Alag ghar ka mutaliba karna
سوال
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ گھر میں چار افراد رہتے ہیں ساس، نند (شوہر سے بڑی، غیر شادی شدہ) اور میاں بیوی۔ شادی کو سات سال ہو گئے ہیں، ہم بے اولاد ہیں اور شادی سے اب تک میرے ساتھ انتہائی نا روا سلوک کیا جا رہا ہے۔ *بیوی کی رہائش شادی سے پہلے:* بچپن سے اےسی، آٹومیٹک واشنگ مشین، چوبیس گھنٹے بجلی اور پانی، ہفتے یا پندرہ دن میں سیر و تفریح کے لئے شرعی پردے میں باہر جانا۔ *بیوی کی رہائش شادی کے بعد:* ہر ڈیڑھ گھنٹے بعد تین گھنٹے لائٹ نہ ہونا ( جنریٹر صرف رات کے تین گھنٹے چلتا ہے دس بجے تک اس کے بعد لائٹ جائے تو نہیں چلتا نہ کوئی اور انتظام ہے). پانی کی شدید قلّت کا سامنا رہنا کہ اکثر بوتلوں سے برتن دھونے ہوتے تھے۔یہاں تک کے شدید گرمی میں بھی دس پندرہ دن میں نہانا، بغیر مشین کے( ہاتھوں) سے کپڑے دھونا۔ *واضح رہے کہ میرے شوہر کی اتنی آمدنی ہے کہ وہ بآسانی مجھے تمام سہولیات دے سکتے ہیں۔ اور گھر میں موجود باقی افراد خود کفیل ہیں۔* *رہائش کے اتنے فرق کے با وجود میں نے سسرال کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کی پوری کوشش کی اور اپنی تمام طاقت گھر بسانے میں لگادی، پھر بھی میرے ساتھ سب کے رویئے خراب ہیں۔* گھر کا ماحول بہت toxic ہے، ساس اور نند بالکل بات نہیں کرتے ہر وقت ڈر اور خوف کی کیفیت رہتی ہے، بات بات پر طعن و تشنیع کا شکار کیا جاتا ہے، کھانے پینے کی آزادی نہیں ہے، کھانے کے حوالے سے اکثر غیر منصفانہ رویے کا سمنا ہوتا ہے، کچن میں اپنی مرضی سے کچھ پکالوں تو ذلیل کیا جاتا ہے۔ گھر سے کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے، گھر آئے لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔شادی کے شروع سے ہی کمرے کا دروازہ بند کرنے کی قطعاً اجازت نہیں تھی، پچھلے ایک سال سے میں نے بند کرنا شروع کیا ہے تو بہت ذلیل کیا گیا اور آج تک مجھے ساس سے سننےکو ملتا ہے کہ میں دروازہ کیوں بند کرتی ہوں کیا باپ کے گھر سے لائی تھی؟ واضح رہے تقریباً پانچ سال میں نے گھر کے تمام کام کئے اور یہی کوشش رہی کہ میرے سسرال والے مجھ سے خوش رہیں راضی رہیں، لیکن میری تمام تر کوششیں ناکام رہیں۔ نند یہ صاف کہہ چکی ہیں کہ ان کی موجودگی میں، میں کچن میں نہیں جا سکتی۔ حال ہی رمضان المبارک کے مہینے میں، میں نے اپنی نند کو یہ کہتے ہوئے سنا *"یہ کیا سمجھتی ہے میں اسے بٹھا کے کھلاؤنگی زہر نہ دے دوں میں اسے زہر".* یہ جملہ سننے کے بعد میں خود کو بہت غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں ہر وقت ڈر کے رہتی ہوں۔ سارا دن گھر میں بوڑھی ساس اور یہی نند رہتی ہیں، شوہر گھر پر نہیں ہوتے۔ *ان تمام وجوہات کے سبب میری ذہنی اور جسمانی صحت بہت خراب ہو چکی ہے، ڈاکٹر نے antidepressants کھانے کے لیے دی ہوئی ہیں جو میں تقریباً ڈیڑھ سال سے لے رہی ہوں۔ مختلف امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے گھر کے کام کرنا بھی میرے لیے بہت مشکل ہوچکا ہے۔* واضح رہے میں شوہر کے حقوق ادا کرسکتی ہوں۔ اس صورتحال میں میرا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا کیسا ہوگا؟ برائے مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر واقعتاً اس مکان میں اگر آپ کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں ہےاور آپ اذیت میں ہے(جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا )تو اس صورت میں شوہر پر الگ مکان دینالازم ہوگا ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله وأهلها بقدر حالهما وبيت منفرد من دار له غلق ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وفي البحر: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها(متصرفاً)۔اسی کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں :لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى(وقبل ھذا نقل عن الملتقظ )فإن المنافرة في الضرائر أوفر۔ترجمہ:اور مرد پر واجب ہے کہ وہ عورت کے لیئے ایک رہنے کے مکان کا انتظام کرے جس میں مرد اور عورت کے اہل خانہ(ماں،باپ ،بہن ،بھائی اور بالغ اولاد وغیرہ)نہ ہوں جو مرد وعورت کی حیثیت کے مطابق ہواور وہ ایک ایسا علیحدہ کمرہ ہو جس کو تالا کیا جا سکے اور اس میں گھر کے لوازمات بھی ہوں اور لوازمات سے مراد بیت الخلاء اور کچن ہے اور بحر میں ہے کہ گھر میںشوہر کےایسے رشتہ داروں کا نہ ہونا بھی شرط ہے جواس کو اذیت دیتے ہوں۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ"ایک ہی مکان میں علیحدہ کمرہ دینا کافی نہیں ہوگا جب گھر میں مرد کے رشتہ دار اس کو اذیت دیتے ہوں اور سوکن کی موجوگی میں بدر جہ اولی (الگ مکان)دینا ہوگایہ اس لیئے کہ سوکنوں میں منافرت زیادہ ہوتی ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار،مطلب فی مسکن الزوجۃ،ج:3،ص:600،طبع:دارالفکر،بیروت)