سوال
ہماری شادی کو 27 سال گزر چکے ہیں۔ اللہ نے ہمیں تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میری اور میری بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی، جس کے نتیجے میں میں نے گھر چھوڑ دیا اور اب اپنی بہن کے گھر رہ رہا ہوں۔میری بیوی مجھے نہ اہمیت دیتی ہے اور نہ ہی عزت۔ جب ہماری بیٹی زینب کی شادی ہوئی تو اس موقع پر ہم نے اپنا مکان بیچا شادی کے خرچے کیلئے ۔ مکان کے پیسے جو ملے، وہ اس نے مجھے دینے کے بجائے اپنے بہنوئی ناصر کو دے دیے اس نے جاکر مکمل شادی کی تیاریاں کیں مجھ سے کچھ بھی نہیں پوچھا گیا ۔ اس بات نے مجھے سخت دکھ پہنچایا کہ جب میں اس کا شوہر موجود تھا تو وہ رقم ناصر کو کیوں دی گئی؟اس کے علاوہ میری بیوی کا غیر محرم لوگوں سے بات چیت کرنے پر بھی بارہا جھگڑا ہوا، بالخصوص اس کے بہنوئی ناصر کے ساتھ تعلق رکھنے پر۔ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود وہ باز نہ آئی۔اس کے علاوہ اس نے بچوں کو بھی میرے خلاف کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ جب میں ان سے ملنے جاتا ہوں تو وہ مجھ سے ملنے کو تیار نہیں ہوتے۔ میرا بڑا بیٹا اویس تو ایک مرتبہ مجھ پر ہاتھ اٹھا چکا ہےاس نے نہ صرف مجھے پیٹ پر مارا بلکہ میرا گلا بھی دبا یا۔ آخر ایک بیٹے نے اپنے ہی باپ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟آپ رہنمائی فرمائیں کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔
نوٹ:(مذکورہ سوال سائل کی جانب سے بھیجے گئے سات صفحات کا خلاصہ ہے۔)شوہر کے بیان کے مطابق وہ دو مرتبہ پہلے طلاق دے چکا ہے الگ الگ مواقع پر دے چکا ہے اور رجوع بھی کرچکا ہے۔اور اس کی بیوی ہمیشہ اس کی آمدنی سے زائد خرچہ کرتی تھی۔ بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے کبھی مکمل نان ونفقہ نہیں دیا ۔اس نے پوری زندگی والدین کے خرچے پر گذاری ہے اور اس کا شوہر اس پر الزامات بھی لگاتا ہے۔اور وہ طلاق بھی لینا چاہ رہی ہے۔
سائل:محمد رفیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جواب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ باہمی عزت، محبت، اعتماد اور قربانیوں پر قائم ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک کی طرف سے بھی کوتاہی یا غفلت ہو تو یہ رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے، اور جب یہ رشتہ ٹوٹتا ہے تو صرف دو افراد ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ پورا خاندان بکھر جاتا ہے۔ جس کا سب سے بڑا نقصان اولاد کو پہنچتا ہے، جن کی زندگی اور تربیت بری طرح متاثر ہو جاتی ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ شوہر اپنی ذمہ داری کو سمجھے، گھر کی ضروریات پوری کرے، بیوی کی عزت اور راحت حقوق کا خیال رکھے، اور بچوں کے ساتھ شفقت، نرمی اور محبت سے پیش آئے۔ اگر باپ اپنی اولاد سے تعلق مضبوط رکھے تو بچے اس کے قریب رہتے ہیں اور فرمانبردار بنتے ہیں۔اسی طرح بیوی پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اسے چاہیے کہ شوہر کی عزت کرے، ہر جائز بات کو مانے، گھر کے تمام معاملات میں شوہر کی بات کو مقدم رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکمیت عطا فرمائی ہے ۔ اور شوہر کے ساتھ ہر حال میں وفادار رہے۔
اگر شوہر و بیوی کے درمیاں حالات ناشگوار ہوجائیں تو سب سے پہلے دونوں کے خاندان والوں اور بڑوں کو چاہیے کہ ان کے معاملات کا حل نکالیں اور دونوں کی اصلاح کرائیں ،اگر پھر بھی کوئی حل نہیں نکل رہا ہو اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ یا بیوی شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی تو شوہر کو بھی چاہیے کہ بیوی کو نکاح کی قید سے آزاد کردے اور کیونکہ یہی شریعت کا مزاج اور مشورہ ہے کہ یا تو بیوی کو بھلائی کے ساتھ رکھو یا اچھے سلوک کے ساتھ چھوڑ دو ۔
بیوی پر شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے ، شوہر اگر بیوی کو غیر محرم لوگوں کیساتھ بات چیت کرنے پر روکتا ہے، تو بیوی پر لازم و واجب ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بات مانے ،اگر بیوی بات نہیں مانتی تو دوہرے گناہ کا ارتکاب کرتی ہے،ایک شوہر کی نافرمانی اور دوسرا بغیر کسی ضرورت کے غیر محرم لوگوں کیساتھ بات چیت یا کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا۔
