شوہر کے نشہ کرنے کی بنا پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا
    تاریخ: 22 جنوری، 2026
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 630

    سوال

    میری چھوٹی بہن سیدہ طوبی کا نکاح ایک شخص سعد سے ہوا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ سعد آئس(ice) کے نشے کا عادی ہے، اور نشہ اتنا زیادہ کرتا ہے کہ کئی مرتبہ اسے اسپتال میں داخل بھی کروانا پڑا۔اگرچہ سعد اپنی بیوی یعنی طوبی کی بات مانتا ہے اور بظاہر اس کے ساتھ سختی یا برا سلوک نہیں کرتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود کمانے والا نہیں ہے بلکہ اس کے والدین اس کا خرچ اُٹھاتے ہیں۔ سعد کا تعلق مالی طور پر ایک مضبوط گھرانے سے ہے اور فی الحال اس کے والدین نے اسے سہارا دیا ہوا ہے۔ہمارا خدشہ یہ ہے کہ اگر کل کو سعد کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو اس کے بعد اس کا سہارا کون ہوگا؟ اور اس کی یہ عادت (نشہ) اس کی بیوی اور بیٹے علی احمد کی زندگی اور تربیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں وہ نشے کی حالت میں کوئی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے، حتیٰ کہ مارپیٹ تک بات پہنچ سکتی ہے۔سعد کے نشے کی عادت اور نہ کمانے کی وجہ سے میری بہن طوبی ذہنی اور جسمانی طور پر سخت پریشانی میں رہتی ہے ۔اسلام کی رو سے کیا اس طرح کے معاملات میں طلاق لینا جائز ہے ؟(1)علی پر سعد کا کتنا حق ہوگا اگر جواب ہاں میں ہے (طلاق ہونے بعد )تو کیا وہ مستقل رابطے میں رہے گا جب کہ وہ نشہ کرتا ہے ایک با پ کی حیثیت سے ؟(2)بیشک علی کو اکیلے پالنا اور اچھی تربیت کرنا طوبیٰ کیلئے بہت مشکل ہوگا (اگر طلاق ہوجاتی ہے)؟(3)اسلام کی رو سے ایسے شوہر کے بارے میں کیا حکم ہے ؟(4)کیا علی کا خرچہ پڑھائی لکھائی وغیرہ وہ لوگ دیں گے(اگر طلاق ہوجاتی ہے )؟

    نوٹ: اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شوہر بیوی کے تمام حقوق ادا کررہا ہے ۔صرف اس کے نشہ کرنے کی وجہ سے بیوی کو پریشانی ہے۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نکاح درحقیقت اللہ ربّ العزت کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو دلوں کو سکون بخشتا ہے، گھروں کو راحت عطا کرتا ہے، دو خاندانوں کو جوڑ کر انہیں مضبوط بناتا ہے اور پورے معاشرے کو استحکام فراہم کرتا ہے۔بے بنیاد خدشات کی بنا پر ختم کرنا کسی صورت درست نہیں۔ شریعت کی روشنی میں طلاق اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب میاں بیوی کے درمیان ایسا اختلاف پیدا ہو جائے کہ ساتھ رہنا سخت دشوار بلکہ ناممکن ہو جائے، اور اصلاح و صلح کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔ تب جا کر طلاق کا دروازہ کھلتا ہے، اور وہ بھی بطورِآخری حل۔طلاق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حلال کاموں میں سے سب سے ناپسندیدہ عمل ہے،اس وجہ سے جتنا ہوسکے اس سے بچا جائے ۔

