zauja aik beta aur do betiyan
سوال
راؤ محمد تسلیم کا انتقال ہوا ، انکے انتقال کے وقت انکی زوجہ(وکیلہ تسلیم)ایک بیٹا(جسیم)اور دو بیٹیاں(شگفتہ،شائستہ)ورثاء میں ہیں ، انکے ترکہ میں ایک جائیداد 1800 گز کی ، بینک اور اسکے علاوہ ملا کر 24500روپے تھے ،اسکے علاوہ دو مکان تھے چھ چھ سو گز کے ۔ انہوں نے زندگی میں ہی ایک مکان جسیم کے نام کیا اور ایک مکان فھیم کی زوجہ افضاء کے نام کیا ۔ جسیم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ اس 600 گز کے مکان میں رہتا ہے جبکہ دوسرے 600 گز کے مکان میں راؤ محمد تسلیم ،انکی زوجہ اور فھیم کے بیوی بچے رہتے رہے۔ اسکے علاوہ راؤ محمد تسلیم کی کچھ جائیداد پنجاب میں بھی ہیں جن پر کورٹ کیس چل رہا ہے اور وہ ابھی قبضہ میں نہیں ہیں ۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا اور تقسیم کیسے ہوگی ۔؟؟
سائل: راؤ محمد جسیم :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
پھر وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغیر بعينه ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)
راؤمحمد تسلیم کی ملکیت میں جو کچھ تھا ، سب سے پہلے اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے پھر دیکھا جائے کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعد اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد جو بچے اسکے 32 حصے کئے جائیں گے جس میں سے انکی بیوی وکیلہ کے 4 حصے ،جسیم کے 14 حصے، شگفتہ و شائستہ میں سے ہر ایک کے 7 حصے ہونگے ۔
مرحوم کی کیا کیا چیزیں تقسیم ہونگی اسکی تفصیل یہ ہے کہ جو جائیداد 1800 گز کی ، بینک اور اسکے علاوہ ملا کر 24500روپے یہ سب اور 600 گز کا وہ مکان جو افضاء کے نام کیا یہ سب چیزیں وراثت میں تقسیم ہونگی ۔تقسیم کا طریقہ بتادیا گیا ہے ۔ 600 گز کا جو مکان جسیم کے نام کیا وہ خاص جسیم کا ہے اسکی وراثت جاری نہ ہوگی۔کیونکہ جب والد نے زندگی میں انہیں وہ مکان دے دیا تووہ مکان خاص جسیم کا ہوگیا۔کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ، پھر اگر واہب (گفٹ کرنے والا )اپنی اولاد یا کسی کوکوئی چیز ھبہ کرے تو ضروری ہے کہ موہوب لہ (جسکو ھبہ کیا گیا )وہ ھبہ کے بعد قبضہ کامل بھی حاصل کرلے ۔ وگرنہ ھبہ تام نہ ہوگا اور شئے موھوب (جو چیز گفٹ کی گئی ہے) واہب(گفٹ کرنے والے)کی ملک پر باقی رہے گی اوراسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی ۔ اور یہاں جسیم نے اپنے حصہ پر قبضہ کرلیا جسکی وجہ سے وہ مکان انکا ہوگیا جبکہ دوسرے 600 گز میں مرحوم کی رہائش کی وجہ سے ھبہ تام نہ ہوالہذااس حصہ میں ھبہ تام نہ ہوا اور انکی ملک میں باقی رہ کر وراثت بنا ۔
تنویرالابصارمیں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوںکےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 32 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 جمادی الاول1441 ھ/15 جنوری2020ء