سوال
سود سے لئے ہوئے پیسے کیا حیلہ کے بعد دینی مدارس میں خرچ کئے جا سکتے ہیں؟
سائل: سائل بلال مکی کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ شرعی حیلہ صرف اس وقت جائز ہوتا ہے جب اس کے پیچھے کوئی حقیقی شرعی ضرورت یا مصلحتِ عامہ موجود ہو، لہٰذا بلاوجہ شرعی حیلہ کرنا شرعاً ممنوع اور ناجائز ہےکہ اس میں مقصد شریعت کو باطل کرنا پایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر، اگر سود یا حرام رقم سے پیچھا چھڑانے کیلئے وہ مخصوص شرائط موجود نہ ہوں جن کے تحت حیلے کی گنجائش نکلتی ہے، تو محض رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے ممنوع حیلہ سازی کرنا اور اسے مدارس کے مصارف میں لگانا ہرگز جائز نہیں۔ اس جواز کیلئے پہلی بنیادی شرط حقیقی ضرورت و حاجتِ شرعیہ کا ہونا ہے، یعنی جس دینی کام کیلئے حیلہ کیا جا رہا ہو اس کی شدید حاجت ہو اور اس رقم کے سوا کوئی دوسرا متبادل موجود نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد فی نفسہٖ نیکی اور باعثِ ثواب ہو، نہ کہ کسی گناہ یا فضول کام کی تکمیل۔ تیسری اہم شرط مقصودِ شریعت کا تحفظ ہے تاکہ حیلہ محض اللہ کے احکامات سے بچنے کا ایک ظاہری بہانہ نہ بن جائے بلکہ شریعت کے اصل مقاصد برقرار رہیں۔
اگرچہ فی نفسہٖ کسی شرعی فقیر کو مالک بنا کر رقم مدرسے میں دینے کی ایک صورت موجود ہے، لیکن اس کا مدار صرف اور صرف مذکورہ بالا حقیقی ضرورت پر ہے، اگر یہ مفقود ہو تو یہ حیلہ سازی قبیح و ممنوع قرار پائے گی۔ بالخصوص سودی رقم کے معاملے میں، جہاں عوامی حساسیت اور فتنہ و فساد کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے، وہاں بلاوجہ شرعی حیلہ کرنا مدارس کی ساکھ اور دینی وقار کے بھی منافی ہے۔ لہٰذا، جب تک شرعی ضرورت کے تمام تقاضے پورے نہ ہوں، سودی مال کا حیلہ کر کے اسے مدارس میں لگانا ناجائز ہے، کہ نہ تو حرام مال کی حوصلہ افزائی ہو اور نہ ہی شریعت کے احکامات کے ساتھ کھیل کھیلا جائے۔ اس کیلئے درست طریقہ کار یہی ہے کہ جب حاجتِ شرعیہ ثابت ہو جائے تو وہ رقم کسی شرعی فقیر کو بلا نیتِ ثواب دے کر اسے مکمل مالک بنا دیا جائے، پھر وہ اپنی مرضی و اختیار سے بغیر کسی دباؤ کے اسے مدرسے کو ہبہ کر دے، ورنہ اس کے بغیر یہ عمل شرعی اعتبار سے باطل ٹھہرے گا۔
دلائل و جزئیات:
ناجائز طریقے سے حاصل شدہ ہر مال کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ سَبِيلَ الْكَسْبِ الْخَبِيثِ التَّصَدُّقُ إذَا تَعَذَّرَ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ ".ترجمہ:جو مال ناجائز طریقے سے حاصل ہو اس مال سے خلاصی کا طریقہ صدقہ ہے جبکہ اسکے مالک کو لوٹانا متعذر ہو۔(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/385،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یا غصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیا تھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اتنا اتنا مال ان لوگوں یا ان کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہ جدا نہ معلوم ہو جو ان نا جائز طریقوں سے لیا ، اور جس مال کی نسبت بعینہ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے توفرض ہے کہ اسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیا تھا پھر بحالت علم ان مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرے‘‘۔(فتاوی رضویہ،23/535، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حیلہ شرعی کے متعلق فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:"وهي ما يتوصل به إلى مقصود بطريق خفي وهي عند العلماء على أقسام بحسب الحامل عليها فإن توصل بها بطريق مباح إلى إبطال حق أو إثبات باطل فهي حرام".ترجمہ: حیلہ یہ ہے کہ جائز طریقے سے کسی مقصود تک پہنچنا۔ اور علماء کے نزدیک حیلہ کرنے والے کے اعتبار سے اس کی کئی اقسام ہیں: پس اگر جائز طریقے سے غیر کے حق ( خواہ اللہ کا حق ہو جیسے زکوۃ یا بندے کا حق)کو باطل یا باطل چیز (مثلاًسود، رشوت وغیرہ)کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے حرام ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)
زکوۃ کی رقم حیلہ کر کے اپنے کام میں لانے والوں کے بارے میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ہزاروں روپے فضول خواہش یاد نیوی آسائش یا ظاہری آرائش میں اٹھانے والے مصارفِ خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام میں صرف کرنے کیلئے ان طریقوں پر اقدام کریں، نہ یہ کہ معاذ اللہ ان کے ذریعے سے ادائے زکوۃ کا نام کر کے رو پیہ اپنے خُرد بُرد میں لائیں کہ یہ امر مقاصد شرع کے بالکل خلاف اور اس میں ایجاب زکوۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے،تو گویا اس کا برتنا اپنے رب عزوجل کو فریب دینا ہے، و العیاذ بالله رب العالمین‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 10/109، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
مفتی شریف الحق امجدی (المتوفی:1421ھ) فرماتے ہیں:’’بلاضرورت شرعیہ زکوۃ،فطرے کی رقم مستحقین کے علاوہ میں صرف کرنا سخت مذموم ہے، خصوصاً غیر دینی کاموں میں۔خصوصاً جب خود اپنے ہی اوپر یا مال داروں پر خرچ ہو... بہت سے ناخدا ترس حیلہ کر کے زکوۃ کی رقم خود رکھ لیتے ہیں۔ کیا زکوۃ اسی لئے مشروع ہوئی تھی ؟ کیا زکوۃ کا منشاء یہی ہے؟ کیا یہ زکوۃ کی ادائیگی سے فرار نہیں؟ کیا یہ اصحاب سبت کے فعل سے مشابہ نہیں ؟ انہوں نے یہی تو کیا تھا‘‘۔ (نزهة القاري شرح صحيح البخاری، 2/921، فريد بك اسٹال، لاهور)
حیلہ کے طریقے کے متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے:"وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ ".ترجمہ:حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر کو دے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( الفتاوی الہندیۃ، کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ، 6/445)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23شعبان المعظم 1447ھ/12 فروری 2026ء