سوال
1: 15 جمادی الاولی بمطابق 22جنوری 2019بروز منگل ،بوقت دوپہر میرے شوہر احمد خان کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوا ،معلوم یہ کرنا ہے کہ میری عدت کب ختم ہو گی جبکہ میں حاملہ بھی نہیں ہو ں۔
2: کیا عدت مکمل ہونے پر مجھے گھر سے باہر جانا اور کسی محرم کے گھر رات قیام کرناشرعا ضروری ہے ؟
3: میرے مرحوم شوہر نے مجھے حق مہر ادا نہیں کیا تھا اور مرحوم کا کوئی ترکہ بھی نہیں ہے ،اور وہ کرایہ کے گھر میں رہتے تھے اور ہماری کوئی اولاد نہیں ہے ،مرحوم کے والد ضعیف ہیں اور کرایہ کے گھر میں رہتے ہیں اوران کا صرف ایک بھائی ،تین بہنیں ہیں ، مرحوم کے بھائی نےاپنی کمائی سے میرا حق مہر ادا کیا ہے تو کیا مرحوم کے بھائی کی طرف سے ادائیگی ہو سکتی ہے ؟اور میرا لینا صحیح ہے ؟
4:اگر شرعا میرے دیور کا حق مہر ادا کرنا درست نہیں ہے ؟تو پھر کون ادا کریگا اور کس کے ذمے ہے؟
5: مرحوم پرمیرا کچھ قرض ہے وہ مرحوم کا بھائی ادا کر رہا ہے کیا وہ قرض ان کا بھائی اداکر سکتا ہے ؟ مگر کچھ قرض کی ادائیگی بقول مرحوم کے بھائی کے ادا ہو چکا ہے ،جس کا مجھے علم نہیں ہے چونکہ میرے شو ہر نے یہ بات مجھے نہیں بتائی ،پھر بھی ان کا بھائی وہ سارا قرضہ ادا کرنے کو تیار ہے جو ادا ہو چکے ہیں وہ اور جو نہیں ہوئے۔توایسی صورت میں میں وہ پیسے وصول کر سکتی ہوں جن کوادا کیئے جانے کاکہا گیا ہے؟
6: عدت مکمل کر نے کے بعدمیں اپنے مرحوم شوہر کے ماں ،باپ ،بھائی اور بہنوں سے رابطہ رکھ سکتی ہوں ،ان سے ملنے جا سکتی ہوں ،اور مرحوم کے والدین ضعیف ہیں کیا میں اپنی ذریعہ آمدنی سے ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں مدد کر سکتی ہو ں ؟میرے مرحوم شوہر نے کی کچھ آرزوئیں تھیں جن کا اظہار انہوں نے مجھ سے کیا تھا اور اس کی تکمیل کے لیئے مجھے تعاون کا کہا تھا اور میں نے بھی اقرار کیا تھا ،تو کیا صرف اللہ کی رضا کی خاطر مرحوم کی ان خواہشات کو پورا کر سکتی ہوں ؟
سائل:بیوہ احمد خان،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: ہر وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر جائے اس کی عدتِ وفات شوہر کے انتقال کے بعد سے پورے چار مہینے دس دن ہےجس میں پانچویں مہینے کے دس دن کے ساتھ دس راتیں بھی شمار ہونگی۔لہذا15 جمادی الاولی کے اعتبارسے آپ کی عدت25 رمضان المبارک تک ہو گی ۔
اورعدت کے احکام یہ ہیں :
1: بلاضرورت گھر سے باہر جانا جائز نہیں ہے البتہ معاش کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو دن میں روزگار کے سلسلے میں جانا جائز ہے لیکن رات شوہر کے گھر میں ہی گزار نا ہوگا ۔
2: عدت کے دوران زیب و زینت کے تمام کا موں کا ترک کرنا ہے ،مثلا خوشبو لگانا ،بلا ضرورت سر میں تیل کا استعمال کرنا ، زیورات پہنا،بلاضرورت آنکھوں میں سرمہ لگانا اور زیب و زینت کے کپڑے پہننا وغیرہ جا ئز نہیں ہے ۔
3: دوران عدت کہیں سفر کرنا چاہے محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے ۔ان کے علاوہ گھر کے کام کاج اورگھر میں ہی رہتے ہو ئے دیگر مصروفیات کا عدت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