شریعت کے مطابق شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے نان و نفقہ (خوراک، لباس، علاج و دیگر ضروریات) اور مناسب رہائش کا انتظام کرے اسی طرح بچوں کا نان ونفقہ( تعلیم، خوراک، لباس، علاج، اور دیگر ضروری اخراجات )کی ادائیگی بھی شوہر کی شرعی ذمہ داری ہے( لڑکے کا بالغ ہونے اور لڑکی کا اسکا نکاح ہوجانے تک)اگر شوہر ضرورت کے مطابق نہیں دے رہا تو گناہ گار ہوگا اور بیوی کو بھی چاہیے کہ شوہر کی آمدنی کے مطابق خرچ کرے اس سے زائد نہ کرے جو شوہر پر بوجھ بنے ۔
بیٹے کا والد پر ہاتھ اٹھانا اور نہ صرف اخلاقاً بلکہ شرعاً بھی سخت حرام اور انتہائی قبیح عمل ہے۔ شریعتِ پاک میں والدین کے مقام و مرتبہ کو نہایت بلند رکھا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں بارہا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب و احترام، خدمت اور فرمانبرداری کی تاکید کی گئی ہے، اور اس کے برعکس ان کی نافرمانی، بے ادبی اور ایذا رسانی کو سخت ترین کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمایا کہ والدین کے سامنے "اف" تک نہ کہو، انہیں جھڑکو نہیں بلکہ ہمیشہ نرمی اور عزت و تکریم سے پیش آؤ۔ پس والد پر ہاتھ اٹھانا یا ان کے ساتھ سخت کلامی کرنا تو "اف" کہنے سے بھی بڑھ کر گناہ اور شدید معصیت ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں محرومی کا شکار ہوگا اور اللہ کی ناراضگی مول لے گا۔ لہٰذا بیٹے پر لازم ہے کہ وہ والد کے سامنے سر جھکائے اور اس عمل پر والد سے معافی لے ، کیونکہ والدین کی رضا ہی میں اللہ ربّ العزت کی رضا پنہاں (پوشیدہ )ہے۔
والدین کے آپسی معاملات میں اولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی وجہ سے والد کی عزت کرنا چھوڑ دے ۔ والدین کے درمیان اگر کبھی ناچاقی یا لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو وہ دراصل ان کا باہمی اور گھریلو معاملہ ہے۔ اولاد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ والدین کے ان اختلافات میں مداخلت کر کے کسی ایک کی بے ادبی یا گستاخی کرے۔ اسلام نے والدین کے ادب کو ہر حالت میں واجب قرار دیا ہے، خواہ والد صالح(نیک) ہو یا فاسق، خوش ہو یا ناخوش، اس کی عزت اور تکریم سے اولاد بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ قرآنِ کریم میں تو والدین کے سامنے "اُف" تک کہنے کو ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے، چہ جائیکہ ان پر آواز بلند کی جائے یا ہاتھ اٹھایا جائے۔اور تمام اولاد (بیٹے ،بیٹی )کو چاہیے کہ اپنے والد کیساتھ بہتر سلوک رکھیں ورنہ والد کی نافرمانی سخت گناہ ہے جیساکہ کہ اوپر بیان ہوا۔
دلائل و جزئیات:
اصلاح کی کوشش کرنے کے بارے میں قرآن کریم میں ہے:وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ۖ إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ترجمہ: اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مر دوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کردے گا بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔(سورۃ النساء: آیت 35)
اگر ساتھ رہنا ممکن نہ ہوتو اس کے بارے میں ہے:وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًاترجمہ:اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے(سورۃ النساء:آیت 130)
بیوی کویا تو بھلائی کے ساتھ رکھو یا اچھے سلوک کے ساتھ چھوڑ دو اس بارے میں آیت مبارکہ ہے : اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْــٴًـا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ترجمہ: یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(سورۃ البقرہ:229)
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس بارے میں قرآن پاک میں ہے:اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِـعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا ترجمہ: مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔(النساء:34)
شوہر کی اطاعت کے حدیث پاک ہے :عن أبي هريرة قال: قال رسول الله : إذا صلت المرأة خمسها، وصامت شهرها، وحصنت فرجها، وأطاعت بعلها، دخلت من أي أبواب الجنة شاءت ۔ترجمہ: انس رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راویت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (صحیح ابن حبان ،الحدیث: 4163 بیروت)