    جیساکہ بیان کیا گیا ہے کہ شوہر سعد اپنی اہلیہ طوبیٰ کو کسی قسم کی اذیت نہیں دیتا اور نہ ہی حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے۔ اگرچہ وہ نشے جیسی بڑی برائی میں مبتلا ہے، جو کہ یقیناً کبیرہ گناہ ہے، تاہم اس بنیاد پر طلاق کا مطالبہ شرعاً درست نہیں۔بیوی کو چاہیے کہ وہ صبر و حکمت کے ساتھ اپنے شوہر کی اصلاح کی کوشش کرے، اسے نصیحت کرے اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے ہدایت مانگے۔ جیسے یہ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں وہ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرسکتا ہے، ویسے ہی یہ امید بھی رکھی جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے اس گناہ سے محفوظ فرما دے اور وہ توبہ کر کے نشہ ترک کر دے۔

    شریعتِ مطہرہ نے شراب نوشی اور تمام نشہ آور اشیاء کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت میں یہ عمل شیطانی کام اور ایمان و صحت کے لیے تباہ کن بتایا گیا ہے۔احادیثِ مبارکہ میں ہمارے آقا و مولا، محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح طور پر شراب پینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ یہ لعنت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گناہ صرف ذاتی نہیں بلکہ معاشرتی اور دینی اعتبار سے بھی بہت بڑا جرم ہے، جو انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔لہٰذا جو شخص اس قبیح عمل میں مبتلا ہے، اسے چاہیے کہ وہ فوراً اس سے توبہ کرے اور حتی المقدور اسے ترک کرنے کی کوشش کرے۔ تاکہ اس کے گھر والوں کی بھی اس کے اس عمل کی وجہ سے پریشانی ختم ہوجائے۔

    جہاں تک اس اولاد کا معاملہ ہے تو ماں کو چاہیے کہ اولاد کی اچھی طرح سے تربیت کرے اور اپنے بچے کو دین کی تعلیم ضرور دلائے کیونکہ دین کی تعلیم اسکی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور اس وجہ سے اولاد باپ کے اثرات قبول کرنے سے محفوظ رہے گی اور جس وقت شوہر حالت نشہ میں ہو اس وقت اولاد کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرے ۔

    اگر میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہو جائے تو اس سے والدین کا اپنی اولاد پر حق کسی صورت کم نہیں ہوتا۔ جیسے نکاح کے رشتے میں جڑے رہتے ہوئے والدین کو اولاد پر حقوق حاصل تھے، ویسے ہی علیحدگی کے بعد بھی وہ حقوق برقرار رہتے ہیں۔ اولاد کا تعلق اپنے ماں باپ سے کسی بھی حال میں ختم نہیں ہوتا، اس لیے میاں بیوی کی علیحدگی سے اولاد اور والدین کے رشتے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

    اگر طلاق ہوجاتی ہےتو باپ پر اولاد کانان و نفقہ دینا لازم ہوتا ہے اگر بیٹا ہے تو اس کے بالغ ہونے تک اس کے تمام ضروریات زندگی یعنی نان ونفقہ ،تعلیمی اخراجاتوغیرہ ،اگر بیٹی ہے تو اس کا نکاح ہونے تک اس کے تمام ضروریات زندگی باپ کے ذمہ ہوتے ہیں شرعا بھی اور مروجہ قانونابھی،جبکہ اولاد کے پاس اپنا مال نہ ہو۔

    دلائل وجزئیات:

    طلاق کو حلال چیزوں میں سب سے بری چیز قرار دیا گیا ہے : عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ابغض الحلال إلى الله الطلاق» ‏‏‏‏ رواه ابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم ورجح ابو حاتم إرساله. ترجمہ:سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ (اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے)۔( سنن أبوداود، الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث:2178)

    ایک حدیث میں ارشاد ہے:’’ قال رسول اللّٰه ﷺ : ” أیما امرأة سألت زوجها طلاقًا في غیر ما بأس فحرام علیها رائحة الجنة “ ۔ترجمہ: جو عورت اپنے شوہر سے بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق لے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔(مشکوۃ المصابیح:کتاب النکاح ص:283)

