زکوۃ کی رقم سے آر او پلانٹ لگانا
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 819

    سوال

    کچھ لوگ مختلف علاقوں میں لوگوں کی سہولت کے لئے آر او پلانٹ لگاتے ہیں جس کے لئے مختلف لوگوں سے رقم جمع کرتے ہیں بعض اوقات ان رقوم میں زکوۃ کی رقم بھی آجاتی ہے تو کیا ان لوگوں کا زکوۃ کی رقم سے آر او پلانٹ لگانا یا اس کام کے لئے زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: عبداللہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زکوۃ میں تملیک شرط ہے جسکا معنٰی ہے کہ کسی شخص معین کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنادیا جائے جبکہ اس رقم سے آر او پلانٹ لگانے کی صورت میں تملیک مفقود ہے لہذا بلاواسطہ زکوۃ کی رقم سے آر او پلانٹ لگانا ناجائز ہے اس طریقے سے مزکی (زکوۃ دہندہ) کی زکوۃ ادا نہ ہوگی۔ اور اگر مزکی نے کسی اور مصرف کے لئے دی جبکہ زکوۃ وصول کرنے والے نے اپنی مرضی سے آر او پلانٹ میں لگادی تو اس صورت میں زکوۃ وصول کرنے والے پر مزکی کے لئے ضمان لازم ہوگا یعنی وہ زکوۃ کی بمقدار رقم مزکی کو واپس دے اور پھر دوبارہ اپنی زکوۃ ادا کرے ۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے : وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الصَّرْفُ تَمْلِيكًا لَا إبَاحَةً كَمَا مَرَّ لَايُصْرَفُ إلَى بِنَاءِنَحْوِ مَسْجِدٍ وَ لَا إلَى كَفَنِ مَيِّتٍ وَقَضَاءِ دَيْنِهِ۔ترجمہ:اور زکاۃ کی ادا ئیگی کے لیئے ایک شرط یہ ہے کہ ادائیگی تملیک کے طور پر ہو نہ کہ اباحت(کہ اس کو نفع حاصل کرنے کی اجازت ہو ) کے طور پر ، جیسا کہ پہلے یہ بات گزری کہ تعمیراتی کاموں میں زکاۃ کا پیسہ نہیں لگایا جا سکتا جیسے مساجد وغیرہ کی تعمیر میں ،اور نہ ہی میت کے کفن اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار باب مصرف الزکاۃ ،ج:2،ص:344،دارالفکر،بیروت)

    سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : اگر مالک نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا یا مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیک نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا۔(فتاویٰ رضویہ ،کتاب الزکوۃ،جلد 10 ص 267 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    البتہ اگرکسی علاقے میں پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو تو سب سے پہلے علاقے کے مخیر صاحب ثروت حضرات کو چاہیے کہ اپنے طور پر رقم جمع کرکے آر او پلانٹ لگوالیں اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تویہ حضرات جو آر او پلانٹ لگاتے ہیں انہیں چاہیے کہ عام صدقاتِ جاریہ جو زکوۃ و صدقات واجبہ نہ ہوں سے آر او پلانٹ لگوالیں۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ صرف زکوۃ کی مد میں رقم ہو اسکے علاوہ دیگر مدات میں رقم موجود نہیں تو اب چونکہ آر او پلانٹ ضرورت ہے لہذا اس ضرورت کے تحت اس زکوۃ کی رقم کا حیلہ شرعی کرنے کے بعد آر او پلانٹ لگاسکتے ہیں۔لیکن یاد رہے یہ اجازت ان تمام مراحل کے بعد ہی حاصل ہوگیابتداءً ہی زکوۃ کی رقم کا حیلہ کروانا درست نہیں ہے بلکہ پہلے سعی کرے کہ غیر زکوۃ سے کام ہوجائے بصورت دیگر زکوۃ کی رقم بعد حیلہ شرعی کے استعمال کرسکتے ہیں ۔

    جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی شرعی فقیر مستحق زکوۃ کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے۔ پھر وہ شخص یہ رقم زکوٰۃ دینے والے کو یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر واپس کردے کہ آپ اسے آر او پلانٹ پر صرف کر دیں قبضہ کے بعد اس رقم کو آر او پلانٹ پر صرف کرسکتے ہیں۔

    متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ :ترجمہ: اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر پر صرف کرے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: رمضان المبارک 1445ھ/ 04 اپریل 2024 ء