المبسوط للسرخسی میں ملخصاًو متغیراًہے:فَأَمَّا عِدَّةُ الْوَفَاةِ فَإِنَّهَا لَا تَجِبُ إلَّا عَنْ نِكَاحٍ صَحِيحٍ فَعِدَّتُهَا مَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ }۔۔۔۔۔۔ أَنَّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ مُعْتَبَرَةٌ مِنْ وَقْتِ الزَّوْجِ عِنْدَنَاوَأَمَّا الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَلَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِالنَّهَارِ لِحَوَائِجِهَا وَلَكِنَّهَا لَا تَبِيتُ فِي غَيْرِ مَنْزِلِهَا ،وَلَا يَنْبَغِي لِلْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَحُجَّ وَلَا تُسَافِرَ مَعَ مَحْرَمٍ وَغَيْرِ مَحْرَمٍ ،أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا يَلْزَمُهَا الْحِدَادُ فِي عِدَّتِهَا، وَهَذَا لِمَا رُوِيَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ۔۔۔۔۔«لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»وَصِفَةُ الْحِدَادِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَلَا تَدَّهِنَ وَلَا تَلْبَسَ الْحُلِيَّ وَلَا الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْعُصْفُرِ أَوْ الزَّعْفَرَانِ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ التَّزَيُّنُ وَلَا تَدْهُنُ رَأْسَهَا لِزِينَةٍ فَإِنَّ الدُّهْنَ أَصْلُ الطِّيبِ وَإِنْ اسْتَعْمَلَتْ الدُّهْنَ عَلَى وَجْهِ التَّدَاوِي بِأَنْ اشْتَكَتْ رَأْسَهَا فَصَبَّتْ عَلَيْهِ الدُّهْنَ جَازَ لِأَنَّ الْعِدَّةَ لَا تَمْنَعُ التَّدَاوِي وَإِنَّمَا تَمْنَعُ مِنْ التَّزَيُّنِ. وَلَا تَكْتَحِلُ لِلزِّينَةِ أَيْضًا فَإِنْ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَكْتَحِلَ بِالْكُحْلِ الْأَسْوَدِ ۔ترجمہ:اور عدت وفات نکاح صحیح ہی کی وجہ سےواجب ہے ،اور اس کی عدت (وہی ہے )جو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا "اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو تم پر مُواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔اور ہمارے نزدیک عدت وفات کی مدت شوہر کے انتقال کے وقت سے ہے اور بیوہ ا پنی ضروریات کے لئے دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے لیکن اپنے گھر کے علاوہ میں رات گزار نہیں سکتی۔اور عدت گزر نے والی عورت کے لیئے جا ئز نہیں ہے کہ وہ دوران عدت حج کرے اور کہیں سفر کرے چاہے کسی محرم کے ساتھ ہو یا محرم کے بغیر ۔عدت وفات گزر نے والی عورت کے لیئےدوران عدت سوگ لازم ہے ،اور یہ اس وجہ سے ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا سے روایت کی گئی ہے (رسول اللہ ﷺنے فر مایا ہے کہ)کسی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے مگر اپنے شوہر پر چار مہینے اور دس دن تک (سوگ منانا لازم ہے )اور سوگ سے مراد یہ ہے کہ خوشبو ،تیل اور زیورات کا استعمال نہ کرے ،زعفران یا کسی اور رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے کیوں کہ ان سب سے مقصود زینت کا حصول ہوتا ہے ،اور زینت کے لئے سر پر تیل کا استعمال نہ کرے اس لیئے کہ تیل اصلا خوشبو ہے ،اور اگرعلاج کے طور پر استعمال کا کیا کہ سر میں درد وغیرہ تھا تیل لگا لیا تو جا ئز ہے اس لیئے کہ عدت میں علاج کرنا منع نہیں بلکہ زینت اختیار کرنا منع ہے،اور زینت کے لیئے سرمہ کا استعمال نہ کرے اور اگر آنکھ میں کوئی تکلیف ہے تو سیاہ سرمہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( المبسوط للسرخسی ،باب العدۃ ،ج:۶،ص:30تا 59،طبع:دارالمعرفۃ،بیروت)
