مجنون کی طلاق کا حکم
    تاریخ: 2 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 335

    سوال

    شوہر (سید عمران حسین قادری) کا بیان: میں نے تجھے طلاق دی یہ میں نے بولا لیکن اس وقت میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا ۔مجھے زبردستی جیسے کسی نے اٹھایا اور بولا بول اور اس کے بعد میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔

    بیوی (سیدہ ثنا عمران) کا بیان: اس روز (24-9-2024)صبح سب ٹھیک تھا دوپہر کے وقت یہ دوسرے کمرے سے اٹھ کر آئے اور کہا تجھے چاہیے تھی نا دی تجھے طلاق طلاق طلاق۔ یہ گزرے کچھ دنوں سے شدید ڈپریشن میں تھے اور پچھلے آٹھ سال سے ڈپریشن کے مریض ہیں اور زیر علاج بھی ہیں، دوا بھی لیتے ہیں کبھی نہیں لیتے ۔

    نوٹ: مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ طلاق دینے کے بعد شوہر کھڑکی کی طرف منہ کرکے کہنے لگے کہ ہوگئے سب خوش میں نے دے دی۔ نیز Neuro Rehab Centre کی رپورٹ کے مطابق شوہر Schizoaffective disorder کے مریض ہیں جو ایک دماغی بیماری ہےجس میں انسان خیالی مخلوقات کو دیکھتا ہے، اس کے ذہن میں بے ترتیب خیالات گردش کرتے ہیں، جس کی تائید شوہر کے کھڑکی کی طرف بات کرنے سے بھی ہوتی ہے۔ سائل: سید عمران حسین قادری، کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    یہاں اوّلا جنون کی اقسام جاننا اہم ہے، چنانچہ بالعموم مجنون کی دو اقسام ہیں :

    (۱) جو کلیۃ ً مجنو ن ہویعنی جسکی عقل مکمل زائل ہوگئی ہو ،اس کو اردو میں پاگل کہا جاتاہے۔

    (۲) جسکی عقل مکمل زائل نہ ہوئی ہو بلکہ اس کی عقل میں خلل واقع ہو گیا ہو جیسے معتو ہ (جس میں سمجھ کی صلاحیت کم ہواو ر وہ کلام صحیح کو کلام فا سد کے سا تھ ملا دیتا ہو لیکن وہ ما رتا نہیں اور نہ ہی وہ گالم گلوچ کرتاہے )جس کو اردو میں باؤلا کہا جا تا ہے۔ ایسا شخص اپنے فعل کا ارادہ بھی کرتاہے اور اپنے کلام کو سمجھتا بھی ہے لیکن عقل میں خلل کی وجہ سے وہ درست فیصلہ کرنے پر قا در نہیں ہوتا ۔

    ان دونوں قسم میں مبتلا افراد کی عقل سلامت اور کا مل نہ ہو نے کی وجہ سے ان کا ہر وہ فعل جو ضر ر ِمحض ہو یعنی اس میں نفع کا کوئی پہلو نہ ہو، ان پر نا فذ نہیں ہوتا، طلا ق بھی ضر ر ِمحض ہے اس لئے مجنو ن او رمعتو ہ کی طلاق بھی واقع نہیں ہو تی۔

    اسی طر ح وہ افراد جن کی عقل عا رضی طو ر پر زائل ہو جا ئےیا اس میں خلل آجائے ، تین قسم کے ہیں:

    (۱) دہشت زدہ کہ حیا ء یا خوف کی شدت کی وجہ سے اس کے حواس معطل ہو جائیں او روہ اپنی سُدھ بُدھ کھو بیٹھے۔

    (۲) مغمی علیہ یعنی ایسی بیما ری میں مبتلا ہو نا جس کی وجہ سے حواس اور قویٰ اپنے افعال سے رک جا تے ہو ں، اس میں عقل مکمل زائل نہیں ہوتی بلکہ مغلوب ہو تی ہے۔

    (۳) مبرسم سرسا م کی بیما ری میں مبتلا شخص جس کی وجہ سے اس کی عقل بھی مغلوب ہو جاتی ہے اور ادراک صحیح ختم ہو جا تا ہے ۔

    ان تما م افراد کی طلا ق بھی با لاتفاق واقع نہیں ہو تی کیونکہ جو علت (عقل کا زوال یا اس میں خلل آنا)مجنو ن یا معتو ہ میں طلاق کے وقوع سے ما نع ہے وہ ہی علت ان تما م افراد میں بھی پا ئی جاتی ہے۔

