حلالہ کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 2 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 331

    سوال

    اگر کسی نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دی اور اس کے بعد اسی عورت سے شادی کرنا چاہے جس کے لیے حلالہ کروائے اس طور پر کہ دوسرے نکاح میں حلالہ کی شرط نہ ہو لیکن دوسرے شخص کو یہ بتا دیا جائے کہ حلالہ کے لیے یہ نکاح کروایا جا رہا ہے اور وہ دل میں یہ بات رکھے کہ مجھے طلاق دینی ہے یا عورت دل میں یہ بات رکھے کہ مجھے طلاق ملنی ہے۔ اسی طرح تمام لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ یہ نکاح حلالہ کے لیے ہو رہا ہے تو کیا اس صورت میں حلالہ ہو جائے گا؟نیز حدیث میں حلالہ کرنے والوں کو جو لعنت کی گئی ہے وہ کون لوگ ہیں؟

    سائل: سمیر، کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حلالہ شرعیہ میں اگرچہ دل میں طلاق دینے کا ارادہ ہو یا لوگوں کو اس کا علم ہو جائز ہی رہتا ہے۔البتہ تحلیل شرعی میں زوجین کی ہم بستری شرط ہے ورنہ حلالہ نہ ہوگا۔ نیز حدیث میں ایسے حلالہ کرنے والوں پر لعنت کی گئی ہے جو عقدِ نکاح میں حلالہ کی شرط رکھیں، پس اگر شرط نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔

    اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)

    اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد.ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) تحلیل شرعی کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے... وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/84،رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔

    درمختار میں ہے: (کرہ) التزوج للثانی(تحریما) لحدیث لعن اﷲالمحلل والمحلل لہ (بشرط التحلیل)کتزوجتک علی ان احللک (امااذا اضمرا ذٰلک لا) یکرہ (وکان) الرجل (ماجورا) لقصد الاصلاح . ترجمہ: حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہِ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں، اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا۔(فتاوی رضویہ،12/410)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 10 جمادی الاولی 1446 ھ/13 نومبر 2024ء