    بغیر ضرورت کے طلاق لینے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے:ما في ” مرقاة المفاتیح “ : أما ما روي : (لعن اللّٰه کل ذوّاق مطلاق) فمحمله الطلاق لغیر حاجة بدلیل ما روي من قوله ﷺ : ” أیما امرأة اختلعت من زوجها بغیر نشوز فعلیها لعنة اللّٰه والملائکة والناس أجمعین“۔ ولا یخفی أن کلامهم فیما سیأتي من التعالیل یصرح بأنه محظور لما فیه من کفران نعمة النکاح۔ ترجمہ:”مرقاة المفاتیح“ میں ہے:جو یہ روایت آئی ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس شخص پر جو بار بار نکاح کرنے والا اور بار بار طلاق دینے والا ہو“، اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی ضرورت کے طلاق دینا (مذموم ہے)۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے:”جو عورت بغیر کسی عذر اور شوہر کی نافرمانی کے خلع کا مطالبہ کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے“۔اور یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ علماء کے کلام سے جو تعلیلات (دلائل) آگے ذکر ہوں گے وہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ بلا ضرورت طلاق دینا ممنوع اور گناہ ہے، کیونکہ اس میں نکاح جیسی عظیم نعمت کی ناشکری پائی جاتی ہے۔(مرقاۃ المکتاب الطلاق ،باب الخلع والطلاق جلد:6ص:386)

    صدرالشریعہ، بدرالطریقہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ایک استفتا کے جواب میں رقم فرماتے ہیں:”عورت کا طلاق طلب کرنا اگر بغیرضرورت شرعیہ ہو تو حرام ہےجب شوہر حقوقِ زوجیت تمام و کمال اداکرتاہے توجولوگ طلاق پر مجبور کرتے ہیں، وہ گنہ گار ہیں۔“(فتاویٰ امجدیہ،ج2،ص164)

    نشہ کو شیطانی اعمال میں سے قرار دیا گیا ہے قرآن پاک میں ارشاد ہے : ﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام ، تَو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔( سورۃ المائدۃ ، آیت90)

    نشہ حرام ہے ، چاہے کسی بھی چیز سے کیا جائے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کُلّ مُسکِرٍ حرامٌ “ ترجمہ : ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ۔(سنن ابو داؤد ، ج2 ، ص163 ، حدیث : 3685 ، مطبوعہ لاھور)

    اس حدیث میں ایک قاعدہ بیان کیا گیا کہ ہر نشہ ااور چیز حرام ہے جس طرح شراب حرام ہے اس طرح آئس کا نشہ بھی حرام ہے جو حکم شراب کا وہی آئیس کا بھی ہے احادیث میں شراب پینے اور نشہ کرنے کی انتہائی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ہے : ”عن أنس بن مالك قال : ” لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة لہ “ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی ، اس پر۔ ( سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب النھی ان یتخذ الخمر خلاً، ج2 ، ص582 ، الحدیث1295 ، دار الغرب الإسلامي - بيروت)

    بچوں کے نان و نفقہ کے بارے میں فتاوی ھندیہ میں مذکور ہے:نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة ...و نفقة الإناث واجبة مطلقًا يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة . و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد.ترجمہ: چھوٹے بچوں کی نان و نفقہ کی ذمہ داری باپ پر ہے، اس میں کوئی اور شریک نہیں ہوتا، جیسا کہ 'الجوهرة النیرة' میں ہے... اور لڑکیوں کا نان و نفقہ ہر حال میں باپ پر واجب ہے جب تک وہ شادی نہ کر لیں، بشرطیکہ ان کے پاس اپنا کوئی مال نہ ہو، جیسا کہ 'الخلاصة' میں ہے۔ اور بالغ لڑکوں کا نان و نفقہ باپ پر واجب نہیں، الا یہ کہ وہ کسی معذوری یا بیماری کی وجہ سے کمانے کے قابل نہ ہوں۔(فتاوى الهندية، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الرابع في نفة الأولاد جلد:1 ،ص:560،مکتبہ رشیدیہ)واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 3ربیع الاول 1447/28اگسٹ 2025ء