کاروان گھر کے لیے مورگیج
    تاریخ: 2 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 333

    سوال

    میرا نام آصف ہے میں آسٹریلیا میں رہتا ہوں۔ آپ کا مورگیج فتوی کسی دوست نے فارورڈ کیا تھا۔پوچھنا یہ تھا کہ یہاں آجکل گھر بہت مہنگے ہیں تو اس کی جگہ قسطوں پر کاروان لے سکتے ہیں جو سستے ہوتے ہیں اور ایک آدمی کے رہنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ گھروں کی قیمت 6 لاکھ یا سات لاکھ ڈالر ہے جسکی قسطیں 25 یا 30 سال تک بھرنی ہونگی جبکہ کاروان (کنٹینر نما گھر جو کسی بھی گاڑی سے جوڑ کر منتقل کیا جاسکتا ہے) 50،000 ڈالر تک مل جاتا ہے جسکی قسطیں 2 یا 3 سال میں پوری ہوجائینگی۔اگر لے سکتے ہیں تو دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی مورگیج والی کمپنی سے قرض لیتا ہوں تو انکا شرح سود بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اگر میں بینک سے پرسنل لون لوں تو اس پر شرح سود کافی کم دینا ہوگا۔تو کیا میں پرسنل لون لے کر کاروان لے سکتا ہوں اپنی رہائش کے لئے ؟ میں یہاں اکیلا رہتا ہوں اور میری ضرورت کے لئے کاروان کافی ہے۔

    سائل: آصف، آسٹریلیا۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    غیر مسلم ممالک میں نقد میں پراپرٹی خریدنا بلا شبہ بہت زیادہ مشکل کا م ہے۔ سود کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی مسلمان دوسرے مسلمان کو سود نہ تو دے سکتا ہے نہ ہی لے سکتا ہے لیکن کافر حربی اور مسلمان کے درمیان سود کے لین دین کا معاملہ مختلف ہے۔فقہائے کرام نے کافر حربی سے اس عقد کےذریعے نفع لینے کو جائز قرار دیا ہے جو سودی طریقے پر مشتمل ہو مثلاً کافر کو قرض دے کر زائد رقم لینا مسلمان کے لئے جائز ہے لیکن سود کی نیت ہرگز نہیں کرے گا بلکہ جائز نفع سمجھ کر لے گا۔ واضح رہے کہ فقہاء کرام نے اس کے عکس کی عام اجازت نہیں دی یعنی یہ جائز نہیں کہ مسلمان کافر سے قرضہ لے اور اس پر اسے سودی طریقے پر نفع دے۔البتہ غیرمسلم ممالک میں ذاتی گھر خریدنے کی دشواری کے پیشِ نظر متعدد فقہائے عصر نےمورگیج کی صورت میں قرضہ لے کر نفع دینا بوجہِ حاجتِ شدیدہ و نفعِ مسلم کے جائز قرار دیا ہے۔ پس جس طرح حاجت شرعی اور نفعِ مسلم کے پیشِ نظر ذاتی گھر کیلئے مورگیج کی اجازت ہوئی اسی طرح مورگیج پر کاروان لینا بھی جائز و حلال ہے۔مزید یہ کہ پرسنل لون لے کر کاروان لینا جائز ہے کہ قبضہ کے بعد قرض لینے والا مالک ہوتا ہے اور مالک اپنی مملوکہ میں مختار ہوتا ہے۔یہاں کفار کو دھوکے کی صورت نہیں کہ سود لینا کسی طور حلال نہیں لہذا شرح سود کی کمی زیادتی کی بناء پر دھوکہ متحقق نہیں۔

    امامِ اعظم اور دیگر فقہاء ِ مجتہدین نے مسلمان اور حربی کافر کے مابین سود کی نفی کی بنیاد حدیث:«لَاْ رِبَاْ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرَبِيْ فِيْ دَاْرِ الْحَرَبِ».ترجمہ: مسلمان اور کافر حربی کے درمیان دار الحرب میں کوئی سود نہیں ہے( نصب الرایۃ، باب الربا، 4/83،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 10 جمادی الاولی 1446 ھ/13 نومبر 2024ء