سوال
1:۔میری مسجد میں سمتِقبلہ کا مسئلہ چل رہا ہے،پہلے ہم تقریباً 100 یا 102 ڈگری پر نماز پڑھ رہے تھے تو ایکاس فلیٹ کے ٹھیکیدار نے بولا کہ کراچی کا سمتِ قبلہ 110 ڈگری پر ہے ۔ان کے پاس ایک کمپاس اور چھوٹی سی کتاب تھی ،جس میں انھوں مجھے دیکھایا۔پھر بعد میں مجھےمعتبر ذرائع سے پتہ چلا کہ کراچی کا سمتِ قبلہ 102 ڈگر پر ہے تو اب صورت ِحال بہت خراب ہو رہی ہے ،کیوں کہ مسجد کی تعمیرات ہو رہی ہے تو ٹھیکدار کا کہنا ہے کہ : میں تو 110 ڈگر ی پر ہی صفیں بناؤں گا ۔آپ سے گزارش ہے کہ اس حوالے سے ہماری درست رہنمائی فرمائیں تاکہ اختلاف ختم ہو۔
سائل:امام مسجدِ ہذا (محمد بلال رضا)کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نماز کی شرائطِ دوام میں سے ایک شرط استقبالِ قبلہ Direction Of Qiblah))ہے ۔جس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص کعبہ کو براہِ راست دیکھ رہا ہو اس کے لیے خاص کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا فرض ہے۔ اگر یہ (کعبہ کو براہِ راست دیکھنے والا )شخص عین کعبہ کی طرف منہ کیے بغیر نماز پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہو گی اگرچہ وہ کسی نہ کسی طورپر کعبہ کو دیکھتے ہوئے نماز پڑھ رہا ہو ۔اورجو شخص کعبہ کو براہِ راست نہ دیکھ رہا ہو( اگرچہ وہ مکہ میں ہو یا کسی اور جگہ مثلاً پاکستان میں رہنے والا)اس کے ليے قبلہ کی جہت یعنی سمتِ قبلہ کی طرف منہ کر نا فرض ہے۔
عین ِکعبہ سے دائیں، بائیں 45،45 درجے کے اندر اندر استقبالِ قبلہ ہے۔لہذا غیرمشاہد شخص اگر عینِ قبلہ سے انحراف کر تے ہوئے جہت(45 ڈگری) سے باہر ہو جائے تو نماز نہیں ہو گی۔اور 45 ڈگری کے اندر نماز بلاکراہت جائز ہے ،البتہ مستحب یہ ہے کہ تحقیق کر کے خاص عینِ قبلہ کی طرف نماز پڑھے کہ اسی میں احتیاط و بہتری ہے ۔
جہتِ قبلہ عین کعبہ سے 45ڈگری دائیں اور 45ڈگری بائیں طرف ہونے کی مطلب یہ ہے کہ ایک دائرہ میں 360ڈگری ہوتی ہیں ،جس میں کل چار سمتیں ہیں ،ان میں سے ہر ایک سمت 90ڈگری پر مشتمل ہوتی ہے ۔پس جس طرف قبلہ ہوگا وہ سمت بھی 90 ڈگری پر مشتمل ہو گی جو کہ عین کعبہ سے دائیں طرف 45درجے،یوں ہی بائیں طرف بھی 45درجے تک ہو گی ۔اور یہی سمتِ قبلہ کہلاتی ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ایک مقام پرفرماتے ہیں:’’ہر جہت کا حکم اُس کے دونوں پہلوؤں میں 45، 45 درجے تک رہتا ہے، جس طرح نماز میں استقبالِ قبلہ۔(فتاوی رضویہ، جلد4،صفحہ608، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
سمتِ قبلہ معلوم کرنے کے حوالے سے ہمارے ہاں دو طریقے چلے آ رہے ہیں :
1:۔ موسمِ گرما کا سب سے بڑا دن( 22 جون ) اور سردی کے موسم کا سب سے چھوٹا دن (22 دسمبر) میں سورج غروب ہونے کی جگہ دیکھی جائے دونوں کے غروب کے مقام پر نشان لگا لیے جائیں ،ان دونوں نشانوں کے درمیان ہی سمتِ قبلہ ہے ۔
2:۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ 29مئی اور14جولائی کی تاریخوں میں، اپنے شہر اور مکہ معظمہ میں جتنے گھنٹہ اور منٹ کا فرق آئے، نصف النہار کے بعد اتنے گھنٹہ او رمنٹ پر زمین میں کسی لکڑی کو نصب کریں پھر اس کا سایہ دیکھیں ۔ اس وقت کا وہ سایہ ٹھیک سمتِ قبلہ کو بتائے گا۔
ہمارے زمانہ میں سمتِ قبلہ معلوم کرنے کے لیے جدید آلات(مثلا:ڈیجیٹل کمپاس,ایپلیکیشنز) کا استعمال کیا جاتا ہے,جن میں بہت نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے,اگرچہ وہ اختلاف اس حد تک نہیں کہ جو 45 ڈگری سے باہر لے جائے۔لہذا مسجد کے سمتِ قبلہ معلوم کرنے کے مسئلہ میں از حد احتیاط چاہیے،ماہرینِ فلکیات کی رہنمائی میں سمتِ قبلہ کا تعین کیا جائے۔یہ ذمہ داری کسی مستری یا ٹھیکدار کو نہیں سونپی جا سکتی، نہ ہی اس کی رائے کا کوئی اعتبار ہو گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ترجمہ: اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو ۔(البقرۃ:144)
