سوال
ایک شخص نے دوسرے شخص کو کاروبار کیلئے ایک لاکھ روپے دیے اور ماہانہ 12 ہزار روپے( نفع ) مقرر کر رکھے ہیں، جبکہ وہ لاکھ دینے والا نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ وہ ایک لاکھ روپیہ بھی محفوظ ہیں جب چاہے وہ لاکھ لے سکتا ہے۔
نوٹ: پیسے چلتے کاروبار میں لگائے گئے ہیں اور صرف پرافٹ کا وعدہ کیا گیا ہے ،یہاں ایک لاکھ قرض نہیں دیا گیا ۔
سائل: محمد عابد ماتریدی المتخصص فی الفقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں شرکت فاسد ہوگی کہ شرکت نفع میں اشتراک کا تقاضا کرتی ہے اور یہ شرط کہ ماہانہ 12 ہزار ایک فریق وصول کرے گا اس شرکت کو قطع کرنے والی ہے پس یہ معاملہ قرض ہوجائے گا اور قرض پر مشروط و معروف نفع لینا سود و حرام ہے۔
یہ چلتے کاروبار کی صورت ہے جس میں سب سے پہلے سارا حساب کتاب کرنا ہوگا کہ کاروبار میں کتنا مال ہے کتنا سرمایہ ہے اور اس کی مختلف صورتیں بنیں گی؛جیسا کہ کاروبار میں رقم بالکل نہ ہو بلکہ صرف سامان ہو یا سامان کے ساتھ رقم بھی موجود ہوسکتی ہے۔ اگر کاروبار میں سامان کے ساتھ رقم بھی موجود ہو تو اس میں علماء کرام کا اختلاف ہے، البتہ جواز کی صورت میں نئے شریک کو شامل کرنے کا حیلہ شرعی یہ ہے کہ:
اوّلاً کاروبار میں موجود مال اور مارکیٹ میں واجب الوصول رقوم سب کو ملا کر کاروبار کی کل مالیت طے کریں۔ اس میں سابقہ شرکاء اپنے اپنے حصہ کی تعین کرلیں پھر اِس نئے شریک کا حصہ شامل کریں تا کہ تمام شرکاء کے حصے متعین ہوجائیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ بالفرض اگر نقصان ہوتا ہےتو تمام شرکاء کاروبار کے سرمائے میں اپنے حصے کے تناسب سےنقصان برداشت کریں گے۔ثانیاً (کہ جب شرکاء کا حصہ متعین ہوچکا) کاروباری سامان کا مالک شریک ،اپنے نصف کاروباری سامان کو اپنے ساتھی شریک کے نصف کاروباری مال (روپیہ)کے عوض بیچ دے، اور دونوں شریک اس پر قبضہ کرلیں، یوں کاروباری سامان اور مال کو ملا دیں کہ مال اور سامان ان دونوں شرکاء کے درمیان مشترک ہوجائیں، اب اس پر شرکۃ العقد (یعنی نفع کیلئے شرع کی طے کردہ شرائط کے تحت شرکت) کا عقد عمل میں لائیں جس کے نتیجے میں یہ عمل جائز ہوجائے گا۔
نیز دیگر شرائط کہ ایک فریق نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا اسی طرح اس کا سرمایہ محفوظ رہے گا یہ شروط فاسدہ ہیں۔لہذا اگر معین رقم کی شرط ختم کردی جائے تو بقیہ شرائط کے باطل ہونے اور چلتے کاروبار کے بیان کردہ حیلہ شرعی کے ساتھ یہ شرکت صحیح ہوجائے گی کیونکہ شرکت ایسا عقد ہے جو شروطِ فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتی بلکہ وہ شرط خود فاسد ہوجاتی ہے کہ شرکت میں نفع کے ساتھ نقصان کا ضمان بھی شریک پر اپنے سرمایے کے حصہ تناسبی کے حساب سے لازم ہوتا ہے، اسی طرح سرمایہ کاری میں سرمایے کے محفوظ رہنے کی شرط بھی مناسب عقدِ شرکت نہیں کہ یہ اصول قرض میں ثابت ہوتا ہے جبکہ شراکت داری میں سرمایے کو محل خطر میں پیش کیا جاتا ہے جس سے نفع بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی۔
علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم(المتوفی:1005 ھ) فرماتے ہیں:"(وتفسد) الشركة (وإن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) بأن قال أحدهما: لي مائة من الربح مثلًا والباقي يقسم. قال ابن المنذر: ولا خلاف في هذا لأحد من أهل العلم فإن قلت: الشركة كالمضاربة لا تبطل بالشرط الفاسد فكيف بطلت هنا؟ قلت: إنما بطلت لا لأن هذا شرط فاسد بل لأن هذا الشرط تنتفي به الشركة إذ عساه أن لا يخرج إلا قدر المسمى فيكون اشتراط جميع الربح لأحدهما على ذلك التقدير مخرج على القرض أو البضاعة".ترجمہ:اگر ایک فریق نے اپنے لیے شرکت میں یہ شرط رکھی کہ اسے نفع سے معین دراہم ملیں گے تو یہ شرکت فاسد ہوگی۔اس طور پر کہ ان میں سے ایک فریق کہے کہ میرے لیے نفع میں سے مثلا 100 درہم ہوں گے اور بقیہ نفع تقسیم ہوگا تو ابن منذر نے کہا کہ اہل علم میں سے (اسکے فساد پر)کسی کا بھی اس پر اختلاف نہیں۔اگر تم سوال کرو کہ شرکت مضاربت کی طرح ہے جو کہ شرط فاسد سے باطل نہیں ہوتی تو یہاں یہ کیسے باطل ہوگی؟ تو جوابا میں (صاحبِ نہر) کہوں گا کہ یہاں شرکت کا باطل ہونا اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ شرط فاسد ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یہ شرط شرکت کے منافی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نفع اسی قدر حاصل ہو جتنا اس نے معین کر دیا تو اس طور پر تمام نفع کسی ایک فریق کے لیے شرط ٹھہر جائے گا اور اس تقدیر پر یہ معاملہ شرکت سے نکل کر قرض اور بضاعت میں منتقل ہو جائے گا۔(النہر الفائق،کتاب الشرکۃ،3/302،دار الکتب العلمیۃ)
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"وشرط الضمان على الأخر فاسد، ولكن بهذا لا تبطل الشركة حتى لو عملا وربحا، فالربح بينهما على ما شرطا، فالشركة مما لا تبطل بالشروط الفاسدة".ترجمہ:نقصان کی شرط کسی ایک فریق پر عائد کرنا فاسد ہے لیکن اس شرط سے شرکت باطل نہیں ہوگی پس اگر دونوں نے عمل کیا اور نفع ہوا تو نفع طے شدہ کے مطابق تقسیم ہوگا اور شرکت ان عقود سے ہے جو شروع فاسدہ سے باطل نہیں ہوتی۔(المحیط البرہانی،کتاب الشرکۃ، الفصل الرابع فی العنان،6/33،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَلَوْ كَانَ مِنْ أَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ، وَمِنْ الْآخَرِ عُرُوضٌ، فَالْحِيلَةُ فِي جَوَازِهِ: أَنْ يَبِيعَ صَاحِبُ الْعُرُوضِ نِصْفَ عَرْضِهِ بِنِصْفِ دَرَاهِمِ صَاحِبِهِ، وَيَتَقَابَضَا، وَيَخْلِطَا جَمِيعًا حَتَّى تَصِيرَ الدَّرَاهِمُ بَيْنَهُمَا، وَالْعُرُوضُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ يَعْقِدَانِ عَلَيْهِمَا عَقْدَ الشَّرِكَةِ فَيَجُوزُ".ترجمہ:اگر ایک جانب سے دراہم ہو اور دوسری جانب سے سامان ہو تو ایسی شرکت کےجواز کا حیلہ یہ ہے کہ سامان کا مالک شریک اپنے نصف سامان کو اپنے ساتھی شریک کے نصف دراہم کے عوض بیچ دے، اور دونوں اس پر قبضہ کرلیں، اور دونوں کو ملا دیں تاکہ دراہم و سامان ان دونوں شرکاء کے درمیان مشترک ہوجائیں، اب اس پر شرکۃ العقد کا عقد عمل میں لائیں لہذا یہ عمل جائز ہوجائے گا۔(بدائع الصنائع،کتاب الشرکۃ،فصل فی بیان شرائط جواز انواع الشرکۃ،6/59،دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 ربیع الاول 1446 ھ/27ستمبر 2024ء