zauja teen betiyan aik beta
سوال
مفتی صاحب ایک مسئلہ کا جواب چاہیے ۔ مرحوم مسعود احمد کا انتقال ہوا انکی دو بیویاں تھی پہلی بیوی کا وصال انکی حیات میں ہی ہوا ، پہلی بیوی سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جبکہ دوسری بیوی سے اولاد نہیں ہے تاہم دوسری بیوی حیات ہے، ترکہ میں 40 لاکھ روپے ہیں ان پیسوں کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد شعیب: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو کل مال وراثت کے 40 حصے کیے جائیں گے جس میں سے زوجہ کو5حصے، ہر بیٹی کو 7 حصے اور بیٹے کو 14 حصے دیئے جائیں گے ۔رقم بھی اسی تناسب سے تقسیم ہوگی یعنی زوجہ کو 5 لاکھ ہر بیٹی کو 7 لاکھ اور بیٹے کو 14 لاکھ ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔
لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03 رمضان المبارک 1440 ھ/09 مئی 2019 ء