سوال
ہمارا گاؤں موضع کھائی کوٹلی ہے ،جس کی آبادی تقریباً 1500 کے قریب ہے اور گاؤں میں دو بڑی جامع مسجد موجود ہیں جن میں کثیر تعداد میں لوگ جمعہ مبارک کے اجتماع میں شرکت کرتے ہیں،اور ہمارے گاؤں کی آغازِ حدود میں ایک بڑا چوک ہے جہاں پر چند مارکیٹیں بھی موجود ہیں ۔لوگ بآسانی چند منٹوں میں ان دونوں مساجد میں پہنچ کر نماز ِجمعہ ادا کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں لیکن ہمارے گاؤں کی اسی آغازِ حدود میں ہی ایک چھوٹی بستی موجود ہے جس میں تقریبا 40 کے قریب افراد رہتے ہیں اور وہاں پر چھوٹی مسجد بھی موجود ہے اور لوگوں نے اس میں جمعہ کا اہتمام شروع کر دیا ہے لوگوں کا اس چھوٹی مسجد میں جمعہ ادا کرنا درست ہوگا حالانکہ 120 میٹر کے فاصلے پر ایک بڑی جامع مسجد موجود ہے جس کا اراضی رقبہ بھی بہت بڑا ہے
سائل:محمد انور منہاس
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر صورتِ حال وہی ہے جس کا سائل نے ذکر کیا تو پھر شرعی حکم یہ ہے کہ ان چالیس افراد پر مبنی گاؤں کی ذیلی بستی والوں کاجمعہ شروع کر لینا جائز نہیں۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ :
1:۔جمعہ کی فرضیت کے لیے چھ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ان میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو فرضیت ثابت نہیں ہو گی اور اس جگہ جمعہ شروع کرنا جائز نہیں ہو گا۔ان چھ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے وہ جگہ شہر یا فنائے شہر ہو۔یا پھر امام ابو یوسف علیہ الرحمہ کی روایتِ نادرہ (جسے متاخرین علماء نے تعاملِ ناس کی وجہ سے فتویٰ کے لیے اسے ہی اختیار فرمایا) کے مطابق اگر وہ دیہات ہے تو اس میں اتنی کثیر آبادی ہونی چاہیے کہ جن لوگوں پر جمعہ فرض ہے وہ سب لوگ گاؤں کی بڑی مسجد میں جمع ہوں تو سما نہ سکیں تو اس دیہات میں بھی جمعہ قائم کر سکتے ہیں۔سو ظاہر الروایہ اور نادر الروایہ دونوں ہی کے مطابق مذکورہ قصبہ میں جمعہ شروع کرنا جائز نہیں۔
2:۔جمعہ سے مقصود اجتماعیت ہے کہ مسلمان ایک جگہ کثیر تعداد میں جمع ہوںتاکہ افرادی قوت نمایاں ہو، سب کویکساں پیغام موصول ہو ۔ پندرہ سو کے قریب آبادی پر مشتمل اس گاؤں میں پہلے سے ہی دو جمعہ ہو رہے ہیں ،تیسری جگہ جمعہ شروع کرنے کی کی اصلاً حاجت نہیں تھی سو یہاں پر جو جمعہ ادا کریں گے ان سےجمعہ ساقط نہیں ہو گا ان کے ذمہ ظہر باقی رہے گی لہذا جمعہ کی مقصدیت کو سمجھتے ہوئے فورًا یہ جمعہ بند کر دیں اور یہاں پر جمعہ ختم کرنے میں کسی قسم کا کوئی فتنہ بھی نہیں ۔
ہدایہ میں ہے: "لا تصحُ الجُمُعَةُ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ، أَوْ فِي مُصَلَّى الْمِصْرِ، وَلَا تَجُوزُ فِي الْقُرَى لقوله عليه والله : «لَا جُمعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فِطْرَ وَلَا أَضْحَى إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعِ وَالْمِصْرُ الْجَامِعُ : كُلُّ مَوْضِع لَهُ أَمِيرٌ وَقَاضٍ يُنَفِّذُ الْأَحْكَامَ وَيُقِيمُ الْحُدُودَ".ترجمہ : جمعہ صرف جامع شہر یا فنائے شہر میں جائز ہے اور گاؤں دیہات میں جائز نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : شہر جامع کے علاوہ کوئی جمعہ کی نماز، کوئی تکبیر تشریق ، کوئی عید الفطر کی نماز، کوئی عید الاضحی کی نماز نہیں ہے۔ اور شہر جامع سے مراد ہر وہ جگہ ہے جہاں پر امیر اور قاضی (حج) مقرر ہوں جو احکام کو نافذ اور حدود قائم کرنے پر قادر ہوں۔(الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، جلد 1، صفحہ: 177، مکتبہ رحمانیہ لاہور)
اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ظاہر الروایہ (جمعہ کے لیے شہر کا ہونا) کی بابت طویل کلام فرمایا یہاں پر اس کے چند مقامات ذکر کیے جا رہے ہیں:ہمارے ائمہ کرام رحمۃ اﷲ علیہم نے جو اقامتِ جمعہ کے لئے مصر کی شرط لگائی اس کا ماخذ حضرت مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی کی حدیث صحیح ہے جسے ابوبکر بن ابی شیبہ وعبدالرزاق نے اپنی مصنفات میں روایت کیا: لاجمعۃ ولا تشریق ولا صلٰوۃ فطر ولا اضحی الافی مصر جامع اومدینۃ عظیمۃ ترجمہ:جمعہ ، تکبیرات تشریق، عیدالفطر اور عید الاضحی خارج شہر یا بڑے شہر میں ہوسکتے ہیں۔