(2):نہیں شرعا اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسی باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
3: 4:مہر خالصتا زوجہ کا حق ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی(جلد از جلد یا بدیر )شوہرکے ذمے واجب ہو تی ہے لیکن چونکہ آپ کے کہنے کے مطابق آپ کے شوہر نے ادائیگی نہیں کی اور ان کا کوئی ترکہ نہیں ہے تو اب آپ اگرچاہیں تو معاف کرلیں اور اجر عظیم پائیں اورچاہیں تو اس کی جزاا ٓخرت پر موقوف رکھیں۔اور آپ کے شوہر کے بعد ان کے قرضہ جات کی ادائیگی کسی پر لازم نہیں ہے البتہ ان کے والد ،بھائی یا کوئی اور ادا کر دے تو مہر ادا ہو جائے گا اورآپ کے شوہر اپنے ذمے سے عہدہ براءہو جا ئے گا اور آپ کا لینا بھی صحیح ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ"ترجمہ: ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں (شوہروں)پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں (کے مہر وغیرہ )کےمتعلق۔(الاحزاب :۵۰)
بدائع الصنائع میں بالتغییر ہے :أَنَّهُ يَجِبُ بِإِحْدَاثِ الْمِلْكِ، وَالْمِلْكُ يَحْدُثُ عَقِيبَ الْعَقْدِ بِلَا فَصْلٍ ؛وَإِذَا طَالَبَتْ الْمَرْأَةُ بِالْمَهْرِ يَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ تَسْلِيمُهُ أَوَّلًا۔ترجمہ:ملک کے ثابت ہوتے ہی مہر (شوہر کے ذمے)واجب ہوجا تا ہے اور ملک ،عقد(عقدنکاح)کے فورا بعدثا بت ہوجا تا ہے ،اور جب عورت مہر کا مطالبہ کرے تو شوہر پر پہلی فرصت میں ادئیگی واجب ہو جائیگی ۔(بدائع الصنائع،فصل ما یجب بہ المہر ،ج:۳،ص:۲۸۸،طبع:دار الکتب العلمیہ)
تحفۃ الفقہاءاور تبیین الحقائق میں ہے :"التَّبَرُّعَ بِإِسْقَاطِ الدَّيْنِ بِأَنْ يَقْضِيَ دَيْنَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إذْنِهِ صَحِيحٌ۔ترجمہ:بغیر کسی عوض کےدین کو ساقط کرنا اس طور پر کہ کسی دوسرے شخص کا قرضہ اس کی اجازت کے بغیر ادا کیا تو (ادا ئیگی )صحیح ہے ۔( تحفۃ الفقہاء،کتاب الصلح ،ج:۳،ص:۲۵۷،طبع:دار الکتب العلمیہ، تبیین الحقائق فصل الصلح جائز فی دعوی المال ، ج:۵،ص:۴،طبع:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
5:اوپر اس بات کی وضاحت ہو چکی کہ مرحوم کے قرضہ جات کی ادا ئیگی ان کی وارثت سے ہونے تھی لیکن چونکہ آپ کے کہنے کے مطابق انہوں کچھ بھی نہیں چھوڑا تو اب ان قرضہ جات کو ادا کرنا کسی پر بھی لازم نہیں ہے۔ ہا ں !اگر ان کا بھائی ادا کرنا چاہتا ہے تو ان کے ادا کرنے سے ادا ہو جائیں گے لیکن مرحوم کے بھائی پر لازم نہیں ہے ۔اور جہاں تک ان قرضوں کی بات ہے کہ جن کی ادائیگی بقول مرحوم کے بھائی کے ہو چکی ہےشرعا اس کے لیئے کوئی ثبوت (تحریر وغیرہ )یا گواہ چاہیئے ،اگر نہیں تو جن ،جن کا قرضہ ہے وہ وصول نہ کرنے پر قسم اٹھا ئینگے ۔لیکن چونکہ آپ کے بیان کے مطابق مرحوم کا بھائی سارا قرضہ ادا کرنے پر راضی ہیں تو اگر آپ اپنے بیان میں سچی ہیں کہ آپ نے کچھ بھی وصول نہیں کیا تو آپ وہ پیسے لے سکتی ہیں ،اور چاہیں تو معاف بھی کر سکتی ہیں کیوں کہ اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۔ترجمہ: اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللّٰہ کے محبوب ہیں۔ (البقرہ:195)
