wirasat ke makan par kharch ki gayi raqam ka taqaza
سوال
بڑے بھائی نے وراثت کے مکان میں کچھ رقم لگائی جب رقم لگائی تو انہوں نے کہا تھا جو رقم لگارہا ہوں وہ واپس کروں گا۔ اب ان کا کہنا ہے کہ گھر بناتے وقت میں نے اپنی رقم لگائی ہے اور اب جب گھر بیچ رہے ہیں تو بول رہے ہیں کہ کل رقم کا 40 فیصد میں لونگا ، جبکہ جو رقم انہوں نے لگائی وہ 40 فیصد سے کم ہے۔اس بات کا ہمارے اسلام اور شریعت میں کیا حکم ہے ؟
ہم اپنے والد سے پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں اور مکان کی کل رقم 1 کروڑ 15 لاکھ روپے ہیں۔کل رقم کی شرعی تقسیم کردیں ۔
سائل:محمد امتیاز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہےتو وہ رقم جو آپ کے بھائی نے مکان پر لگائی وہی انکو دی جائے گی،خواہ وہ کل رقم کا چالیسواں حصہ ہو یا نہ ہو۔باقی ماندہ رقم کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ اس رقم کے 13 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ہر بہن کو ایک حصہ اور ہر بھائی کو دو حصے دیے جائیں گے ۔
لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین : ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ:ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 شعبان المعظم1440 ھ/30 اپریل 2019 ء