مسئلہ وراثت کا شرعی حکم

    masla warasat ka sharai hukum

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1205

    سوال

    السلام علیکم جناب مفتی صاحب ! ایک شخص دوست محمد کا1998ء میں انتقال ہوا ،اسکی اولاد میں 4بیٹے( سجاد احمد خان ،سعید احمد خان،سراج احمد خان،اور اعجاز احمد خان) اور 4بیٹیاں( نادرہ انجم،ناصرہ انجم،کشورانجم، نصرت انجم )ہیں ،بعد ازاں 2014ء میں انکا ایک بیٹا سجاد احمد خان انتقال کر گےا اور اسکے ورثاء میں بیوی (نسرین) دوبیٹے (حماد،فہد) ایک بیٹی (حنائ)ہیں ،آیا سجاد احمد خان کی اولاد کو وراثت سے حصہ ملے گا ےا نہیں ،ملے گا تو کتنا ؟؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل : صغیر خان

    لانڈھی 6نمبر کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بر تقدیر صدق سائل وانحصار ورثاء مرحوم دوست محمد کی وراثت کے کل 240 حصے کئے جائیں گے جس میں سے ہر بیٹے کو 40،40 حصے اور ہر بیٹی کو 20،20حصے ملیں گے پھر سجاد احمد خان کا حصہ اسکے ورثاء میں تقسیم ہوجائے گا بایں طور کہ بیوی کو 5حصے ہر بیٹے کو 14،14حصے جبکہ بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔

    واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

    کتبہ: محمد زوہیب وضا قادری

    الجواب صحیح: مفتی محمد عمران شامی

    تاریخ اجراء:22جمادی الاول 1439ھ 10 فروری 2018