    بعد از تمہید ، صورت مسؤولہ میں سائلہ نے خود اقرار کیا ہے کہ ان کے شوہر ذہنی مریض ہیں اور ریہاب سینٹر کی رپورٹ بھی اسی کی شاہد ہے۔جو شخص ذہنی توازن کھو چکا ہو یا اسکے دماغ میں خلل ہو اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ تکلیف ِشرعی سلامتی عقل پر ہے، پس جب عقل زائل ہوجائے تو شرع اسے معاف رکھتی ہے۔نیز ایسا مریض صبی عاقل کے حکم میں ہوتا ہے کہ جس طرح صبی عاقل کے طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو کہ ادارک صحیح نہ ہو نے کی وجہ سے وہ اپنے اچھے اور برے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کے دماغی مریض ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    یہاں یہ اشکال نہ ہو کہ ایسا کونسا مجنون ہوسکتا ہے جسے اپنے کہے جملے یاد ہوں، اپنے مخاطب کو بھی جانتا ہو، کیونکہ ایسا ہونا محال نہیں بلکہ خود خاتم المحققین علامہ سید ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ لہذا يَسِّروا ولا تُعَسِّروا کے حکمِ رسول پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ صورت میں اسی پر فتوی دیا جاتا ہے کہ شوہر صبی عاقل کے حکم میں ہیں، لہذا یہاں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

    دلائل و جزئیات:

    معتوہ کے متعلق سنن ترمذی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:" رُفِعَ القَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَشِبَّ، وَعَنِ المَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ".ترجمہ: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے سونے والے سے حتی کہ بیدار ہو جائے اور بچے سے حتی کہ بالغ ہو جائے اور معتوہ سے حتی کہ صحیح العقل ہو جائے۔ (سنن الترمذی، ابواب الحدود، 4/32، رقم: 1423، مصطفى البابي الحلبي مصر)

    مشکاۃ المصابیح میں روایت ہے: "كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ".ترجمہ: ہر طلاق جائز ہے (واقع ہو جاتی ہے)مگر بچے اور مجنون کی طلاق واقع نہیں ہو گی۔(مشکاۃ المصابیح، باب الخلع والطلاق، الفصل الثانی، 2/979، رقم: 3286، المكتب الإسلامي بيروت)

    مجنون کے متعلق سنن ابی داود کی حدیث شریف ہے : "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ". ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فرمایا کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(۱) ایسا مجنو ن جس کا جنون اس کی عقل پر غالب ہو گیا ہو یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (۲) سونے والےسے جب تک وہ بیدارنہہو جائے۔ (۳) نا بالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔ (سنن ابی داؤد ، باب فی المجنون، 4/140، رقم الحدیث: 4401،المكتبۃ العصريۃ بیروت لبنان)

    طلاق مجنون کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "فَلَا يَقَعُ طَلَاقُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ لِأَنَّ الْعَقْلَ شَرْطُ أَهْلِيَّةِ التَّصَرُّفِ لِأَنَّ بِهِ يَعْرِفُ كَوْنَ التَّصَرُّفِ مَصْلَحَةً وَهَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ مَا شُرِعَتْ إلَّا لِمَصَالِحِ الْعِبَادِ".ترجمہ: مجنون اور صبی لا یعقل کی طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ عقل ہی اہلیتِ تصرف کی شرط ہے کہ اسی سے تصرف کا مصلحت ہونا معلوم ہوتا ہےاور یہ تصرفات بندوں کی ضروریات کیلئے مشروع ہوئے ہیں۔(بدائع الصنائع، كتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق ،3/99، دار الكتب العلمية)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ مدارِصحت ونفاذ تصرفات وترتیب احکام میں تو یہ عقل ہے یہ جو محض بے عقل ہے اس کے تصرفات رأساً باطل کہ اجازت اولیا کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے ، اور جو نفع وضررمیں قدرے تمیز حاصل، اور عقل سے کچھ بہرہ ہے، مثلا بیع وشراء کو سالب وجالب ملک اورغبن قلیل وکثیر میں تفرقہ اور مقصود تجارت حصول منفعت جانتاہے یا مسلوب الحواسی اس کی دائمی نہیں، نہ ہوش میں آنے کاوقت معین، گاہے عقل سے بیگانہ گاہے بالکل ہوشیار وفرزانہ، تو اس صورت میں امثال نکاح وبیع وشراء وغیرہا تصرف اس کے نفع وضرر دونوں کو محتمل، اس ولی کی اجازت پر موقوف رہیں گے، جسے ان تصرفات کا اس کے نفس ومال میں خود اختیار حاصل ہو، اگرولی نہیں یا ولی کو ایسے تصرفات کی خود پروانگی نہیں، یاہے مگر وہ جائز نہ رکھے، تو یہ باطل ہوجائیں گے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 19/623، رضافاؤنڈیشن لاہور)

