جھوٹی قسم کھانے کا حکم اور کیا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
    تاریخ: 31 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 496

    سوال

    میں نے اپنے شوہر کی وجہ سے جھوٹی قسم کھائی ہے مجھے بتائیں کہ اسکا کیا کفارہ ہے؟

    سائلہ:ماہ نور رانا


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جھوٹی قسم دو طرح کی ہے پہلی یہ کہ کوئی شخص جانتے بوجھتے جھوٹی قسم کھائے جیسے کسی کام کے بارے میں پوچھا کہ یہ تم نے کیا ہے؟ تو یہ قسم کھا کر بولے یہ میں نے نہیں کیا حالانکہ خود یہ بات جانتا ہے کہ یہ کام میں نے ہی کیا ہے۔ دوسری یہ ہے اس نے اپنے اعتبار سے تو سچی قسم کھائی جبکہ حقیقت میں وہ جھوٹی ہے جیسے اس سے کسی کے بارے میں پوچھا گیا کہ فلاں آیا ہے یا نہیں اور اسکے علم میں یہ تھا کہ نہیں آیا پھر اس نے قسم کھا کر کہا کہ نہیں آیا اور حقیقت میں وہ آگیا ہے یہ بھی جھوٹی قسم ہے ، پہلی قسم کو یمین غموس اور دوسری کو یمین لغو کہتے ہیں ، یمین لغو کا حکم یہ ہے کہ ایسی قسم سے نہ گناہ ہوگا اور نہ ہی کفارہ لازم ہوگا۔ البتہ یمین غموس سخت گناہ اور عذاب کا باعث ہے جسکی توبہ فرض ہے مگر اس میں بھی کوئی کفارہ لازم نہیں ہے۔لہذا اگر آپ نے جھوٹی قسم بمعنی یمین غموس کھائی ہے تو آپ سچی پکی توبہ اور استغفار کریں اور آئندہ جھوٹی قسم کھانے سے سخت پرہیز کریں۔حدیث پاک میں جھوٹی قسم کھانے کو کبیرہ گناہوں میں سے شمار کیا گیا ہے، بخاری میں ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ "ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر ،بنی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا شریک ٹھہرانا،والدین کی نافرمانی کرنا،کسی کو ناحق قتل کرنا،اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔(بخاری،باب الیمین الغموس ،حدیث نمبر 6675)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: (غَمُوسٌ) تَغْمِسُهُ فِي الْإِثْمِ ثُمَّ النَّارِ، وَهِيَ كَبِيرَةٌ مُطْلَقًا،(إنْ حَلَفَ عَلَى كَاذِبٍ عَمْدًاكَوَاللَّهِ مَا فَعَلْت) كَذَا (عَالِمًا بِفِعْلِهِ وَيَأْثَمُ بِهَا) فَتَلْزَمُهُ التَّوْبَةُ (ملخصا)ترجمہ:اور یمین غموس گناہ میں اور جہنم میں دالنے والی ہے،اور یہ مطلقا کبیرہ گناہ ہے، وہ یہ ہے کہ کوئی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے مثلا کہے کہ اللہ کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا حالانکہ جانتا ہے کہ میں نے ہی کیا ہے، اسکی وجہ سے گناہ ہوگا اور توبہ کرنا لازم ہے۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار وحاشیہ ابن عابدین شامی کتاب الایمان،جلد 3 ص 705،الشاملہ)

    علامہ شامی اسکے تحت لکھتے ہیں: (قَوْلُهُ فَتَلْزَمُهُ التَّوْبَةُ) إذْ لَا كَفَّارَةَ فِي الْغَمُوسِ يَرْتَفِعُ بِهَا الْإِثْمُ فَتَعَيَّنَتْ التَّوْبَةُ لِلتَّخَلُّصِ مِنْهُ.ترجمہ: توبہ لازم ہے کیونکہ یمین غموس مین کفارہ نہیں ہوتا جس کے ذریعے گناہ اٹھ جائے لہذا گناہ سے چھٹکارے کے لیے توبہ ہی متعین ہوگئی۔(ایضا المرجع السابق)

    اور آپ نے اپنے شوہر کی وجہ سے جھوٹی قسم کھائی تو یاد رکھیئے کہ کسی کی وجہ سے جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:16 جمادی الاول 1440 ھ/23 جنوری 2019 ء