LGBTQ کا حکم شرعی
    تاریخ: 22 جنوری، 2026
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 631

    سوال


    LGBTQ کا حکم شرعی بیان کریں ؟تفصیل کیساتھ رہنمائی درکار ہے۔

    سائل :عبدالرحمٰن


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    LGBQTمخّفف (Short form)ہے :

    Lesbian Gay Bisexual Questioning Transgender کا۔

    ہر ایک کا حکم تفصیلا مندرجہ ذیل ہے۔

    Lesbian (1):ایک عورت کا کسی دوسری عورت کی طرف جنسی میلان رکھنا۔(ہم جنس پرستی)

    Gay(2):ایک مرد کا کسی دوسرے مرد کی طرف جنسی کشش و میلان رکھنا۔ (ہم جنس پرستی)

    دونوں کا حکم:

    فقہ حنفی میں ہم جنس پرستی (لواطت gayیا سحاق Lesbian ) بہت بڑا گناہ اور قابلِ تعزیر جرم ہے، لیکن چونکہ یہ زنا کی شرعی تعریف میں نہیں آتا،کیونکہ زناء تو وہ ہوتا ہے جو قٌٔؐبل میں کیا جائے اس لیے اس پر حد نہیں بلکہ قاضی کی صوابدید پر مبنی تعزیر نافذ کی جائے گی۔

    جیساکہ مبسوط سرخسی میں ہے: والذي ورد في الحديث «إذا أتى الرجل الرجل فهما زانيان» مجاز لا تثبت حقيقة اللغة به والمراد في حق الإثم، ألا ترى أنه قال «وإذا أتت المرأة المرأة فهما زانيتان» والمراد في حق الإثم دون الحد، كما أن الله تعالى سمى هذا الفعل فاحشة فقد سمى كل كبيرة فاحشة فقال ﴿ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن﴾ [الأنعام: ١٥١] ثم هذا الفعل دون الفعل في القبل في المعنى الذي لأجله وجب حد الزنا من وجهين: أحدهما، أن الحد مشروع زجرا وطبع كل واحد من الفاعلين يدعو إلى الفعل في القبل وإذا آل الأمر إلى الدبر كان المفعول به ممتنعا من ذلك بطبعه فيتمكن النقصان في دعاء الطبع إليه، والثاني: أن حد الزنا مشروع صيانة للفراش، فإن الفعل في القبل مفسد للفراش ويتخلق الولد من ذلك الماء لا والد له ليؤدبه فيصير ذلك جرما يفسد بسببه عالم، وإليه أشار ﷺ في قوله «وولد الزنا شر الثلاثة». وإذا آل الأمر إلى الدبر ينعدم معنى فساد الفراش، ولا يجوز أن يجبر هذا النقصان بزيادة الحرمة من الوجه الذي قالا؛ لأن ذلك يكون مقايسة، ولا مدخل لها في الحدود .ترجمہ:حدیث میں جو آیاہے: جب مرد مرد کے پاس آیا تو وہ دونوں زانی ہیں تو یہ مجاز کے اعتبار سے کہا گیا ہے، یعنی لغت کے لحاظ سے حقیقی زنا اس سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد گناہ ہے،آپ علیہ السلام نے فرمایا:جب عورت عورت کے پاس جاتی ہے تو وہ دونوں زانیہ ہیں"اور یہاں بھی مراد گناہ ہے، نہ کہ حد شرعی جیسے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو فاحشہ کہا، تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ہر کبیرہ گناہ کو فاحشہ کہا ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾(الأنعام: 151)پھر یہ فعل یعنی لواط یا سِحاق اس فعل سے کم تر ہے یعنی زنا بالقبل سےوہ اس معنیٰ میں کہ جس وجہ سے زنا پر حد واجب ہوتی ہے۔

