حق مہر کی ادائیگی والد کی طرف سے
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 447

    سوال

    زید کےسات بیٹے ہیں اس نے اپنی حیات میں اپنےتمام بیٹوں کی شادی کرادی تھی اور تین بیٹوں کے حق مہر میں اس نے زمینیں دی تھیں اور وہ زمینیں ان کی بیویوں کے نام کراکےان پر قبضہ بھی دے دیا تھا جبکہ باقی چارکے حق مہر میں پیسے اور سونا دیا تھا ۔ چند سال پہلے زید کا انتقال ہوچکا ہےاور اس کی وراثت میں اسکی زمینیں ہیں ۔

    اس حوالے سے درج ِذیل امور دریافت طلب ہیں ۔

    1:جو زمینیں حق مہر میں دی جا چکی ہیں کیا وہ بھی وراثت میں تمام بھائیوں کے درمیان تقسیم ہونگی یا نہیں ؟

    2:زید کے بعض بیٹوں کا کہناہے کہ والد صاحب نےجن بیٹوں کے حق مہر میں جو زمینیں دی ہیں وہ انکی وراثت کے حصے سے دی گئی تھیں لہذا وہ وراثت میں شامل کی جائینگی ۔جبکہ وہ بیٹے جن کے مہر میں زمینیں دی گئی تھیں انکا کہنا ہے کہ اگر مہر میں دی گئی زمینیں وراثت میں شامل کی گئی تو مہر میں دیئے گئے پیسے اور سونا بھی شامل کرنا پڑے گا !تو کیا ان کی یہ باتیں درست ہیں ؟

    برائے کر م شرع شریف کی روشنی اس مسئلہ کا حل عنایت فرمائیں ۔(بینوا توجروا)

    سائل :عطاء الرحمن: کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے قبل چند باتوں کو سمجھنا چاہیئے ۔

    1:شرع شریف میں ہر وہ چیز جس کو میت اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں چھوڑکر جائے وہ ترکہ (مال وراثت )ہوتا ہے۔ کتاب التعریفات للجرجانیمیں ہے:"الترکۃماترک الانسان صافیا خا لیاعن حق الغیرو،وترکۃ المیت متروکہ۔ترجمہ:ہر وہ چیز جس کو انسان (میت )چھوڑ دےاور وہ کسی دوسرے کے حق سے خالی ہو ،اور میت کا ترکہ اسکا چھوڑا ہو امال ہے ۔( کتاب التعریفات للجرجانی،باب التاء،ص: 64 طبع : قدیمی کتب خانہ)

    2: مہر خالصتا زوجہ کا حق ہوتا ہے اس میں اسکے والدین کا نہ ہی اس کے شوہر کا کوئی حق ہے اور مہر کی ادائیگی(جلد از جلد یا بدیر )شوہرکے ذمے واجب ہو تی ہے لیکن اگر اسکے والد یا کوئی اور ادا کر دے اور شوہر اس پر راضی ہو تو مہر ادا ہو جائے گا اور شوہر اپنے ذمے سے عہدہ براں ہو جا ئے گا اور جیسے ہی عورت اپنے مہر پر قبضہ کریگی تو اس کا مالک بن جائیگی ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ۔ترجمہ: ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں (شوہروں)پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں (کے مہر)کےمتعلق۔(الاحزاب :50)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ مہر کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں "اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج إما بالتسمية أو بالعقد ترجمہ:مہر اس مال کا نام ہے جو شوہر پر عقد نکاح کے وقت واجب ہوجا تا ہےیا مہر مقرر کرنے کے ساتھ یا عقد کے ساتھ ۔ (رد المحتار، فصل فی المہر،ج:3ص:101،طبع:دار الفکر ،بیروت)

    بدائع الصنائع میں بالتغییر ہے :أَنَّهُ يَجِبُ بِإِحْدَاثِ الْمِلْكِ، وَالْمِلْكُ يَحْدُثُ عَقِيبَ الْعَقْدِ بِلَا فَصْلٍ ؛وَإِذَا طَالَبَتْ الْمَرْأَةُ بِالْمَهْرِ يَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ تَسْلِيمُهُ أَوَّلًا۔ترجمہ:ملک کے ثابت ہوتے ہی مہر (شوہر کے ذمے)واجب ہوجا تا ہے اور ملک ،عقد(عقدنکاح)کے فورا بعدثا بت ہوجاتا ہے،اور جب عورت مہر کا مطالبہ کرے تو شوہر پر پہلی فرصت میں ادئیگی واجب ہو جائیگی ۔( بدائع الصنائع،فصل ما یجب بہ المہر ،ج:3، ص : 288،طبع:دار الکتب العلمیہ)

