَوْ قَبَّلَهَا بِشَهْوَةٍ أَوْ مَصّ صَبِيٌّ ثَدْيَهَا وَخَرَجَ اللَّبَنُ: تَفْسُدُ صَلَاتُهَا.ترجمہ:جب فاعل کا مقصودیہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو مجلس سے الگ کردے تو یہ عمل کثیر ہے۔تارتار خانیہ میں کہا کہ:اس (قول کے)قائل نے اس عور ت کے مسئلہ سے استدلال کیا ہے کہ جو نماز پڑھ رہی تھی ،اور اس کے شوہر نے اسے شہوت کے ساتھ چھولیا یا بوسہ دیا ،یا اس کے بچے نے اس کا پستان چوسا اور دودھ نکل آیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ اس قول کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"والجواب ان ھذہ وان لم تکن اعمالا کثیرۃ بل لا عمل فیھا من قبل المصلیۃ اصلا ،لکنھا جعلت مفسدات لکونھا فی معنیٰ اعمال کثیرۃ ، فمس الرجل وتقبیلہ ایاھا بشھوۃ فی معنیٰ الجماع ، ومس الصبی ثدیھا مع خروج اللبن تمکین من الارضاء فی معنی الارضاع ، ولا شک ان الجماع والارضاع عملان کثیران یصدق علیھما التعریف الاول"۔ترجمہ:" حالت نماز میں شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونا ، بوسہ دینا،یا بچے کا دودھ پینا وغیرہ جیسے امور اگرچہ اعمال کثیرہ میں سے نہیں ،اور نہ ہی عورت کی جانب سے پائے گئے ہیں،لیکن اعمالِ کثیرہ کے معنی میں ہیں،وہ یوں کہ مرد کا عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا یا بوسہ دینا جماع کے معنی میں ہے۔اور بچے کا ماں کے پستان کو چوسنا،دودھ نکلنے کے ساتھ ،یہ دودھ پینے کی قدرت دینا ہے جو کہ ارضاع (دودھ پلانے)کے معنی میں ہے،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جماع اور ارضاع پہلی تعریف کے مطابق عملِ کثیر ہیں۔(جد الممتار :جلد 3، صفحہ 102،دارالفقیہ)

    لہذا اس قول کی بھی حاجت نہیں،کیوں کہ اس سے جو کچھ مستفاد ہو رہا ہے وہ قول اول سے ہی حا صل ہو رہا ہے۔

    پانچواں قول:

    التَّفْوِيضُ إلَى رَأْيِ الْمُصَلِّي، فَإِنْ اسْتَكْثَرَهُ فَكَثِيرٌ وَإِلَّا فَقَلِيلٌ قَالَ الْقُهُسْتَانِيُّ: وَهُوَ شَامِلٌ لِلْكُلِّ وَأَقْرَبُ إلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُقَدرْ فِي مِثْلِهِ بَلْ يُفوضْ إلَى رَأْيِ الْمُبْتَلَى. ۔ترجمہ:یہ معاملہ نمازی کی رائے پر چھوڑا جائے گا،پس اگر وہ اس کو کثیر سمجھے تو کثیر ورنہ قلیل ہو گا۔قہستانی نے کہا کہ :اور یہ تمام صورتوں کو شامل ہے اور امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے قول کے زیادہ قریب ہے،کیوں کہ وہ اس کی مثل میں اندازہ نہیں لگاتے،بلکہ مبتلا شخص کی رائے کی طرف اس کو پھیردیتے ہیں ۔(رد المحتار،کتاب الصلاۃ جلد 1،صفحہ 625،دار الفکر بیروت)

    شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نےبھی اس قول کو مذہبِ امام کے قریب بتایا ہے ،کیوں کہ کثیر مقامات پرآپ کا مذہب یہ ہے کہ جس چیز کی مقدار شریعت کی جانب سے متعین نہ ہو تو اسے مبتلا شخص کی رائے کی طرف پھیراجائے گا۔ یاد رہے کہ عمل کثیر کے اقوال میں سے یہ ضعیف ترین قول ہے ،جس کا فساد ظاہر ہے ۔

