سوال
میرے والد كی میری والدہ سے تین طلاق ہو چکی ہے۔میرے والد فالج کے مرض میں مبتلا ہیں ۔کیا میں اپنی ماں کی موجودگی میں اپنے والد کی تیمارداری ایک ہی گھر میں کر سکتا ہوں ؟
سائل :واصف اسلم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولاد پر والد اور والدہ دونوں کے حقوق فرض ہیں کسی ایک (والدین)کے حقوق کی ادائیگی کے سبب دوسرے کے حقوق سے دست بردار نہیں ہو سکتے یوں ہی والد کا والدہ سے رشتہ ختم ہونے سے اولاد سے تعلق ختم نہیں ہو جاتا بلکہ بدستور باقی رہتا ہے۔یوں ہی اگر والد کی خدمت کرنے کی وجہ سے والدہ ناراض ہوتی ہیں تو ان کی ناراضی کا کوئی اعتبار نہیں ۔یاد رہے کہ باپ کی خوشی اللہ کی خوشی ہے اور اس کی ناراضی اﷲ جبار وقہار کی ناراضی ہےجب تک بیٹا باپ کو راضی نہ کرے گا اس کے فرائض و نوافل قبول نہیں ۔سائل نے جو الد کی کنڈیشن بیان کی ہے ایسے وقت میں تو انسان کواولاد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔لہذا آپ پر لازم ہے کہ اپنے والد کی دیکھ بھال کریں ۔
والدین کے پردے کا حکم:
تاہم والد اور والدہ کے تعلق کے ختم ہو جانے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے لیے نا محرم ہو چکے ہیں لہذا ان کا آپس میں کسی قسم کا ازدواجی تعلق ناجائز و حرام ہو گا ۔ اولاً تو چاہیے کہ دونوں کو الگ الگ گھروں میں رکھا جائے ۔الگ گھر لینا مشکل ہو تو پھر ایک ہی گھر میں مکمل پردے کے اہتمام کے ساتھ کرنا ہو گا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم، الصحيح، کتاب البر و الصلة، باب رعم أنف من أدرک أبويه،رقم الحدیث : 255)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: طاعۃ اﷲ طاعۃ الوالد ومعصیۃ اﷲ معصیۃ الوالد ترجمہ:اﷲ کی اطاعت ہے والد کی اطاعت، اور اﷲ کی معصیت ہے والد کی معصیت۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث:2274)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے: رضا ﷲ فی رضا الوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالدترجمہ:اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین،رقم الحدیث:1900 )
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمان ہے: ھما جنتک ونارک۔ رواہ ابن ماجۃ۔ترجمہ:ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب برالوالدین رقم الحدیث: 3662)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : الوالد اوسط ابواب الجنۃ فان شئت فاضع ذٰلک الباب او احفظہ۔ والدجنت کے سب دروازوں میں بیچ کادروازہ ہے اب توچاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھودے خواہ نگاہ رکھ ۔ ( جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین ،رقم الحدیث :1900)
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث والرجلۃ من النساء۔ترجمہ: تین اشخاص جنت میں نہ جائیں گے: ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیّوث او ر وہ عورت کہ مردانی کرنے والا اور دیّوث اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے۔ ( سنن الکبری للبیھقی،رقم الحدیث : 21025)
عالمگیری میں ہے : اذا تعذر علیہ جمع مراعاۃ حق الوالدین بان یتأذی احدھما بمراعاۃ الاٰخر یرجح حق الاب فیما یرجع الی التعظیم والاحترام وحق الام فیما یرجع الی الخدمۃ والانعام وعن علاء الائمۃ الحمامی قال مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی الاب یقدم علی الام فی الاحترام والام فی الخدمۃ حتی لو دخلا علیہ فی البیت یقوم للاب ولوسألامنہ ماء ولم یاخذ من یدہ احدھما فیبدأ بالام کذا فی القنیۃ ۔ترجمہ:جب آدمی کے لئے والدین میں سے ہرایک کے حق کی رعایت مشکل ہوجائے مثلاً ایک کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے توتعظیم واحترام میں والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں والدہ کے حق کی۔ علامہ حمامی نے فرمایا ہمارے امام فرماتے ہیں کہ احترام میں باپ مقدم ہے اورخدمت میں والدہ مقدم ہوگی حتی کہ اگر گھرمیں دونوں اس کے پاس آئے ہیں توباپ کی تعظیم کے لئے کھڑاہو، اور اگر دونوں نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرے، اسی طرح قنیہ میں ہے۔ ( فتاوٰی ہندیہ ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب السادس والعشرون جلد 05 صفحہ365)
والدین کی آپسی ناراضی میں اولاد کو کیا کرنا چاہیے اس کے متعلق امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر والدین میں باہم تنازع ہو تو ماں کا ساتھ دے کرمعاذاﷲ باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے یااسے جواب دے یابے ادبانہ آنکھ ملاکربات کرے، یہ سب باتیں حرام اور اﷲ عزوجل کی معصیت ہیں، نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائز نہیں، وہ دونوں اس کی جنت ونار ہیں، جسے ایذا دے گا دوزخ کامستحق ہوگا والعیاذباﷲ، معصیت خالق میں کسی کی اطاعت نہیں، اگرمثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے، ہونے دے اور ہرگز نہ مانے، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میں، ان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابل لحاظ نہ ہوں گی ۔(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 390،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12جمادی الاخری 1444 ھ/26سمبر2023 ھ