سوال
بیوی کا بیان: میرا فرضی نام مریم ہے۔کم و بیش دو سے تین ہفتے پہلے میرے شوہر عمران (فرضی نام) سے لڑائی ہوئی۔ میرے شوہر شدید غصے کی حالت میں تھے ۔پہلے انہوں نے میری طرف انگلی سے اشارہ کر کے یہ کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ پھر اس کے بعد بچوں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا کہ ’’اپنے بچوں کو لے کر میرے گھر سے نکلو ‘‘۔یہ سب بیانات میں اپنی یاداشت کے مطابق دے رہی ہوں۔یہاں امریکہ کے ایک مفتی صاحب نے فرمایا کہ کیونکہ طلاق کا ایک گواہ ہے یعنی میرا بیٹا عابد (فرضی نام) موجود ہے اس لیے ایک طلاق ہو چکی ہے۔ اس واقعے کے کم و بیش چار دن بعد میں نے اور میرے شوہر نے مفتی صاحب کے کہنے پر گواہان اور حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیا۔ برائے مہربانی اس مسئلے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
بیٹے کا بیان: میرا فرضی نام عابد ہے۔میں 15 سال کا بالغ لڑکا ہوں۔ میں گواہ ہوں کہ دو سے تین ہفتے پہلے میرے والدین عمران اور مریم کے درمیان لڑائی ہوئی اور میں بھی اس وقت گھر میں موجود تھا اور سارا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے ہوا ۔میرے بابا شدید غصے کی حالت میں تھے۔ پہلے بابا نے میری ماں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ‘‘پھر بابا نے ماں کو سب بچوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ’’اپنے بچوں کو لے کر میرے گھر سے نکل جاؤ‘‘۔
شوہر کا بیان: میرا فرضی نام عمران ہے۔ کم و بیش دو سے تین ہفتے پہلے میری بیوی سے لڑائی ہوئی، میں شدید غصے کی حالت میں تھا۔ ہماری لڑائی والے واقعے کو دو سے تین ہفتے گزر چکے ہیں اس لیے بشری تقاضے کے تحت میرے بیان ،میری بیوی کے بیان اور میرے بیٹے کے بیان میں کوئی غلطی یا بھول ہو سکتی ہے مجھے جتنا یاد ہے وہ میں بیان کر رہا ہوں۔ میں نے طلاق کا لفظ اپنی زبان سے پورا مکمل ادا نہیں کیا ، میں نے صرف ’’طلا‘‘ کہا اور یہ جملہ کہتے ہوئے اپنی بیوی سے دور اپنے کمرے میں چلا گیا کہ ’’میں تمہیں طلا دیتا ہوں‘‘ پھر میں اپنے کمرے سے باہر آیا اور اپنے بیٹے کو کہا کہ ’’تم یہاں سے چلے جاؤ‘‘ پھر میں نے یہ کہا کہ ’’تم سب لوگ یہاں سے نکل جاؤ‘‘۔یہ سب جملے بولتے ہوئے میری اپنی بیوی کو طلاق دینے کی کوئی بھی نیت نہیں تھی۔ برائے مہربانی جو شرعی حکم ہے بیان فرمادیجئے۔
سائلہ: مریم(بیوی) ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں میاں بیوی کے بیان میں اختلاف ہے اور بیوی کے پاس کوئی شرعی گواہ نہیں لہذا قضاءً حکم یہ ہے کہ اگر شوہر اپنے بیان میں سچے ہیں تو یہاں اصلاً کوئی طلاق واقع نہ ہوئی۔شوہر کو اب بھی تین طلاق کا اختیار باقی ہے۔ البتہ انہیں طلاق جیسے نازک مسائل میں نہایت احتیاط لازم ہےکہ مسائلِ طلاق سے لاپرواہی جانے انجانے میں کئی خاندان تباہ کردیتی ہے۔
طلاق نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ غیر عرب میں لفظ کے آخر کا حذف معروف نہیں، لہذا مفتی بہ قول کے مطابق اس ادھورے لفظ سے اگرچہ نیت کرے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:"فائدة: قال في "الخانية ": وقال الفقيه أبو القاسم رحمه الله تعالى: لو أن عجمياً قال ذلك بالفارسية وحذف حرف الآخر لا يقع وإن نوى؛ لأنه غير معتاد في العجم، ولهذا لو قال لعبده: "تو آزا" ولم يذكر الدال لا يعتق وإن نوى، قال الصدر الشهيد رحمه الله: لا فرق بين العربية والفارسية إذا نوی صحت نيته اهـ. قلت: وتقديمه الأول يفيد أنه الأظهر الأشهر كما قد تقرّر، والله تعالى أعلم".ترجمہ:خانیہ میں امام قاضی خان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فقیہ ابو القاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر غیر عربی شخص اس قسم کا جملہ فارسی میں کہے اور آخری حرف حذف کردے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اگرچہ نیت کرے کیونکہ غیر عرب میں اس طور پر طلاق کا رواج نہیں۔ اسی لئے اگر مالک اپنے غلام سے کہے ’’تو آزا‘‘ اور حرف دال ذکر نہ کرے تو غلام آزاد نہیں ہوگا اگرچہ نیت کرے۔ جبکہ امام صدر الشہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نیتِ طلاق درست ہو تو عربی و فارسی کے حکم میں کوئی فرق نہیں۔ میں(امام احمد رضاخان رحمہ اللہ) کہتا ہوں کہ فقیہ ابو القاسم کی روایت کو امام قاضی خان کا مقدم کرنا اس بات کا فائدہ دیتا ہے یہ قول اظہر و اشہر ہے جیسا کہ گزرا، واللہ تعالی اعلم۔(جد الممتار،باب الصریح، مطلب فی قولہ علی الطلاق من ذراعی، 5/43،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
ضمناً یاد رکھیں کہ طلاق واقع ہونے کیلئے محض شوہر کا اقرارِ طلاق ہی کافی ہوتا ہےاگر چہ جھوٹا ہو،جیسا کہ رد المحتار میں ہے :" وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَا دِيَانَةً ".ترجمہ:اور اگر جھوٹ میں یا مذاق میںطلاق کا اقرار کیا تو قضا ءطلاق واقع ہوجائے گی ۔(رد المحتار ،کتاب الطلاق 3/236، دار الفکر)۔ پھر گواہی کا نصاب دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا: وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282) اور والدین کے حق میں اولاد کی گواہی بھی قبول نہیں اگرچہ بالغ ہوں کہ قدوری میں ہے:"ولا شهادة الولد لأبويه وأجداده".ترجمہ: اور نہ ہی اولاد کی گواہی والدین و اجداد کے حق میں قبول ہے۔(مختصر القدوری، کتاب الشہادات،ص:220،دار الكتب العلمية)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:5 جمادی الاولی 1446 ھ/8 نومبر 2024ء