    بعض مجنونوں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"فَإِنَّ بَعْضَ الْمَجَانِينِ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيُرِيدُهُ وَيَذْكُرُ مَا يَشْهَدُ الْجَاهِلُ بِهِ بِأَنَّهُ عَاقِلٌ ثُمَّ يَظْهَرُ مِنْهُ فِي مَجْلِسِهِ مَا يُنَافِيهِ، فَإِذَا كَانَ الْمَجْنُونُ حَقِيقَةً قَدْ يَعْرِفُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ فَغَيْرُهُ بِالْأَوْلَى، فَاَلَّذِي يَنْبَغِي التَّعْوِيلُ عَلَيْهِ فِي الْمَدْهُوشِ وَنَحْوِهِ إنَاطَةُ الْحُكْمِ بِغَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ الْخَارِجَةِ عَنْ عَادَتِهِ، وَكَذَا يُقَالُ فِيمَنْ اخْتَلَّ عَقْلُهُ لِكِبَرٍ أَوْ لِمَرَضٍ أَوْ لِمُصِيبَةٍ فَاجَأَتْهُ: فَمَا دَامَ فِي حَالِ غَلَبَةِ الْخَلَلِ فِي الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ لَا تُعْتَبَرُ أَقْوَالُهُ وَإِنْ كَانَ يَعْلَمُهَا وَيُرِيدُهَا لِأَنَّ هَذِهِ الْمَعْرِفَةَ وَالْإِرَادَةَ غَيْرُ مُعْتَبَرَةٍ لِعَدَمِ حُصُولِهَا عَنْ إِدْرَاكٍ صَحِيحٍ كَمَا لَا تُعْتَبَرُ مِنْ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ".ترجمہ: بعض مجنون ایسے ہو تے ہیں کہجوکچھ وہ کہہ رہے ہوتےہیں اسکووہ جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں اور ایسی با ت کرتےہیں کہ جن کواس کی حالت کا پتہ نہیں ہو تا وہ گواہی دینے لگے کہ یہ شخصعاقل ہے لیکن اسی مجلس میں اس سے ایسی با ت صا در ہوجاتی ہے جو اس کی سابقہ ہو ش مندی کی با توں کے منا فی ہو تی ہے ، تو جو حقیقی مجنون ہے کبھی وہ بھی اپنی کہی ہو ئی با توں کو جانتے بھی ہیں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو جو حقیقی مجنو ن نہیں ہیں وہ تو بدرجہ اولی ایسے ہو سکتےہیں(کہ دماغی خلل کے با وجود وہ اپنی با ت کو جانتے بھی ہوں اور اس کا ارادہ بھی کرتے ہوں)۔ اس تما م بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مدہوش اور ان جیسے دیگر افراد کے با رے میں جس با ت پر اعتما د کرنا چا ہیے وہ یہ ہے کہ خلاف عا دت واقع ہو نے والے اقوال وافعال میں حکم کا مدارغلبہ خلل پر ہے، اسی طرح کہا جائے گا اس شخص کے بارےمیں جس کی عقل میں بڑھاپے ،مرض یا اچانک مصیبت کے صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہو گیا ہو،جب تک اس کے اقوال وافعا ل میں خلل کا غلبہ رہے گا اس کے اقوال معتبر نہیں ہو نگے،اگر چہ وہ ان اقوا ل کو جانتا ہو اور ان کا قصد بھی کرتاہو؛ کیونکہ یہ معرفت اور ارادہ ادراکِ صحیح کی وجہ سے حا صل نہیں ہوتے اس لئےان کا اعتبا ر نہیں ہے جس طر ح عاقل نا با لغ بچے کی معرفت اور ارادہ کا اعتبا ر نہیں ہوتا۔(ردالمحتار، 4/452، مکتبہ امدادیہ ملتان)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:23 جمادی الاولی 1446 ھ/26نومبر 2024ء