سوال
میں جاب کرتی ہوں اور میرے شوہر بھی کام کرتے ہیں،اللہ کا شکر ہے ہم قربانی کرسکتے ہیں مگر میرے بہن بھائی اور میرے شوہر کے بہن بھائی وہ سب پریشان ہیں۔کوئی راشن کیلئے،کوئی قرضدار ہے،کوئی کرایہ کے مکان میں کرایہ نہیں دے پارہا،کسی ہی بجلی کا بل ہے۔ہم اللہ کے کرم سے ان کیلئے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ ہم قربانی کے پیسوں سے ان کی مدد کرسکتے ہیں؟ ہماری قربانی ہوجائے گی یا نہیں؟مجھے بتائے کہ میں جانور کی قربانی کروں یا ان پیسوں سے ان کی مدد؟
سائل:بنت حواء۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کسی بھی قسم کا مالی صدقہ قربانی کا بدل نہیں، نہ ہی دین کے فرائض و واجبات کو ساقط کرنے کا کسی کو اختیار ہے،لہذا اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو آپ پر قربانی واجب ہے ،ان پیسوں سے رشتے داروں کی مدد آپ کیلئے جائز نہیں اگر کی تو قربانی نہیں ہوگی اور گناہ بھی لازم آئے گا۔
تفصیل ہے کہ مسلمان کا معنی ہے اللہ اور اسکے رسولﷺ کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے والا۔کسی مسلمان کو یہ اختیار نہیں کہ اپنی عقل سے اللہ اور اسکے رسولﷺ کے حکم پر کسی اور عمل کو ترجیح دےاور حکم خداوندی و حکم حبیبﷺ کو مرجوح اور غیر ضروری قرار دے کہ یہ عمل اللہ اور اسکے رسولﷺکی نافرمانی اور کھلی گمراہی ہے۔قربانی کاحکم اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں دیا:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ.(الکوثر:2)۔ اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ ٰ کی بارگاہ میں قربانی کے دنوں میں کوئی بھی عمل قربانی کی نیت سے جانور کاخون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔نیز احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے متعلق وعید بھی وارد ہوئی جو شخص مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرےفرمایا:’’وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے‘‘ ۔ہاں اگر واقعۃً خدمت ِخلق اور رشتے داروں سے حسن سلوک کا ارادہ ہو تو اپنے روز مرّہ کے اخراجات یا تَعیُّشات میں کمی کرکےیہ رقم غریب عوام پر صرف کرے تو یہ اُن کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری اور اعلیٰ انسانی قدر شمار ہوگی۔
نیز قربانی بھی ضرورت مند انسانوں کی خدمت کا ایک ذریعہ ہے۔مویشی پالنے والے لوگ سال بھر اِسی آس پر جانور پالتے ہیں کہ ایامِ قربانی میں اُنہیں فروخت کرکے اپنی سال بھر کی ضروریات پوری کریں گے۔ قربانی کے گوشت سے بھی غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جاتی ہے اورکھال بھی ناداروں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے،مزید یہ کہ قربانی اسلام کا ایک شِعار ہے۔حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام اور امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہﷺ کی سنّتِ جلیلہ ہے اور اس کی بے شمار شرعی حکمتیں اور برکات ہیں۔
دلائل و جزئیات:
اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا. ترجمہ: اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بےشک صریح گمراہی بہکا۔(الاحزاب:36)
قربانی کے ایام میں اللہ عزوجل کو قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے،سنن ترمذی کی روایت ہے:"عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلاَفِهَا، وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا". ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے، پس اس خوشخبری سے اپنے دلوں کو مطمئن کر لو۔(سنن ترمذی،ابواب الاضاحی،باب ما جاء فی فضل الاضحیۃ،3/153،رقم:1493،دار الغرب الاسلامی)
جو شخص مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرےاس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا". ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو وسعت ہو اور وہ (قربانی کے ایام میں) قربانی نہ کرے، تو وہ ہمارے مصلی (عید گاہ) کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الاضاحی،باب الاضاحی ، واجبة هي أم لا،2/1044،رقم:3123،دار احیاء الکتب العربیۃ)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"لا يقوم غيرها مقامها في الوقت، حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزئه عن الأضحية".ترجمہ: قربانی کے قائم مقام کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی ہے جب تک قربانی کا وقت باقی ہو۔اسی لئے اگر کسی نے بعینہ بکری یا بکری کی قیمت قربانی کے دنوں میں صدقہ کر دی اس کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الاضحیۃ،الباب الاول ،5/293-294،دار الفکر)
مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جس پر قربانی واجب ہے اُسے حرام ہے کہ قربانی نہ کرے اور اس کی قیمت کسی فنڈمیں دے دے اس سے ہرگز قربانی ادا نہ ہوگی واجب کا تارک ہوگا اور عذاب کا مستحق‘‘۔(فتاوی رضویہ،10،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنّان اعظمی (المتوفی:1434ھ) فرماتے ہیں:’’ حضور علیہ الصلاة والسلام کی حدیث ہے: "ضحوا فإنها سنة أبيكم إبراهیم".ترجمہ: ’’قربانی کرو کیوں کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘۔اس حدیث میں"ضحّوا" امر کا صیغہ ہے۔امر وجوب کے لیے ہے، اسی سے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے صاحب ِاستطاعت پر قربانی واجب کی۔(فتاوی بحر العلوم، كتاب الاضحيۃ، 5/182،شبیر برادرز لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں۔(۱) اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں،(۲)اقامت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں،(۳)تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوۃ واجب ہوتی ہے، (۴)حر یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کریگا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے‘‘۔(بہار شریعت،قربانی کا بیان،3/332،مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:29 ذوالقعدہ 1444 ھ/19 جون2023ء