دودھ میں مِلاوٹ کرنا کیسا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 634

    سوال

    ہمارے ہاں دودھ بیچنے والے اکثر دودھ میں پانی شامل کر تے ہیں تو کیا اس کی اجازت ہو گی جبکہ لینے اور دینے والے سب کو پتہ ہوتا ہے ؟

    سائل:غلام عباس

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    دودھ میں پانی ملا کر ملاوٹ زدہ دودھ بیچنا جائز نہیں کہ اس میں دھوکہ ہے ۔ البتہ اگر خریدار کو ملاوٹ کا علم ہو اس کے باوجود وہ خریدے یا جس جگہ دودھ بیچا جا رہا وہاں کا عرف ہے کہ دودھ میں پانی کی ایک مخصوص مقدار شامل کی جاتی ہے اور اس عرف سےہر عام و خاص واقف ہے تو اس صورت میں ملاوٹ زدہ دودھ بیچنا جائز ہے ۔تاہم اگر کوئی ناواقف شخص اس شہر یا بستی میں آیا جسےیہ عرف معلوم نہیں تو بیچنے سے پہلے اسے بتانا ضروری ہو گا ۔

    سننِ ابنِ ماجہ میں ہے :عن عقبۃ بن عامر قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المسلم اخوالمسلم ولایحل لمسلم باع من اخیہ بیعافیہ عیباً الایبینہ لہ“ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے اور کسی مسلمان کوحلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوایسی چیز بیچے جس میں عیب ہومگر یہ کہ اسے بیان کردے ۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات ،باب من باع عیبافلیبینہ ،جلد2،صفحہ755،داراحیاء الکتب العلمیہ)

    صحیح مسلم میں ہے : منسل علینا السلاح فلیس منا ومن غشنا فلیس منا۔ یعنی جس نے ہم پر تلواراٹھائی وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہہم میں سے نہیں ۔(صحیح مسلم،جلد1،کتاب الایمان، صفحہ:143،مطبوعہ :موسسہ قرطبہ)

    درمختارمیں ہے : وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْمَغْشُوشِ إذَا بَيَّنَ غِشَّهُ أَوْ كَانَ ظَاهِرًا يُرَى، وَكَذَا قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - فِي حِنْطَةٍ خُلِطَ بِهَا الشَّعِيرُ وَالشَّعِيرُ يُرَى لَا بَأْسَ بِبَيْعِهِ، وَإِنْ طَحَنَهُ لَا يَبِيعُ. وَقَالَ الثَّانِي فِي رَجُلٍ مَعَهُ فِضَّةُ نُحَاسٍ: لَا يَبِيعُهَا حَتَّى يُبَيِّنَ، ترجمہ:ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ اس کی ملاوٹ کو بیان کر دیا جائے یا ملاوٹ واضح دکھائی دے رہی ہو اوریونہی فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسی گندم کے بارے میں جس میں جوملے ہوئے ہو ں اور وہ نظر بھی آرہے ہو ں تو ایسی گندم کی بیع میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تومت بیچئے، اور امام ابویوسف نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔ (الدر المختار ،جلد05،صفحہ 237، دار الفكر – بيروت)

    ردالمحتار میں ہے : قول وان طحنہ لایبیع ای الاان یبین لانہ لایری۔ترجمہ:ماتن کا یہ فرمانا کہ جب اس نے مخلوط گندم کو پیس لیا تو مت بیچے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیان کئے بغیر نہ بیچےکیونکہ اب اس میں ملاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔(ردالمحتارباب المتفرقات، جلد05،صفحہ 237، دار الفكر – بيروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ملاوٹ والاگھی بیچنے کے متعلق سوال ہواتواس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا:” اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہو، نہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدر میل سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائے، خلاصہ یہ کہ جب خریداروں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہے۔آخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی، اور عدم جواز صرف بوجہ غش وفریب تھا، جب حال ظاہر ہے غش نہ ہوا، اور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او ر باوصف علم خریدتے ہیں،یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے، اور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں مطلقا جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدبیان فریب نہ رہا۔(فتاوی رضویہ،جلد 17،صفحہ 150،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20رجب المرجب 1447ھ/11جنوری 2025ھ