عورت پر شوہر کا کیا حق ہے اس باررے میں ہے:عن تميم الداري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حق الزوج على زوجته أن لا تترك فراشه، وأن تصدق يمينه، ولا تخرج من بيته إلا بإذنه، ولا تدخل بيته أحداً يكره دخوله ۔ ترجمہ:طبرانی تمیم داری رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اسکی قسم کو سچا کرے اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں آنے نہ دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔( المعجم الکبیر :باب التاء،الحدیث: 1258 ،ج 2 ،ص 52)
عورت کا شوہر پر کیا حق ہے اس بارے میں حدیث ہے:عن علي رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«يا معشر النساء اتقين الله والتمسن مرضاة أزواجكن، فإن المرأة لو تعلم ما حق زوجها، لم تزل قائمة ما حضر غداؤه وعشاؤه ترجمہ:ابونعیم حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا:اے عورتو!خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو، اس لیے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔ (کنزالعمال،ج 16،ص :145)
فتاوی ھندیہ میں اولاد کے نان و نفقہ کے بارے میں مذکور ہے،نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة ...و نفقة الإناث واجبة مطلقًا يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة . و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد.ترجمہ: چھوٹے بچوں کی نان و نفقہ کی ذمہ داری باپ پر ہے، اس میں کوئی اور شریک نہیں ہوتا، جیسا کہ 'الجوهرة النیرة' میں ہے... اور لڑکیوں کا نان و نفقہ ہر حال میں باپ پر واجب ہے جب تک وہ شادی نہ کر لیں، بشرطیکہ ان کے پاس اپنا کوئی مال نہ ہو، جیسا کہ 'الخلاصة' میں ہے۔ اور بالغ لڑکوں کا نان و نفقہ باپ پر واجب نہیں، الا یہ کہ وہ کسی معذوری یا بیماری کی وجہ سے کمانے کے قابل نہ ہوں۔(فتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد جلد:1 ،ص:560،مکتبہ رشیدیہ)
اسی میں آگے ہے،الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب و لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا أو يؤاجرهم و ينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل أو خدمة، كذا في الخلاصة ۔ ترجمہ:اگر لڑکے اس حد کو پہنچ جائیں کہ وہ کمانے کے قابل ہوں لیکن خود کمانا شروع نہ کریں، تو باپ کو حق ہے کہ وہ انہیں کام پر لگائے تاکہ وہ کما سکیں، یا انہیں کسی کے ساتھ اجرت پر دے دے، اور ان کی کمائی یا اجرت سے ان پر خرچ کرے۔رہی بات لڑکیوں کی، تو باپ کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں کسی کام یا خدمت کے لیے اجرت پر دے۔جیسا کہ 'الخلاصہ' میں ہے۔ (الفتاوى الهندية: الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد جلد:1 ص562 رشیدیہ)
والدین کو ستانا کبیرہ گناہ ہے، جیساکہ مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے :حدثنا عبد الرحمن بن ابي بكرة ، عن ابيه ، قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " الا انبئكم باكبر الكبائر ثلاثا، الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وشهادة الزور، او قول الزور "، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا، فجلس فما زال يكررها، حتى قلنا: ليته سكت. حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ (آپ نے یہ تین بار کہا) پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا (یا فرمایا: جھوٹ بولنا)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے (دل میں) کہا: کاش! آپ مزید نہ دہرائیں۔(صحیح مسلم:کتاب الایمان:باب بیان الکبائر واکبرھا ،حدیث:2654)
والد کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہے جیساکہ ترمذی شریف کی حدیث مبارکہ ہے:عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" رضا الرب في رضا الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد . ترجمہ :عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔ (سنن ترمذي:كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،حدیث: 1900) واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبد الخالق بن محمد عيسي
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 1447 ھ/21اگسٹ 2025ء