سوال
1: صدقہ فطر اور زکوۃ کے مفہوم کی تشریح درکار ہے؟
2: کیا فطر کی مد میں حاصل کی جانے والی رقم کو زکوۃ کے ساتھ شامل کر کے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو اس کی تقسیم کاری کا کیا طریقہ ہوگا؟
سائل: اوکھائی میمن یوتھ سروسز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: نماز کے بعد اسلام کا اہم ترین رکن زکوٰۃ ہے۔ لغوی اعتبار سے زکوٰۃ کا لفظ دو معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک معنی طہارت اور پاک صاف ہونے یا کرنے اور دوسرا معنی نشوونما اور ترقی کا ہے۔زکوٰۃشریعت کی جانب سےمقررکردہ اس مال کوکہتےہیں جس سے اپنانفع ہر طرح سےختم کرنےکےبعدرضائےالہٰی کے لئے کسی ایسےمسلمان فقیرکی ملکیت میں دے دیا جائے جو نہ تو خود ہاشمی ہواورنہ ہی کسی ہاشمی کا آزادکردہ غلام ہو،اور نہ اس دینے والے کے اصول و فروع ہو نہ میاں یا بیوی۔اور زکوۃ کی مقدار مال کا چالیسواں حصہ ہے۔قرآن و حدیث سے زکوۃ کی فرضیت ثابت ہے۔قال اللہ تعالٰی:وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔ترجمہ:اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔(البقرہ: 43)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:خُذْ مِنْ أَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیھِم بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ إِنَّ صَلاَتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ وَاللّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ۔ترجمہ:آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعث) تسکین ہے اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo'' (التوبۃ: 103)
زکوٰۃ کی بنیادی طور پر 2قسمیں ہیں۔
(۱)مال کی زکوٰۃ (۲)اَفراد کی زکوٰۃ( یعنی صدقۂ فطر)
پھر مال کی زکوٰۃ کی مزید دو قسمیں ہیں :(1)سونے، چاندی اور کرنسی کی زکوٰۃ (2)مالِ تجارت اور مویشیوں کی زکوٰۃ
زکوٰۃ دیناہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں :
1:نصاب کا مالک ہو ۔
2:یہ نصاب نامی ہو ۔
3:نصاب اس کے قبضے میں ہو ۔
4:نصاب اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو۔
5:نصاب دَین سے فارغ ہو(یعنی اس پر ایسا قرض نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ،کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو اس کا نصاب باقی نہ رہے )
6:اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ۔(کل ذلک مصرح فی کتب الفقہ)
شرائط کی تفصیل:
نصاب کا مالک ہونے کا مطلب:
مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ،یاساڑھے باون تولے چاندی ،یا اتنی مالیت کی رقم ، یا اتنی مالیت کا مال ِ تجارت یا اتنی مالیت کا حاجاتِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد سامان ہو ۔
مالِ نامی کا مطلب:
إمال ِنامی کے معنی ہیں بڑھنے والامال خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً،اس کی 3 صورتیں ہیں :
إ1:یہ بڑھناتجارت سے ہوگا ،یا
إ2:اَفزائشِ نسل کے لئے جانوروں کو جنگل میں چھوڑ دینے سے ہوگا،یا
إ3:وہ مال خَلْقِی (یعنی پیدائشی)طور پر نامی ہوگا جیسے سونا چاندی وغیرہ
إقبضے میں ہونے کا مطلب:
إقبضے میں ہونےسے مراد ہے کہ یا تو فی الحال اسکے پاس موجود ہو یا ابھی موجود نہیں لیکن ملنے کی امید ہے۔ جیسے کسی کوایسا قرض دیا جس ملنے کی امید زیادہ ہےتو وہ بھی نصاب میں شامل ہوگا۔
إ حاجت اصلیہ کا مطلب:
حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسےرہنےکا گھر ، پہننے کےکپڑے،سواری ، علمِ دین سے متعلق کتابیں ، اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔
نصاب کا دین سے فارغ ہونا کا مطلب:
اگر کسی پر اتنا قرض ہو کہ اگروہ اِسے ادا کرتا ہے تو نصاب باقی رہتا ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی اور اگر باقی نہ رہتا ہوتو زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی ۔
نصاب پر سال گزرنے کا مطلب:
جس تاریخ اوروقت پرآدمی صاحبِ نصاب ہُواجب تک نصا ب رہےوہی تاریخ اوروقت جب آئےگااُسی منٹ سال مکمل ہوگا اورسال گزرنے میں قَمرییعنی( چاند کےمہینوں) کا اعتبار ہوگا ۔شمسی مہینوں کا اعتبار جائز نہیں ہے ۔
یونہی زکوٰۃ کی فرضیت میں سال کےشروع اورآخرکااعتبارہےاس لئے اگر سال مکمل ہونےپرنصاب ِزکوٰۃ پورا ہے تو دورانِ سال نصاب میں ہونے والی کمی کا کوئی نقصان نہیں موجودہ مال کی زکوٰۃ دی جائے گی ۔
جو شخص مالک ِنصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اُسی جنس کا حاصل کیا تو اِس نئے مال کا جُدا سال نہیں ، بلکہ پہلے مال کا ختمِ سال اِس کے لیے بھی سالِ تمام ہے، اگرچہ سالِ تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث وہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلاً پہلے اُس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لیے جدید سال شمار ہوگا۔
افراد کی زکوۃ یعنی صدقہ فطر:
صدقۂ فطر دینا واجب ہے۔ چناچہ حدیث پاک میں ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ»ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانےبیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفطرکی زکوٰۃ( صدقہ فطر )ایک صاع کھجوریا ایک صاع جوفرض قراردی تھی۔ غلام ،آزاد‘مرد‘عورت‘چھوٹےاوربڑےتمام مسلمانوں پر۔ آپکاحکم یہ تھاکہ نماز(عید)کےلیے جانےسےپہلےیہ صدقہ اداکردیا جائے۔(صحیح البخاري،،کتاب الزکوٰۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، الحدیث: 1503،)
صدقۂ فطر ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مالک ِ نصاب ہو اور اسکانصاب حاجت ِ اصلیہ سے فارغ ہو ۔مالِکِ نِصاب مَرد اپنی طرف سے ،اپنے چھوٹے بچّوں کی طرف سے اور اگر کوئی( مَجْنُون(یعنی پاگل )اولاد ہے(چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالِغ ہی کیوں نہ ہو اُس کی طرف سے بھی صَدَقَۂِ فطر ادا کرے۔ہاں !اگر وہ بچّہ یامَجْنُون خود صاحِبِ نِصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے اداکردے۔
زکوٰۃ اور صدقۂ فطر میں فرق:
زکوٰۃ میں سال کا گزرنا، عاقل بالغ اور نصاب ِ نامی (یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیّت )ہونا شرط ہے جبکہ صدقۂ فطر میں یہ شرائط نہیں ہیں۔چنانچہ اگر گھر میں زائد سامان ہو تو مالِ نامی نہ ہونے کے باوجود اگر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس کے مالک پر صدقۂ فطر واجب ہوجائے گا۔
2:جب فقیر شرعی سے تملیک کروالی جائے اسکے بعد زکوۃ و صدقہ فطر کا مال ملا کر استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الصَّرْفُ تَمْلِيكًا ترجمہ:اور زکاۃ کی ادا ئیگی کے لیئے ایک شرط یہ ہے کہ ادائیگی تملیک کے طور پر ہو۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار باب مصرف الزکاۃ ،ج:2،ص344دارالفکر،بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 رمضان المبارک 1440 ھ/23 مئی 2019 ء