    دو وجہوں میں سے:پہلی وجہ: حد (زنا) زجراً مشروع ہوئی ہے، کیونکہ ہر ایک فاعل کی طبیعت قبل کی طرف مائل ہوتی ہے،لیکن جب معاملہ دُبر کی طرف جاتا ہے،تو مفعول بہ کی فطرت اس کو قبول نہیں کرتی،لہٰذا طبعی رغبت کمزور ہو جاتی ہے،اس لیے روکنے کا مقصد بھی کمزور ہو جاتا ہے۔دوسری وجہ :حد زنا اس لیے مشروع ہوئی کہ نکاح کے بستر کی حفاظت ہو،کیونکہ اگر عمل قبل میں ہو تو وہ بستر کو خراب کرتا ہے،اور اس سے اولاد پیدا ہوتی ہے،جس کا باپ معلوم نہیں ہوتا،اور وہ اولاد بغیر تربیت کے رہتی ہے،تو اس سے پورا نظام خراب ہو سکتا ہے۔اسی طرف نبی ﷺ نے اشارہ کیا اپنے اس فرمان میں:زنا سے پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں بدترین ہوتا ہے.اور جب معاملہ دُبر کی طرف جاتا ہےتو فسادِ فراش (بستر کا فساد) پیدا نہیں ہوتا،اس لیے اس معنیٰ میں فرق واقع ہوتا ہے۔

    پھر مصنف علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اس فعل قبیح کا زناء سے نہ ہونا اجماع صحابہ سے ثابت ہے نیزیہ بھی کہ اس پر تعزیر ہے :وأبو حنيفة رحمه الله يقول: الصحابة اتفقوا على أن هذا الفعل ليس بزنا؛ لأنهم عرفوا نص الزنا ومع هذا اختلفوا في موجب هذا الفعل، ولا يظن بهم الاجتهاد في موضع النص فكان هذا اتفاقا منهم أن هذا الفعل غير الزنا ولا يمكن إيجاب حد الزنا بغير الزنا بقيت هذه جريمة لا عقوبة لها في الشرع مقدرة فيجب التعزير فيه يقينا۔ترجمہ: ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ عمل زنا نہیں ہے،کیونکہ انہوں نے زنا کا شرعی مفہوم جان رکھا تھا۔باوجود اس کے، وہ اس فعل کے نتیجے میں کیا سزا دی جائے، اس میں اختلاف رکھتے تھےاور چونکہ ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ نص (قرآن و حدیث) کی موجودگی میں اجتہاد کریں،تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کا اتفاق اس بات پر ہے کہ یہ زنا نہیں ہےلہٰذا جب یہ زنا نہیں تو اس پر حد زنا واجب نہیں ہو سکتی۔چونکہ یہ فعل جرم ہے لیکن شرعی طور پر کوئی مقرر سزا (حد) اس کے لیے متعین نہیں،اس لیے اس پر تعزیر واجب ہے، اور وہ یقیناً دی جائے گی۔۔(کتاب الحدود،جلد9،ص،78،مکتبہ دارالمعرفہ بیروت لبنان)

    Bisexual(3) :وہ شخص جو مرد اور عورت دونوں کی طرف جنسی کشش رکھتا ہو۔

    Bisexual کا حکم:

    اگر مرد و عورت زناء کریں تو ان میں سے شادی شدہ کو سنگسار کی جائے گی اور غیر شادی شدہ کو 100کوڑے لگا دیے جائیں گے،اگر دونوں شادی ہوں تو دونون کو سنگسار اگر دونوں غیر شادی شدہ ہوں تو کوڑے لگادیےجائیں گے۔اور اگر مرد مرد سے یا عورت عورت سے زناء کرے تو اسکا حکم Gay اورLesbian میں بیان ہوچکا۔

    الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ. ترجمہ:زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔(النور: 2)

    یہ حکم غیر شادی شدہ افراد (غیر محصن) کے لیے ہے۔

    شمس الائمہ مبسوط سرخسی فرماتے ہیں،فَأَمَّا الْمُحْصَنَةُ إِذَا زَنَى بِهَا غَيْرُ الْمُحْصَنِ فَعَلَيْهَا الرَّجْمُ؛ لِأَنَّ فِعْلَ غَيْرِ الْمُحْصَنِ زِنًى فَتَصِيرُ هِيَ زَانِيَةً بِالتَّمْكِينِ مِنَ الزِّنَا ترجمہ:رہی بات اُس شادی شدہ عورت کی، اگر اس کے ساتھ کسی غیر شادی شدہ (غیر محصن) نے زنا کیا، تو اُس (عورت) پر رجم (سنگسار) لازم ہوگا:کیونکہ غیر محصن کا فعل زنا کہلاتا ہے، تو وہ زنا میں شریک ہو جائے گی زنا کے لیے اجازت و رضامندی کی وجہ سے۔ (مبسوط سرخسی،کتاب الحدود،جلد:9،ص:55،مکتبہ دارالمعرفۃ لبنان)