    علامہ ابراہیم حلبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ:ھذا غیر مضبوط وتفویض مثلہ الی رای العوام مما لا ینبغیترجمہ :یہ قول مضبوط نہیں،اس کی مثل مسائل کو عوام کی رائے کی پھیرنا نامناسب ہے۔(غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی جلد1 صفحہ 382مکتبہ نعمانیہ)

    محاکمہ:

    درج بالا فقہائے کرام کی عبارات سے واضح ہو تا ہے کہ عمل کثیر کی تعریف میں چوتھے اور پانچویں قول کا کوئی اعتبار نہیں ،جبکہ تیسرا قو ل دوسرے قول کے ضمن میں پایا جاتا ہے ،اور فقہائے کرام نے عمل کثیر کے جتنے بھی مسائل نقل فرمائے انکا مدار پہلا اور دوسرا قول ہے یہاں تک کہ بعض فقہائے کرام مثلاً علامہ حلبی وغیرہ نے فرمایا کہ قول ثانی سے جو کچھ مستفادہوتا ہے وہ قول اول سے بھی ہو سکتا ہے ،سو اس معنی میں قولِ ثانی قول اول ہی کی تفسیر ہے ۔راقم الحروف نے عمل کثیر کی جو تعریف کی ہے اس کا مدار محقق اسلام علامہ شامی ،علامہ حلبی اور بالخصوص امام اہلسنت کی عبارات ہیں ۔

    علامہ حلبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :واکثر الفروع او جمعیھامخرج علی احد الطریقین الاولین والظاہر ان ثانیھالیس خارجاعن الاول لان ما یقام بالیدین عادۃ یغلب ظن الناظر انہ لیس فی الصلاۃ وکذا قول من اعتبر التکرارالی الثلاث متوالیۃ فی غیرہ فان التکرار یغلب الظن بذالک فلذا اختارجمھور المشائخ ۔ترجمہ :اکثر یا تمام فروع پہلے دوقولوں میں سے ایک پر متفرع ہو تی ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ دوسرا قول پہلے سے خارج نہیں کیونکہ عادۃ جو کام دو ہاتھ سے کیا جاتا ہے ناظر کا غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ نماز میں نہیں ہے ۔ اور اسی طرح اس شخص کا قول جس نے اس کے علاوہ( قول ثانی) میں پے درپے تین مرتبہ تکرار کا اعتبار کیا ہے ، کیوں کہ تکرار اس میں دیکھنے والے کونمازی کے نماز میں نہ ہونے کا غلبہ ظن دیتا ہے ، پس اسی لیےجمہور مشایخ نے اس کو اختیار کیا ۔ (غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المصلی جلد1 صفحہ 382 مکتبہ نعمانیہ)

    اعلی حضرت علیہ الرحمہ جد الممتار میں اس کے تحت لکھتے ہیں : اقول :فکان الثانی والثالث ضابطتان لبعض ما یشملہ الاول ،وحاصل الکلام:ان العمل الکثیر ھو الذی یغلب علی ظن الناظر انہ لیس فی الصلاۃ ،ویکون ذالک فیمایعمل بالید بعمل ما یقام عادۃ بالیدین،وبتثلیث ما یفعل بیدواحدۃ،وکذا کل حرکۃقلیلۃ تکررت ثلاثا متوالیۃفافہم،واللہ تعالی اعلم۔ویؤید ذالک ما راینا کثیرا من ان الائمۃ المختارین للقول الاول،ربما یذکرون فروعاتبتنی علی احد ھذین القولین ،ویقرونہاساکتین علیھما۔میں کہتا ہوں :گویا دوسرا اور تیسرا قول دو ضابطے ہیں ان بعض مسائل کے جن کو پہلا قول شامل ہے ۔اور حاصلِ کلام یہ ہے کہ:عمل کثیروہ جو دیکھنے والے کے ظن پر غالب آجا ئے کہ (نمازی)نماز میں نہیں۔اور یہ (تعریف)اس صورت کو بھی شامل ہے کہ کوئی شخص ایک ہاتھ سے کام کرے جو عادتًا دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے ۔اور(اس صورت کو بھی شامل ہے)اس چیز کی تین مرتبہ کرنا جو ایک ہاتھ سے کی جاتی ہے ۔اور اسی طرح ہر وہ حرکت قلیل جو پے در پے تین مرتبہ کی جائے فافھم واللہ اعلم۔ اور اس کی تائید کرتے ہیں وہ تمام مسائل جو ہم نے دیکھے کہ قولِ اول کو اختیار کرنے والے ائمہاکثر اوقات ایسی فروع کا ذکر کرتے ہیں ،جو ان دونوں قولوں میں کسی ایک پر مبنی ہوتی ہیں ، اور دونوں قولوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئےان(مسائل )کوبرقرار رکھتے ہیں ۔(جد الممتار جلد 3،صفحہ103دار الفقیہ)