صحیح تعریف شہر کی یہ ہےکہ وہ آبادی جس میں متعدد کوچے ہوں دوامی بازارہوں ، نہ وہ جسے پیٹھ کہتے ہیں ، اور وہ پر گنہ ہے کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں او ر اُس میں کوئی حاکم مقدمات رعایا فیصل کرنے پر مقرر ہو جس کی حشمت وشوکت اس قابل ہو کہ مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ جہاں یہ تعریف صادق ہو وہی شہر ہے اور وہیں جمعہ جائز ہے۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے یہی ظاہر الروایہ ہے ،کما فی الھدایۃ والخانیۃ والظھیریۃ والخلاصۃ والعنایۃ والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا۔ جیسا کہ ہدایہ ، خانیہ، ظہریہ، خلاصہ، عنایہ ، حلیہ، غنیہ، درمختار اور فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔اور یہی مذہب ہمارے امام اعظم کے استاذ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما کے شاگرد خاص حضرت امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا ہے،کما فی مصنف عبدالرزاق حمد ثنا بن جریج عن عطاء بن ابی رباح قال اذاکنت فی قریۃ جامعۃ فتودی بالصلٰوۃ من یوم الجمعۃ فحق علیک ان تشھدھا سمعت النداء اولم تسمعہ قال قلت لعطاء مالقریۃ الجامعۃ قال ذات الجماعۃ والامیر والقاضی والدورالمجتمۃ غیرالمفترقۃ الاٰخذ بعضھا ببعض مثل جدۃ جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ ہمیں ابن جریج نے حضرت عطاء بن ابی رباح سے بیان کیا کہ جب تم کسی جامع قریہ میں ہوں تو وہاں جمعہ کے لئے اذان ہو تو تم پر جمعہ کے لئے جانا فرض ہے خواہ اذان سنی ہو یا نہ، کہتے ہیں میں نے عطا سے پوچھا کہ جامعہ قریہ کون سا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جس میں جماعت ، امیر ، قاضی اور متعدد کوچے اس میں ملے جلے ہوں جس طرح جدّہ ہے ۔
علامہ ابراہیم حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں: الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود تزییف صدرالشریعۃ لہ عند اعتذارہ عن صاحب الوقایۃ حیث اختار الحد المتقدم ذکرہ بظھور التوانی احکام الشرع سیما فی اقامۃ الحدود فی الامصار مزیف بان المراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود علی ماصرح بہ فی التحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیہا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھوالاصح ۔ترجمہ:شہر کی وہ صحیح تعریف جسے صاحب ہدایہ نے پسند کیا ہے یہ ہے کہ وہاں امیر اور قاضی ہو جو احکام نافذ اور حدود قائم کرسکیں ، اور صاحب وقایہ کے پہلی تعریف کو اختیار کرنے پر ان کی طرف سے صدر الشریعۃ کایہ عذر کرنا کہ احکامِ شرع خصوصاً حدود کے نفاذ میں سستی کا ظہور ہورہا ہے کمزور ہے کیونکہ مراد اقامت حدود پر قادر ہونا ہے جیسے کہ تحفہ الفقہاء میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تصریح ہے کہ وہ شہر کبیر ہو اس میں شاہراہیں ، بازار اور وہاں سرائے ہوں اور اس میں کوئی نہ کوئی ایسا والی ہو جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو خواہ اپنے دبدبہ اور علم کی بنا پر یا غیر کے علم کی وجہ سے تاکہ حوادثات میں اس کی طرف رجوع کرسکیں اور یہی اصح ہے (غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ ص۵۵۰، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور )
امام اہلسنت علیہ الرحمہ روایتنادرہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں :ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی ،
امام اکمل الدین بابر تی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: " (وَعَنْهُ) أَيْ عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُمْ إِذَا اجْتَمَعُوا أَي اجْتَمَعَ مَنْ تَحِبُّ عَلَيْهِم الجُمُعَةُ لَا كُل مَنْ يَسْكُنُ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ مِنْ الصَّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْعَبِيدِ لِأَنَّ من تحب عَلَيْهِمْ مُجْتَمِعُونَ فِيهِ عَادَةً . قَالَ ابْنُ شُجَاعٍ: أَحْسَنُ مَا قِيلَ فِيهِ إِذَا كَانَ أَهْلُهَا بِحَيْثُ لَوْ اجْتَمَعُوا فِي أَكْبَرِ مَسَاجِدِهِمْ لَمْ يَسَعُهُمْ ذَلِكَ حَتَّى احْتَاجُوا إِلَى بِنَاءٍ مَسْجِدٍ آخَرَ لِلْجُمُعَةِ.ترجمہ: اور ان سے ( یعنی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے ہے (جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے، خواتین، اور غلام۔ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں (سب سے بڑی مسجد میں، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔(عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ جلد 02،صفحہ 24، مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر)
جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے "(فتاوی رضویہ، جلد:۸، صفحہ: ۳۴۷، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 03رمضان المبارک 1444 ھ/14مارچ 2024ھ