قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولنے کا حکم
    تاریخ: 31 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 495

    سوال

    1:اگر کوئی شخص قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولے تو شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس جھوٹ کا کوئی کفارہ ہے۔

    2: تنہائی میں اللہ اور اسکے رسول کو گواہ بناکر نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

    3: اگر کوئی شخص اللہ کو گواہ بناکر کسی بات کا عہد لیتا ہے کہ میں فلاں کام کرونگا اور وہ کام نہیں کرپایا تو کیا وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا یا نہیں ؟

    سائلہ:سویرا: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:جھوٹ بولنا ویسے ہی گناہ کبیرہ ہے،اور اللہ تعالٰی کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔اوراس پر زیادتی یہ کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولنا،اس گناہ کو مزید سخت، عظیم بنادیتا ہے۔نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ» قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ، کیا میں تمہیں اکبر الکبائر یعنی سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاوں ؟ ہم نے (صحابہ نے) عرض کی ، کیوں نہیں ضررور بتائیں،آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے،اور والدین کی نافرمانی اورسن لو وہ جھوٹ بولنا ہے،۔(بخاری،باب عقوق الوالدین من الکبائر،حدیث نمبر 5976 )

    البتہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولنے کا کوئی کفارہ نہیں ہے ،صرف اور صرف توبہ لازم ہےلہذاآپ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کریں ،آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا پکا ارادہ کرلیں، اللہ تعالٰی گناہوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے،قال اللہ تعالٰی: إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُترجمہ: بے شک اللہ تعالٰی رحم کرنے والا اور بہت زیادہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔

    2:نکاح کے منعقدہونے کے لئے ایجاب و قبول کی مجلس میں دو گواہوں کا موجود ہونا اور فریقین(یعنی لڑکا اور لڑکی)کا ان کے سامنے ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے۔بغیر گواہوں کے نکاح اصلا منعقد نہ ہوگا۔تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَ) شُرِطَ (حُضُورُ) شَاهِدَيْنِ مُكَلَّفَيْنِ سَامِعَيْنِ قَوْلَهُمَا مَعًا)ترجمہ:اور نکاح کے لئے دو گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے،دونوں مکلف ہوں اور عاقدین کے قول کو سنیں۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار،جلد3 ص 22)

    اللہ و رسول کو گواہ بنانا کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا یہ محض جاہلانہ سوچ ہے جو کہ مسائل دینیہ اور منشاء دینی سے ناواقفیت کی بناء پر پیدا ہوتی ہے ، بغیر گواہوں کے نکاح کرنا شرعی اور معاشرتی ہر دو اعتبار سے قابل گرفت ہے۔حتٰی حدیث پاک میں بغیر گواہوں کے نکاح کرنےوالوں کو زانی بتایا گیا ہے ،چناچہ ترمذی شریف میں سیدنا عبداللہ ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْبَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ۔ ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورتیں زانیہ ہیں جو گواہوں کے بغیر اپنا نکاح کرلیتی ہیں۔(سنن الترمذی: ج1 ص337 ابواب النکاح. بَاب مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ،حدیث نمبر 1130)

    اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس سے موقوفا مروی ہے،کہ وہ فرماتے ہیں:لانِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ۔ ترجمہ:گواہوں کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذی: ج1 ص337 ابواب النکاح. بَاب مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍحدیث نمبر 1104)

    معاشرتی اعتبار سے بھی گواہ بنانا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں،اگرگواہوں کی شرط نہ رکھی جاتی تو ہر زنا کرنے والا جوڑا بھی بعد میں کہہ دیتا ہم نے تو نکاح کر رکھا ہے۔ اور کتنے ہی لوگ آپس میں نکاح کر کے عورتوں کو استعمال کر کے چھوڑ دیتے اور بعد میں نکاح کا ہی انکار کر دیتے یا عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ایسا کر سکتی تھیں۔اور کثیر معاشرتی مسائل کا سبب بن جائے مثلا زناکاری عام ہوجائے، نامحرموں کے ساتھ تعلقات کا وہ دروازہ کھلتا کہ الامان والحفیظ ۔ پھر خود صاحب شریعت ﷺ نے بھی اس اہمیت کے پیش نظر فرمایا : أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ۔ ترجمہ:اس نکاح کا اعلان کرو اور اس نکاح پر دف بجاؤ۔(سنن ابن ماجہ، باب اعلان النکاح ، حدیث 1895)

    3:اللہ کریم سے وعدہ کیا ہو یا کسی اور سے بندہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ اس وعدہ کو پورا کرے ، وعدہ خلافی نہ کرے ، کیونکہ حدیث پاک میں وعدہ خلافی کرنا منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے چناچہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے :عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ۔ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین علامت ہیں ، جب بات کرے توجھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسکا خلاف کرے، اور جب امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(صحیح البخاری ، باب علامۃ المنافق ،حدیث نمبر 33)

    وعدہ خلافی کی صورت میں سخت گناہ گار ہوگا اس پر توبہ کرنا لازم ہے۔ لیکن دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی کفارہ لازم آئے گا ۔کیونکہ ہر قسم کی وعدہ خلافی کا کفارہ نہیں ہے۔ کفارہ صرف ان وعدوں کے خلاف کرنے کا ہے جو یمین یعنی قسم یا حلف میں داخل ہوں۔اگر محض وعدہ ہے تو اس کی خلاف کرنے میں کفارہ نہیں ہے۔گناہ ہے جسکی توبہ لازم ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:20جمادی الثانی 1441 ھ/15جنوری 2019 ء