    عمل کثیر کی مختار تعریف کے تناظر میں مسئلہ مذکورہ کی تنقیح

    عمل کثیر کی جامع مانع تعریف کے تناظر میں سوال طلب امر(ایک رکن میں تین مرتبہ وقفے کے ساتھ ہاتھ اٹھانا جسم وغیرہ کھجانے کے لیے)میں نماز فاسد نہیں ہو گی،اس لیے کہ یہ حرکتِ قلیل ہے اور حرکت ِقلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی جب تک اسے تین مرتبہ پے در پے ایک رکن میں نہ کیا جائے ۔

    حکم شرعی :ایک رکن میں تین مرتبہ ہاتھ اٹھانے سے نماز اس وقت فاسد ہو گی جب یہ عمل پے در پے پایا جائے۔یعنی نمازی نے ایک رکن میں ہاتھ اٹھایا اورا بھی تین تسبیحات کی مقدار نہ گزری تھی کہ دوبارہ اٹھا لیا ،یہاں تک اسی طریق پر تیسری بار بھی اٹھا لیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔اور اگرتین مرتبہ ہاتھ تو اٹھایا مگر ایک سے دوسری مرتبہ یا دوسری سے تیسری مرتبہ ہاتھ اٹھانے میں تین تسبیحات کی مقدارگزر گئی تو اب نماز فاسد نہیں ہو گی۔یاد رہے کہ مذکورہ حکم فساد و عدم فساد کے لحاظ سے تھا ،البتہ اگر کوئی شخص بلا وجہ جسم کو کھجاتا ،سہلاتا ہے تو اس کا یہ عمل مکروہ ہو گا۔

    نقول و جزئیات میں توالی کی قید کا اعتبار

    جوہرہ نیرہ و حاشیۃ الطحطاوی میں ہے،واللفظ لہ : حك موضعا من جسده كذلك أو رمى ثلاثة أحجار أو نتف ثلاث شعرات فإن كانت على الولاء فسدت صلاته وإن فصل لا تفسد وإن كثر ۔ترجمہ: کسی نے اپنے جسم کے کسی حصے کو کھجایا یا تین پتھر پھینکیں یا تین بال توڑے ،پس یہ تمام کام اگر پے در پے تھے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔اور اگر فاصلے کے ساتھ ہوئے تو فاسد نہیں اگرچہ زیادہ مرتبہ کرے ۔(حاشیۃ الطحطاوی ،جلد 1،صفحہ 323)

    غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المستملی میں ہے: (وبعض المشائخ قالوا اذا ضربھا مرۃ او مرتین لاتفسد )صلاتہ (وان ضربھا ثلاث مرات متوالیات )ای فی رکعۃ واحدۃ ھکذا قید فی الخلاصۃ (تفسد) وکذا ذکر قاضی خان صاحب الخلاصۃ وھوالاصح لان مایتم بیدواحدۃ لاتفسد مالم ینضم الیہ معنی آخر من التکرار ثلاثا متوالیۃ او نحو التادیب کما فی ضرب الانسان فان الضرب فی حقہ بمنزلۃ التعلیم ا والاعلام وھو مفسد۔ترجمہ:بعض مشائخ نے کہا (کہ سواری پرسوارنمازی نے )جب سواری ( تیز چلانے کے لیے)ایک یا دو مرتبہ اسے مارا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔اور اگر اس نے تین بار پے در پے یعنی ایک رکعت میں اسی طرح خلاصہ میں قید ہے مارا ،تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔اور اسی طرح قاضی خان نے صاحب ِخلاصہ کا ذکر کیا اور وہی اصح ہے ،کیوں کہ جو فعل(عادتاً)ایک ہاتھ سے مکمل ہوتا ہے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی جب تک کہ اس کے ساتھ پے در پے تین مرتبہ تکرار کا معنی،یا تادیب کا معنی نہ پایا جائے،جیسے کے انسان کو مارنے میں(اس کا معنی پایا جاتا ہے)کیوں کہ اس کے حق میں مارنا بمنزلہ تعلیم،یا اعلام کےہے ۔اور یہ مفسدِ نماز ہے۔(غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المستملی جلد 1صفحہ383 مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ)

    اسی میں ہے:ولو حک المصلی جسدہ مرۃ او مرتین متوالیتین لاتفسد صلاتہ للقلۃ وکذا لاتفسداذا فعل ذالک الحک مرارا غیر متوالیاتان لم تکن فی رکن واحد ولو فعل ذالک مرارا متوالیات ای فی رکن واحد تفسد صلاتہلانہ کثیر ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرۃ اما اذا لم یرفع یدہ فی کل مرۃفلاتفسد لانہ حک واحد کذا فی الخلاصۃ ثم قید فی الخلاصۃ ثم قید التوالی ھنا بالکون فی رکن واحد وید فی ضرب الدابۃ بکونہ فی رکعہ واحدۃ ولا یظہر بینھما فرق والاظہر اعتبار الرکن فی الموضعین لانہ المعتبر فی مواضع کثیرۃ من ھذا النوع ۔ترجمہ:اور اگر نمازی نے اپنا جسم ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پے در پے کھجایا تو اس کی نماز عمل قلیل کی وجہ سے فاسد نہیں ہو گی،اور اسی طرح نماز فاسد نہیں ہو گی اس صورت میں بھی کہ جب کھجانا بار بار (تین یا تین سے زائد مرتبہ)ہو لیکن پے در پے نہ ہو اور ایک رکن میں نہ ہو ۔اور اگر اس نے ایسا باربار پے درپے یعنی ایک رکن میں کیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،اس لیے کہ یہ عمل کثیر ہے،یہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب اس نے ہر مرتبہ ہاتھ اٹھایا ہو ۔بہرحال جب اس نے ہر مرتبہ میں ہاتھ نہ اٹھایا ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ،اس لیے کہ یہ ایک ہی مرتبہ کھجانا ہوا جیسا کہ خلاصہ میں ہے ۔پھر خلاصہ میں قید لگائی گئی ہے ،پھر وہاں (خلاصہ میں)توالی کی قید ایک رکن میں ہونے کے ساتھ ہے،اور جانور کو مارنے میں ہاتھ (کا ستعمال)ایک رکعت میں ہونے کے ساتھ ہے۔اور ان دونوں(رکن ورکعت)میں فرق واضح نہیں۔اور اظہر یہ ہے کہ دونوں (کھجانے اور مارنے)جگہوںمیں رکن کا اعتبار کیا جائے،کیوں کہ اس نوع کی کثیر مقامات میں یہی اعتبار کیا گیا ہے۔(غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المستملی جلد 1صفحہ387مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ)

    اس سے آگے لکھتے ہیں:ان قتل قتلا متدارکا بان لم یکن بین کل قتلتین قدر رکن تفسد صلاتہ وان کان بین القتلات فرصۃ ای مھلۃ قدر رکن لاتفسد صلاتہ۔ترجمہ:اگر پے در پے (جوں وغیرہ)ماری یوں کہ ہر دو قتل کے مابین ایک رکن کی مقدار فاصلہ نہ ہو تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،اور اگر چند قتلوں کے درمیان فرصہ(ایک رکن کی مقدار )مہلت ہو تو پھر نماز فاسد نہیں ہو گی ۔(غنیۃ المستملی فی شرح منیۃ المستملی جلد 1صفحہ388مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ)