    :Transgender(4)

    ٹرانس جینڈر "ٹرانس جینڈر" (Transgender) اُن افراد کو کہا جاتا ہے جو پیدائش کے وقت اپنی جسمانی ساخت (جنسی اعضاء اور علامات) کے اعتبار سے مکمل طور پر مرد یا عورت ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی صنفی شناخت (Gender Identity) کو اپنی پیدائشی جنس (Biological Sex) کے مطابق تسلیم نہیں کرتا۔مثال کے طور پر:اگر کوئی شخص پیدائش کے وقت مرد کی جسمانی ساخت رکھتا ہے، مگر بعد میں وہ اپنے آپ کو عورت محسوس کرے اور اسی حیثیت سے شناخت کرے، تو وہ ٹرانس وومن (Trans Woman) کہلاتا ہے،اسی طرح، اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر عورت ہو لیکن بعد میں اپنے آپ کو مرد تصور کرے، تو وہ ٹرانس مین (Trans Man) کہلائے گا۔

    Transgenderکا حکم:

    شریعتِ مطہرہ کا اصول:اسلامی تعلیمات میں انسان کی جنس کا تعین اُس کے پیدائشی ظاہری اعضاء کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اور یہی تعین شرعی لحاظ سے معتبر ہوتا ہے۔ شریعت نے کسی شخص کی صنفی شناخت کو اُس کی ذاتی خواہش، میلانِ طبع یا احساسات پر مبنی قرار نہیں دیا،لہٰذامحض اپنی خواہش یا احساس کی بنیاد پر مرد کا اپنے آپ کو عورت سمجھنا یا عورت کا اپنے آپ کو مرد تصور کرنا، شرعی لحاظ سے درست نہیں۔اپنی جنس میں تبدیلی کروانا، یعنی جسمانی یا طبّی طریقوں سے مرد کو عورت یا عورت کو مرد بنانے کی کوشش کرنا، اسلامی اصول اور فطرت کے خلاف ہے ۔اسلام میں انسان کو اپنے خالق کی طرف سے عطا کردہ جسم اور ساخت پر قناعت و شکر کا حکم دیا گیا ہے، اور اُس میں غیر ضروری تبدیلی کی اجازت نہیں دی گئی، خاص طور پر جب وہ تبدیلی خالصتاً خواہشِ نفس پر مبنی ہو۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا کہ اسی حالت میں رہو جس پر تمہیں پیدا کیا گیا ہے اور رب کی خلقت میں تبدیلی نہ کرو ہے: فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ-فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗ-وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ترجمہ:تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا ۔ الله کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔ یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔(الروم:30)

    حدیث پاک میں مرد کو عورت اور عورت کو مرد کی مشابہت کرنے میں سختی سے منع کیا گیا ہے جب مشابہت منع ہے تو تخلیق بدرجہ اولیٰ منع ہوگی اور اس بڑھ کر یہ کہ قرآن پاک میں جیساکہ ذکر کیا گیا واضح منع ہے،حضور علیہ السلام کی حدیث ہے،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ ۔ترجمہ:حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔(صحیح بخاری:کتاب اللباس،حدیث:5885)

    Questioning(5): وہ افراد جو اپنی جنسی یا صنفی شناخت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوں۔

    اس کا حکم : بندے کے ہر فعل کا حاکم اللہ تعالیٰ ہے جبکے اس پر رب کے ہر حکم پر تسلیم خم کرنا لازم ہے ،بندہ اپنی طرف سے کسی چیز کا تعین خود سے نہیں کرسکتا ،اسی وجہ سے اسکی جنس کےتعین کا حق بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے وہ مرد ہے یا عورت اسکی تعیین وہ خود سے نہیں کرسکتا،لھٰذا انسان کے مرد یا عورت ہونے کی بنیاد اسکی تخلیق پر ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ۔محض احساسات کی بنیاد پر خود کی جنس کا تعین کرنا یہ ملحدین کی فکر ہے ،اللہ تعالیٰ اس اس گروہ اور انکے افکار سے سب کو محفوظ فرمائے۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبد الخالق بن محمد عيسي

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 1محرم الحرام 1447 ھ/27جون 2025 ء