6:شوہر کے انتقال کے بعد نکاح ختم ہو جاتا ہے لیکن شوہر کے والدین پھر ان کے والدین وغیرہ اسی طرح اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد سے رشتہ ختم نہیں ہو تا بلکہ ہمیشہ کے لیئے محرم رہتے ہیں اور ان کے وہی حقوق ہیں جو شوہر کی زندگی تھےلہذا آپ کا ان کی مدد کرنا درست ہے بلکہ صلہ رحمی اور دوہرا ثواب ہے ،ایک صدقہ کا اور صلہ رحمی کا ۔اور جہاں تک بات شوہر کے بھائی اور بہنوں کی ہے جس طرح پہلے دیور سے پردہ تھا اب بھی ہے ،اور پہلے بھی نا محرم تھے اب بھی ہیں اور ان کے بہنوں سے رابطہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اللہ کی رضا کے لیئے ہو تو بڑا ثواب ہے ۔اور رہے مرحوم کے وہ خواہشات ،جن کی آپ تکمیل کرنا چاہتی ہیں ، اگر وہ جائز خواہشات ہیں تو بالکل آپ ان کو پورا کر سکتی ہیں اور اس میں آپ کے (ان شاءاللہ)بڑا ثواب ہے ۔
مبسوط سرخسی میں ہے :وَإِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِمِلْكِ يَمِينٍ أَوْ نِكَاحٍ أَوْ فُجُورٍ يَحْرُمُ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَابْنَتُهَا وَتَحْرُمُ هِيَ عَلَى آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ۔ترجمہ:اور جب کوئی شخص کسی عوت سے وطی کرتا ہے اس وجہ سے کہ وہ عورت اس کی باندی ہے ،یا بیوی ہے،یااس کے ساتھ زناء کرتا ہے تو اس شخص پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو جائینگی اور اس مرد کے والد ،اجداداور بیٹے اس عورت پر حرام ہو جائینگے ۔ (مبسوط سرخسی (کتاب النکاح ،ج:۴،ص:۲۰۴،طبع:دارالمعرفۃ ،بیروت)
اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (المائدہ:2)
الجامع البخاری میں ہے :فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى البَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ، فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي، وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي؟ وَقُلْنَا: لاَ تُخْبِرْ بِنَا، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «مَنْ هُمَا؟» قَالَ: زَيْنَبُ، قَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ؟» قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «نَعَمْ، لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ القَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ»ترجمہ:میں (حضرت عبد اللہ ابن مسعود کی زوجہ بی بی زینب رضی اللہ عنھما) حضور ﷺ کی بارگا ہ میں حاضر ہوئی تو وہاں انصار کی خواتین میری طرح اپنی حاجتوں کے سلسلے میں موجود تھیں،اسی اثناء میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو میں نے کہا حضور سے عرض کریں کہ میرے جائز ہے کہ میں اپنے شوہر اور ان یتیموں پر خرچ کروں جو میری کفالت میں ہیں ،اور ہم نے کہا ہمارا نہیں بتا نا ،تو وہ اندر چلے گئے اور حضور سے پوچھا ،تو آپ نے فرمایا کون ہیں وہ ؟حضرت بلال نے عرض کیا زینب !آپ ﷺ نے پوچھا کونسی زینب ؟عرض کیا حضرت ابن مسعود کی زوجہ ،تو آپ نے فرمایا ہاں !کرسکتی ہیں ان کے لیئے دو اجر ہیں ایک صلہ رحمی کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔(الجامع البخاری،باب الزکاۃ علی الزوج والایتام ،ج:۲،ص:۱۲۱،طبع:دار طوق النجاۃ )
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23جمادی الاخری 1440 ھ/01مارچ 2019ء