    درج بالا عبارات میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ صاحب ِ منیہ نے جسم کھجانے،بال توڑنے ،جوں مارے وغیرہ میں توالی اور رکن واحد کا اعتبار کیا گیا ہے،نیزفاصلے کی تفسیرمقدارِ رکن (تین تسبیحات کی مقدار )سے کی ۔

    امام برہانی الدین،صدر الشریعہ ابن مازہ بخاری متوفی 616ھ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وإن عبث بلحيته او حك بعض جسده لا تفسد صلاته، قيل: هذا إذا فعل ذلك مرة أو مرتين وكذلك إذا فعل ذلك مراراً ولكن بين کل مرتين فرجۃ، فأما إذا فعل ذلك مراراً متواليات تفسد صلاته، ألا ترى أنه لو نتف شعرة مرة أو مرتين لا تفسد ولو نتف ثلاث مرات على الولاء تفسد۔اور اگر اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلا ،یا اپنے جسم کو سہلایا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی،کہا گیا ہے کہ یہ تب ہے کہ جب اس نے ایک یا دو مرتبہ ایسا کیا ہو ،اور اسی طرح(نماز فاسد نہیں ہو گی )جب اس نے چند بار ایسے کیا لیکن ہر دو کے درمیان فاصلہ تھا۔بہرحال جب اس نے چند بار پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔کیا دیکھتے نہیں کہ اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو نماز فاسد نہیں ہو گیاور کسی نے تین مرتبہ پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔

    (المحیط البرہانی الفصل الخامس جلد 2 صفحہ165 ،ادارۃ القرآن)

    فتاوی تاتارخانیہ میں بھی اسی کی مثل منقول ہے:وإن عبث بلحيته او حك بعض جسده لا تفسد صلاته، قيل: هذا إذا فعل ذلك مرة أو مرتين وكذلك إذا فعل ذلك مراراً ولكن بين کل مرتين فرجۃ، فأما إذا فعل ذلك مراراً متواليات تفسد صلاته ترجمہ:اور اگر اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلا ،یا اپنے جسم کو سہلایا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی،کہا گیا ہے کہ یہ تب ہے کہ جب اس نے ایک یا دو مرتبہ ایسا کیا ہو ،اور اسی طرح(نماز فاسد نہیں ہو گی )جب اس نے چند بار ایسے کیا لیکن ہر دو کے درمیان فاصلہ تھا۔بہرحال جب اس نے چند بار پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔کیا دیکھتے نہیں کہ اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو نماز فاسد نہیں ہو گیاور کسی نے تین مرتبہ پے در پے ایسا کیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی ۔(فتاوی تاتارخانیہ جلد 2صفحہ237مکتبہ فاروقیہ)

    یہاں پر خلاصۃ الفتاوی سے پہلے کے فتاوی(فتاوی نوازل) کا حوالہ پیش کررہے ہیں ،جس میں صراحت کے ساتھ توالی کی قید کا اعتبار کیا گیا ہے ۔چناچہ الامام الفقیہ ابو لیث نصر بن محمد السمرقندی متوفی 375ھ علیہ الرحمہ فتاوی نوازل میں لکھتے ہیں :ولو حک جسدہ مرۃ او مرتین لاتفسد وان حک مرات متوالیات تفسد :ترجمہ:اور اگر کسی نے اپناجسم ایک یادو بار کھجایا تو نماز فاسد نہیں ہو گی،اگر تین مرتبہ پے در پے کھجایا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔(فتاوی النوازل جلد صفحہ 89 دار الکتب العلمیہ)

