عورتوں کا تراویح پڑھنے کا حکم
    تاریخ: 8 جنوری، 2026
    مشاہدات: 87
    حوالہ: 546

    سوال

    مجھے یہ پتہ کرنا ہے کہ کیا عورت کو تراویح پڑھنا جائز ہے ؟ مرد کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

    سائلہ :اب ج د: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تراویح کی نماز مرد و عورت سب کے لیے سنت موکدہ ہے ، تراویح چھوڑنا جائز نہیں ہے۔عورت کا مسجد میں آکر مرد کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن اس میں چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے:

    1: عورتوں کو شرعی پردہ کے ساتھ آئیں ۔

    2: انکا راستہ اور نشست مردوں سے جدا اور الگ ہو۔

    3:عورتوں کی صف مردوں کے پیچھے بنائی جائے ۔

    تنویرالابصار مع االدر المختار میں ہے:(التَّرَاوِيحُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ) إجْمَاعًا۔ترجمہ: تراویح بالاجماع مرد و عورت کے لیے سنت موکدہ ہے۔( تنویرالابصار مع االدر المختار،کتاب الصلوۃ باب الوتر والنوافل جلد 2 ص 43،دار الفکر بیروت)دور حاضر کے عظیم محقق علامہ غلام رسول سعیدی رقمطراز ہیں: ''البتہ اللہ سے ڈرنے والی خواتین ضرور مسجد میں جمعے کی نماز پڑھنے یا رمضان میں تراویح پڑھنے جاتی ہیں ،سو وہ خواتین پردہ کی حدود و قیود کے ساتھ جائیں،تاکہ وہ درس قرآن و حدیث، وعظ و نصیحت سن سکیں ، تو میری رائے میں انکو منع نہیں کرنا چاہیے، جبکہ امام اعظم کے ایک قول میں اسکی گنجائش بھی ہے۔''( نعمۃ الباری شرح صحیح البخاری ج2ص 798)

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب لکھتے ہیں:''میرے نزدیک موجودہ دور میں مساجد میں نماز تراویح،جمعہ اور دروس کی مجلسوں میں شرعی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ خواتین کی شرکت کا اہتمام اباحت وجواز کی حدود سے نکل کر ضرورت کے درجے میں داخل ہو گیا ہے''(تفہیم المسائل جلد 4ص 353)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1440 ھ/16 مئی 2019 ء