Ghair Muslim Mumalik mein Delivery par khana mangwana
سوال
1: کسی غیر اسلامی ملک مثلا امریکہ یا کینڈا میں ایسے ہوٹل سے جہاں حلال گوشت کا کھانا ملتا ہے(یعنی ذبح کرنے والا مسلمان ہو) ڈلیوری پر کھانا منگانے کا کیا حکم ہے جبکہ ڈلیوری والے کا کچھ نہیں پتا ہوتا کہ مسلمان لائے گا یا کافر، جبکہ کھانا ہوٹل کی پیکنگ میں ہوتا ہے۔
2:کسی مسلمان کی دکان سے جو صرف حلال گوشت بیچتا ہو کچا گوشت ڈلیوری پر منگانے کا کیا حکم ہوگا؟جزاک الله خیرا،بینوا و توجروا
سائل: عبداللہ: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: اگر گوشت حلال ہے یعنی اُسے مسلمان صحیح العقیدہ نے ذبح کیا اور اس گوشت کو الگ و جدا کرکے رکھا بعد ازاں اسے مسلمان نے پکایا ، پھر مسلمان نے اسکا آرڈر کرکے ڈلیوری پر منگوایا پھر ڈلیوری لانے والا (خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم کتابی یا غیر کتابی) وہی گوشت لے آیا تو بلاشبہ یہ گوشت کھانا جائز و حلال ہے، صرف اس وجہ سے کہ گوشت کی ڈلیوری کرنے والا غیر مسلم ہے اس گوشت کی حرمت کا قول نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ڈلیوری کرنے والا اس ہوٹل کا اجیر ہے لہذا اگر چہ وہ غیر مسلم ہو اس کے ذریعے گوشت منگوانا جائزاو ر اسکا یہ کہنا '' یہ اسی ہوٹل کا گوشت ہے'' معتبر ہے کہ یہ معاملات کی خبر ہے اور معاملات میں کافر غیر مسلم کی خبر معتبر مانی جاتی ہے۔
فتاوٰی ھندیہ میں ہے : من أَرسل أجيرا له مجُوسِيَا أَوْ خَادِمًا فَاشْتَرَى لَحْمًا، فَقَالَ : اشْتَرَيتُهُ مِن يَهُودِي أَو نَصْرَانِي أَوْ مَسْلِم وسعہ أكله، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ لَمْ يَسَعُهُ أَنْ يَأْكُل مِنْهُ۔ترجمہ: جس نے اپنے کسی مجوسی نوکر یا خادم کو گوشت خریدنے کے لیے بھیجا، پس اس نے گوشت خریدا اور کہا: میں نے یہودی یا عیسائی یا مسلمان سے گوشت خریدا ہے، تو مسلمان کے لیے اس گوشت کا کھانا جائز ہے اور اگر کسی غیر کتابی غیر مسلم سے خریدا تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ ( فتاوی عالمگیری ، جلد 5 ، ص: 308)
علامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابو بکر حنفی لکھتے ہیں: قَالَ وَمَن أَرسَل أَجِيرًا لَهُ مَجوسيا أو خادما فاشتَرَى لَحْمًا، فَقَالَ: اشْتَرَيتَهُ مَن يَهُودِيٍّ أو نصراني أو مُسلِم وَسِعَه أَكَلَهُ، لأَنَّ قَولَ الْكَافِرِ مَقْبُولُ فِي الْمَعاملات؛ لأنه خبر صحيح لصدوره عن عقلٍ وَدِينِ يَعْتَمَدُ فِيهِ حرمة الكذب والحاجة ماسة إلى قبوله لكثرة وقوع الْمُعَامَلاتِ۔ ترجمہ: امام محمد نے فرمایا : جس نے اپنے کسی مجوسی نوکر یا خادم کو گوشت خریدنے کے لیے بھیجا ، پس اس نے گوشت خریدا اور کہا: میں نے یہودی یا عیسائی یا مسلمان سے گوشت خریدا ہے، تو مسلمان کے لیے اس گوشت کا کھانا جائز ہے، اس لیے کہ معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہے، کیونکہ یہ خبرِ صحیح ہے، یہ ایسے شخص نے دی ہے ، جو عاقل ہے اور ایسے دین کا حامل ہے ، جس میں جھوٹ کو حرام جانا جاتا ہے، ایسے معاملات کی کثرت کے سبب اُس کی خبر قبول کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ (ہدایہ جلد 7 ، ص : 183)
فقہ کے ان جزئیات سے واضح ہے کہ محض غیر مسلم کا گوشت ڈیلیو ر کرنا اسکی حرمت کی دلیل نہیں البتہ فرق صرف اتنا ہے، ان جزئیات میں غیر مسلم گوشت خیریدنے والا کا اجیر ہے جبکہ ما نحن فیہ میں گوشت بیچنے والے کا۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔ گوشت کے کچا ہونے یا پکا ہوا ہونے میں کچھ فرق نہیں کہ جب کچا گوشت حلال ہو تو پکا ہوا بھی حلال ہوگا، خواہ لانے والا غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔اور جب کچا گوشت حرام ہو توپکا ہوا بھی حرام ہوگا، خواہ لانے والے مسلم ہی کیوں نہ ہو۔
امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں: اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا ۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 20 ص : 282)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان اپنے آرٹیکل میں لکھتے ہیں: اعلیٰ حضرت کے اس حکم کا تعلق غیر کتابی کافر سے گوشت کی خریداری سے متعلق ہے، اس صورت میں اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ تمام قیود کا موجود ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر مسلمان سے گوشت خریدا ہو اور درمیان میں غیر مسلم ملازم کے ذریعے اسے حاصل کیا جائے تو اس کے بارے میں فقہ کی کتابوں میں واضح جزئیات موجود ہیں کہ اس کا یہ کہنا کہ میں نے مسلمان یا کتابی سے یہ گوشت خریدا ہے ، اس گوشت کے حلال ہونے اور جائز ہونے کے لیے یہ کافی ہے، کیونکہ اس کا تعلق معاملات سے ہے اور معاملات میں غیر مسلم کی خبر بھی معتبر ہے اگر چہ وہ غیر کتابی ہو تم کلامہ۔
2: جائز ہے بالخصوص جب بیچنے والا مسلمان ہے تو جواز میں کیاشک ؟۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 08 ربیع الاول 1445ھ/ 25 ستمبر 2023