    تحفۃ الفقہاءاور تبیین الحقائق میں ہے :"التَّبَرُّعَ بِإِسْقَاطِ الدَّيْنِ بِأَنْ يَقْضِيَ دَيْنَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إذْنِهِ صَحِيحٌ" ترجمہ:بغیر کسی عوض کے دین کو ساقط کرنا اس طور پر کہ کسی دوسرے شخص کا قرضہ اس کی اجازت کے بغیر ادا کیا تو (ادا ئیگی )صحیح ہے ۔(تحفۃ الفقہاء،کتاب الصلح ،ج : 3 ص :257 ، طبع:دار الکتب العلمیہ، تبیین الحقائق ،فصل الصلح جائز فی دعوی المال ،ج:5ص:4طبع:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

    3:شریعت مطہرہ میں بیوی کو مہر کے عوض دیا ہوا مال یا کسی بھی گفٹ کو اس کی رضامندی کے بغیر واپس لینا اشد حرام ہے ۔اللہ تعالی کافرمان ہے :"وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا "ترجمہ:اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو۔(البقرہ: 229)

    تفسیر جلالین میں اس آیت کے تحت ہے:{ وَلَا يَحِلّ لَكُمْ} أَيّهَا الْأَزْوَاج {أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ} مِنْ الْمُهُور {شَيْئًا}ترجمہ: اور تمہیں (اے شوہرو)روا نہیں کہ جو کچھ (مہر)عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ(بھی) واپس لو۔( تفسیر جلالین ،ص: ۳۴،طبع:قدیمی کتب خانہ ،کراچی)

    اس ان امورکو جانےکے بعدجواب ملاحظہ کریں :

    1:آپ کے بیان کے مطابق زید نے زمینوں کو مہر میں دینے کے بعد قبضہ دے دیا تھا اوران کی وہ بہو جن کومہر میں زمینیں دی گئی تھیں ان کے قبضہ کرتے ہی وہ زمینیں زید کی ملکیت سے نکل گئی تھیں لہذا جب زید کا انتقال ہوگیا تو وہ زمینیں اس کی ملکیت میں نہ ہونے کی وجہ سے ترکہ میں داخل نہیں ہیں لہذا تقسیمِ وراثت میں شامل نہیں ہونگی۔

    2:جب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مہر خالصتا عورت کا حق اور اس کا ملک ہے لہذا مہر میں دی ہوئی زمینیں اور سونا وپیسہ وراثت کا حصہ نہیں ہیں تو تقسیم میں کیونکر داخل ہونگے۔؟؟

    سوال میں مذکوریہ صورت تب ہو سکتی تھی جب زید اپنی زندگی میں ہی زمینوں کی تقسیم کرتے اور بعض بیٹوں کو کم اور بعض کو زیادہ دیتے لیکن شرعا اس طرح کرنا بھی جائز نہیں ہیں تا ہم اگر اپنی زندگی میں ہی زمینوں کی تقسیم کرتے تو نافذ ہوجاتی ۔البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے اور اگر سارا مال ایک اولاد کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق ،کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7ص:288)

    خلاصہ:

    خلاصہ یہ ہے کہ مہر کے عوض دی ہوئی زمینیں اور سونا وپیسہ تقسیم وراثت میں ہر گز شامل نہیں ہوگا اگر شامل کر لیا گیا تو یہ مہر کا واپس لینا ہوگا جو کہ سخت حرام ہے ۔اور اگریہ کہا جائے کہ تقسیم وراثت میں شامل کر لینے کے بعد وہ زمینیں شوہر کے حصے میں داخل کر کے واپس ان کی بیویوں کو دی جائینگی تو ایسا کرنا بھی نا جائز ہے کیونکہ اس صورت میں وراثت کی تقسیم برابری کی بنیاد پر نہیں ہو گی جبکہ بھائیوں کے درمیان ترکہ برابر ،برابر تقسیم کرنا ضروری ہےاور جن زمینوں کو شامل کر کے بظاہربرابر ،برابر تقسیم کیا گیا شرعا وہ وراثت کا حصہ ہی نہیں ہیں ۔

    مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ.ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ: عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:24ذوالحجہ 1439 ھ/05ستمبر 2018 ء