    توالی کی قید کا اعتبار نہ کرنے سے تراویح یا طویل القیام نمازوں کی ادائیگی میں مسائل اگر مبحوثہ مسئلہ میں توالی کا اعتبار نہیں کرتے توتراویح اور طویل القیام نمازوں کی ادائیگی میں حرج لازم آئے گا کہ گرمیوں میں گرم علاقوں بالخصوص شہرِ ِ کراچی میں گرمی کی حدت ذیادہ محسوس ہوتی ہے،لوگ بار بارنماز میں پسینہ پونچھتے ہیں ،یوں ہی مچھر کے کاٹنے سے لوگ کاٹے گئے مقام کو کھجلاتے ہیں ،تو اگر اس قید کا اعتبار نہ کیا جائے تو شاید عوام کی نماز ادا ہو سکے۔

    مقدار رکن کی قید کا اعتبار،اور مفاد

    تین مرتبہ پے در پے ہاتھ اٹھانے میں رکن واحد کا اعتبار کیا گیا ہے،جس کا مفاد یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک رکن مثلاً قیام میں پے در پے دو مرتبہ ہاتھ اٹھایا ،یہاں تک کہ پھر رکوع میں چلا گیا اور اسی تسلسل میں بغیر وقفہ کے تیسری مرتبہ ہاتھ اٹھا لیا اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی،اس لیے کہ یہاں پر پے در پے تین مرتبہ ہاتھ تو اٹھایا گیا ہے لیکن ایک رکن میں نہیں بلکہ دو رکنوں میں ہے ،لہذا ایسے کرنے سے نماز فاسد نہیں ہو گی،قطع نظر اس کے کہ مکروہ ہے کہ نہیں۔

    صاحب خلاصہ کا توالی کی قید کو صراحتا ذکر نہ کرنے کی وجہ

    متاخرین فقہائے کرام نے اس مسئلہ مبحوثہ کو تقریباً خلاصہ سے نقل کیا ہے ، جبکہ صاحب ِ خلاصہ نے کسی بھی مقام پر توالی کی قید کو صراحتاذکر نہیں کیا ۔ سواسی بناپر بعض احباب ِ فتاوی نے توالی کااعتبار نہیں کیا،جواب سے پہلے خلاصہ کی عبارت ملاحظہ ہو :لو نتف شعرة مرة أو مرتين لا تفسد وان نتف ثلاث مرات یفسدوان حک ثلاثا فی رکن واحد تفسد صلاتہ ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرۃ اما اذا لم یرفع فی کل مرۃ فلا یفسدصلاتہ لانہ حک واحد۔ترجمہ:اگر کسی نے ایک یا دو مرتبہ بال توڑا تو اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی،ا ور اس نے تین مرتبہ ایسا کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی،اور اگرتین مرتبہ جسم کھجایا ایک رکن (رکن کی مقدار)میں تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،یہ اس صورت میں ہے کہ جب اس نے ہر بار اپنا ہاتھ اٹھایا ہو ،بہر حال جب ہر مرتبہ ہاتھ نہ اٹھایاہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی کہ یہ ایک ہی مرتبہ ہاتھ اٹھانا ہے ۔(خلاصۃ الفتاوی جلد 1،صفحہ129،کتاب الصلاۃ،جنس آخرفی الافعال مایفسدوما لا یفسدرشیدیہ)

    خلاصہ کلام :

    درج بالا فقہائےکرام کی عبارات سے عمل ِ کثیر کی جامع مانع تعریف واضح ہو جانےکے بعدیہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ ایک رکن میں عملِ قلیل (مثلاًسر یا ڈارھی کے بالوں سےکھیلنا ،جسم کھجانا،پسینہ پونچھناوغیرہا)سے نماز اس وقت فاسد ہو گی جب اس عملِ قلیل کے لیے تین مرتبہ پےدرپے ہاتھ اٹھایا جائے ،جس پر نقول و جزئیات شاہد ہیں ،نیزعوام کی سہولت اور آسانی بھی اسی میں ہےجو کہ حدیث مبارک یسروا ولاتعسروا کے مطابق،وماجعل علیکم فی الدین من حرج(الحج:78) کے قریب ،اور الحرج مدفوع بالنص (اشباہ) کے دائرہ میں ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20شعبان المعظم 1442 ھ/02اپریل 2021ء