مضارِب کے لیے نقصان کی شرط لگانا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 633

    سوال

    زید نے چار لوگوں سے مضاربہ کے طور پر کچھ رقم لی اور یہ کہا کہ اگر رقم ڈوب گئی تو میں اپنے پاس سے دوں گا ،تو اگر خدانکواستہ رقم ڈوب گئی تو زید کو اپنے پاس سے روپے دینا لازم ہوں گے کہ نہیں ؟

    سائل:عبد الجواد ترابی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    عقدِ مضاربت میں اگر نقصان ہو جائے تو وہ رب المال (سرمایہ دینے والے) پر ہوتا ہے، مضارب پر ضمان صرف اس وقت ہوتا ہے جب اس کی جانب سے کوئی کوتاہی یا خیانت سرزد ہوئی ہو۔اور اگر عقدِمضاربہ میں یہ شرط رکھی جائے کہ نقصان بھی مضارب پر ہوگا یا وہ اپنی جیب سے ادا کرے گا، تو یہ شرط باطل ہے لیکن اس سے مضاربہ ،فاسد نہیں ہوگا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں زید (مضارب) کا اپنے لیے نقصان کی شرط لگانا باطل ہے اور اگر اس کی غفلت و لاپرواہی کے بغیر نقصان ہو جاتا ہے تو اسے پورا کرنا اس پر لازم نہیں ہوگا اگرچہ اس نے اپنے اوپر اس کو لازم کر لیا ہو ۔

    ہندیہ میں ہے:وَأَمَّا الشُّرُوطُ الْفَاسِدَةُ فَمِنْهَا مَا تُبْطِلُ الْمُضَارَبَةَ وَمِنْهَا مَا لَا تُبْطِلُهَا بِنَفْسِهَا ۔ترجمہ:فاسد شرطوں میں سے بعض مضاربت کو باطل کرتی ہیں اور بعض باطل نہیں کرتیں بلکہ یہ خود باطل ہوجاتی ہیں۔ ۔ (فتاوٰی ہندیہ کتاب المضاربہ باب الاول ،جلد 04 صفحہ:287، دار الفكر بيروت)

    ہدایہ میں ہے : کل شرط یوجب جہالۃ فی الربح یفسدہ لاختلال مقصودہ وغیر ذٰلک من الشروط الفاسدۃ لایفسدھا ویبطل الشرط کاشتراط الوضیعۃ علی المضارب۔ترجمہ:ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت کا موجب بنے وہ مضاربت کو فاسد کردے گی کیونکہ یہ مقصود میں اختلال ہے اور جو شرائط فاسدہ ایسی نہ ہوں وہ مضاربت کو فاسد نہ کریں گی بلکہ خود باطل ہوجائینگی مثلایہ شرط کہ نقصان مضارب پر ہوگا۔ (الہدایہ مع العنایۃ کتاب المضاربہ ،جلد08،صفحہ 451،دار الفکر بیروت)

    فتاوٰی رضویہ میں ہے : ” مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدِّی و دست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحبِ مال کی طرف رہے گا۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد 19 ،صفحہ 131 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    بہارِ شریعت میں ہے : اورا گر اس شرط سے نفع میں جہالت نہ ہو تو وہ شرط ہی فاسد ہے اور مضارَبت صحیح ہے مثلاً یہ کہ نقصان جو کچھ ہوگا وہ مضارِب کے ذمہ ہوگا یا دونوں کے ذمہ ڈالا جائے گا۔ ( بہارشریعت ،حصہ 14،صفحہ 3 ،المکتبۃ المدینۃ )۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 18رجب 1447ھ/08جنوری2026ھ