زکوۃ کی رقم سے مسجد میں ماربل لگانا
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 820

    سوال

    زکوۃ کی رقم کا حیلہ کرکے اس سے مسجد میں ماربل لگانا جائز ہے یا نہیں ؟

    سائل:سیلانی مدارس ڈیپارٹ:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زکوۃ کی رقم بلاواسطہ مسجد میں نہیں لگائی جاسکتی۔ کیونکہ زکوۃ کے لئے ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم کا کسی حقدارکو مالک بناکر رقم اسکے قبضے میں دے دی جائے،جب کہ مسجد میں یہ شرط نہیں پائی جاتی لہذا زکوۃ کی رقم بلاواسطہ مسجد اور اسکے امور میں صرف نہیں کی جاسکتی ۔

    لہذا چاہیے کہ مسجد میں ماربل پر رقم کسی اور مد مثلا صدقہ نافلہ وغیرہ سے خرچ کی جائے۔

    البتہ اگر شرعی ضرورت متحقق ہوجائےیعنی مسجد کے امور کے لئے رقم کی ضرورت ہے اورعلاوہ زکوۃ کے دیگر مدات سے رقم موجود نہیں ہے ۔ یا پھر لوگوں کے پاس وسائل ہی نہیں کہ وہ امور مسجد میں رقم دیں تو اس ضرورت کی وجہ سے زکوۃ کی رقم مسجد میں حیلہ کرکے لگانے کی اجازت ہے۔

    یاد رہے کہ حیلہ کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ

    1:حیلہ بلاضرورت نہ ہو ۔

    2: جس کام کے لئے حیلہ کیا جارہا ہے وہ فی نفسہ ثواب کا کام ہو۔

    3: اس حیلہ کی وجہ سے کسی مقصدِ شریعت کا بطلان لازم نہ آئے۔

    اورمساجد میں ماربل لگانے میں ان تینوں شرائط کا وجود ہے لہذامذکورہ صورت میں ٹائلز لگانا جائز ہے۔کیونکہ فی زمانہ مساجد میں ٹائلز یا ماربل لگانا عرف کی وجہ سے مسجد کی ضرورت میں داخل ہے کیونکہ لوگ عموما ایسی مساجد میں جانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں جہاں زیادہ سہولیات ہوں ۔ اس اعتبار سے مسجد میں ٹائلز لگانا مسجد کی آبادی کا سبب بھی ہے اور ہروہ امر جو مسجد میں نمازیوں کے آنے کا سبب بنے اسے حتی الامکان اختیار کرنا ،اور جو چیز باعثِ تنفیر ہو، لوگوں کو نماز سے ، مسجد سے دور کردے اس سے رکنااور دوسروں کو روکنا واجب ہے ۔

    حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ سے واقف شخص کو وہ مطلوبہ رقم زکوٰۃ کی نیت سے دے۔ پھر وہ شخص مسجد و ہی رقم زکوٰۃ دینے والے کو یا کسی دوسرے شخص کو یہ کہہ کر واپس کردے کہ آپ اسے مسجد پر صرف کر دیں یا وہ شخص خود مسجد پر وہ رقم خرچ کر دے۔

    مسجد پر زکوۃ کی رقم صرف نہیں کی جاسکتی ، اس بارے میں در مختار میں ہے: (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔ ترجمہ:زکوۃ مسجد کی تعمیر اور میت کو کفن اور قرض کی ادائیگی میں خرچ نہیں کیا جائے گا۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار ، کتاب الزکوۃ ، باب مصرف الزکوۃ جلد 3 ص 343)

    اسی میں ہے:وَیُشْتَرَطُ أَنْ یَکُونَ الصَّرْفُ (تَمْلِیکًا) لَا إبَاحَۃً کَمَا مَرَّترجمہ: اور زکوۃ میں مالک بنانا شرط ہے ،اباحت (استفادہ کی اجازت دینا) کافی نہیں ہے جیسا کہ گزرا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار باب مصرف الزکوۃ جلد 2ص344)

    حیلہ سے متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ ترجمہ: اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر پر صرف کرے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 صفر المظفر 1442 ھ/14 اکتوبر2020 ء