waqfi Zameen par Water Tanker Lagana
سوال
مسجد/مدرسہ کیلئے وقف شدہ زمین پر لوگوں کو پانی دینے کیلئے زیر زمین واٹر ٹینک بنایا جاسکتا ہے؟اور اگر کسی نے لاعلمی میں بنا لیا ہو، تو اب اسکا کیا حکم ہے؟ براہ کرم حکم شریعت بیان فرمادیں۔
سائل: مولانا سعید لاغاری، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسجد یا مدرسہ کی وقف شدہ زمین پر عوامی استعمال کیلئے واٹر ٹینک بنانا شرعاً ناجائز و ممنوع ہے، کیونکہ وقف شدہ زمین صرف اسی مقصد کیلئے استعمال کی جا سکتی ہے جس کیلئے واقف نے اسے وقف کیا ہو۔ اگر کسی نے لاعلمی میں ایسا کر لیا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ توبہ کرے اور اس واٹر ٹینک کو ختم کر کے زمین کو اس کی اصل حالت (مسجد یا مدرسہ کے استعمال کے قابل) پر بحال کرے، تاکہ وقف کی خلاف ورزی کا گناہ ختم ہو۔
شرطِ واقف نصِ شارع کی طرح واجب الاتباع ہوتی ہے۔ جب زمین مسجد یا مدرسہ کیلئے مخصوص ہو گئی، تو وہ اللہ عزوجل کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور اب اس کی ہیئت میں ایسا کوئی تغیر کرنا جو واقف کی منشا کے خلاف ہو، ہرگز جائز نہیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے فتاویٰ رضویہ میں صراحت فرمائی ہے کہ مسجد مکمل ہونے کے بعد اس میں کنواں، حوض یا چبوترہ بنانا جو نماز کی جگہ کو گھیرے، ناجائز ہے۔ عوامی واٹر ٹینک بنانا مسجد یا مدرسہ کے مقصدِ اصلی میں مداخلت اور غیر کی ملکیت میں بیجا تصرف ہے، جو شرعاً غصب کے زمرے میں آتا ہے۔
جہاں تک لاعلمی میں بنانے کا تعلق ہے، تو اگرچہ جہالت کی وجہ سے وہ شخص قصداً گناہگار نہ کہلائے گا ، مگر حکمِ شرعی معلوم ہونے کے بعد اس پر رجوع اور ازالہ فرض ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس باطل تصرف کو ختم کرے اور وقف کی زمین کو دوبارہ مسجد یا مدرسہ کیلئے صاف اور ہموار کر دے۔ وقف کی حفاظت اور اسے ناجائز تصرفات سے پاک کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے تاکہ وقف کا ثواب اور مقصد برقرار رہے۔
دلائل و جزئیات:
مسجد کی ہیئت میں تبدیلی اور وقف کے احکام پر امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’مسجد مکمل ہو جانے کے بعد اصل مسجد میں نہ چبوترا بنانا جائز ہے نہ منارہ نہ کنواں نہ حوض۔ جیسا کہ ہم در مختا ر سے نقل کر آئے کہ ’’تمام مسجد یت کے بعد دیو ار یا چھت پر کو ئی اور عما ر ت منع ہے‘‘ہما رے علما ء نے اس بات پر تنصیص کی ہے کہ ’’مسجد میں کنواں نہیں کھودا جا سکتا ، پرانا ہو تو باقی رہ سکتا ہے جیسا زمزم کا کنواں‘‘ خانیہ ،ہندیہ وغیرہ اسکی پو ری تحقیق ہما ری کتا ب جدالممتار حا شیہ درمختار و شامی میں ہے اشباہ و نظائر کے با ب احکا م المسجد میں ہے ’’مسجد میں کلی وغیر ہ منع ہے ہا ں کو ئی جگہ پہلے ہی سے ان امو ر کے لیے مقر ر ہو تو اور با ت ہے ‘‘ایسا ہی درمختا ر میں ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 28/141، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شرطِ واقف کی اہمیت میں امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اوقاف میں شرطِ واقف مثلِ نصِ شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلا شرطِ واقف یا اجازتِ خاصہ شرعیہ کوئی تغیر تبدل جائز نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ، 16/157، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وقف کی ہیئت میں تبدیلی سے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ".ترجمہ:اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔( الفتاوی الہندیۃ،کتاب الوقف، الباب الرابع عشر فی المتفرقات، 2/365، دار الفکر)
یونہی خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ".ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔(رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ، 4/388، دار الفکر بیروت)( فتح القدیر، کتاب الوقف،6/288، دار الفكر)
وقف کی ملکیت سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مسلمانوں کو تغیرِ وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالکِ حقیقی جل وعلا کی ملکِ خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/232، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
باطل تصرفات کو رد کرکے سابقہ حالت پر بحالی فرض ہے، امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فرض ہے کہ ان تمام تصرفاتِ باطلہ کو رد کر کے مسجد مثلِ سابق کر دیں۔ درمختار میں ہے: لوبنی فوقہ بیتاللامام لایضر لانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلک لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف لغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ولایجوز اخذالاجرۃ منہ ولاان یجعل شیئامنہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ۔ اگر واقف نے مسجد کی چھت پرا مام کاحجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے مگر تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے منع کیا جائیگا اگرچہ وہ کہے کہ میں نے شروع سے اس کی نیت کی تھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی ،تاتارخانیہ ،تو جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو غیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے چنانچہ اس عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ وہ دیوار مسجد پر بنائی گئی ہو اور اس کی اجرت لینا یا اس میں سے کسی حصہ کو ذریعہ آمدن یا رہائش گاہ بناناجائز نہیں، بزازیہ ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/416، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم 1447ھ/7 اپریل 2026ء