اس آیت میں اللہ تعالی نے مسجدِ حرام کی طرف منہ کرنا فرض کیا ہے ۔علامہ قرطبی علیہ الرحمہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:لَا خِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْكَعْبَةَ قِبْلَةٌ فِي كُلِّ أُفُقٍ، وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ مَنْ شَاهَدَهَا وَعَايَنَهَا فُرِضَ عَلَيْهِ اسْتِقْبَالُهَا، وَأَنَّهُ إِنْ تَرَكَ اسْتِقْبَالَهَا وَهُوَ مُعَايِنٌ لَهَا وَعَالِمٌ بِجِهَتِهَا فَلَا صَلَاةَ لَهُ ۔وَأَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ مَنْ غَابَ عَنْهَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ نَاحِيَتَهَا وَشَطْرَهَا وَتِلْقَاءَهَا، فَإِنْ خَفِيَتْ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَدِلَّ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ مَا يُمْكِنُهُ مِنَ النُّجُومِ وَالرِّيَاحِ وَالْجِبَالِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يُمْكِنُ أَنْ يُسْتَدَلَّ بِهِ عَلَى نَاحِيَتِهَا ۔علماء کے مابین اس بات میں کوئی اختلاف نہیں تمام آفاق میں قبلہ کعبہ ہی ہے۔اور ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص کعبہ کا مشاہدہ کر رہا ہو ،اس کو دیکھ رہا ہو اس پر استقبالِ قبلہ واجب ہے ۔اگر اس نے استقبالِ قبلہ کو ترک کیا اس حال میں کہ وہ اس کو دیکھ رہا تھا اور اس کی جہت کو جانتا تھا تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔اور جس کی نظر سے کعبہ غائب ہو (مشاہدہ نہ کر رہاہو)اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اس کی جانب،اس کی طرف منہ کرے،پس اگر اس پر جہتِ قبلہ مخفی ہو جائے تو وہ اس پر استدلال کرے ہر اس چیز سے جو اس کو ممکن ہو مثلاً ستارے،ہوا،اور پہاڑوں کےذریعے کہ ان سے سمتِ قبلہ پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔( الجامع لاحکام القرآن جلد02 صفحہ160)
منیۃ المصلی میں ہے:فمن کان بحضرۃ الکعبۃ یجب علیہ اصابۃ عینہا ومن کان غائبا عنھا ففرضہ جہۃ الکعبۃ ترجمہ:جو شخص کعبہ میں موجود ہو اس پر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے،اور جو وہاں موجود نہ ہواس پر جہتِ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا فرض ہے۔ (منیۃ المصلی جلد 01 صفحہ 191 مکتبہ نعمانیہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں: جہتِ کعبہ کو مونھ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ مونھ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو، تو اگر قبلہ سے کچھ انحراف ہے، مگر مونھ کا کوئی جز کعبہ کے مواجہہ میں ہے، نماز ہو جائے گی، اس کی مقدار ۴۵ درجہ رکھی گئی ہے، تو اگر ۴۵ درجہ سے زائد انحراف ہے، استقبال نہ پایا گیا، نماز نہ ہوئی، مثلاً الف ، با ایک خط ہے اس پر ہ، ح، عمود ہے اور فرض کرو کہ کعبۂ معظمہ عین نقطہ ح کے محاذی ہے، دونوں قائمے الف، ہ، ح اور ح، ہ ب کی تنصیف کرتے ہوئے خطوط ہ، ر، ہ، ح خطوط کھینچے، تو یہ زاویہ ۴۵،۴۵ درجے کے ہوئے کہ قائمہ ۹۰ درجے ہے، اب جو شخص مقام ہ پر کھڑا ہے، اگر نقطۂ ح کی طرف مونھ کرے، تو اگرعین کعبہ کو مونھ ہے اور اگر دہنے بائیں ریا ح کی طرف جھکے تو جب تک ر ، ح یا ح ، ح کے اندر ہے، جہت ِکعبہ میں ہے اور جب ر سے بڑھ کر الف، یا ح سے گزر کر ب کی طرف کچھ بھی قریب ہوگا، تو اب جہت سے نکل گیا، نماز نہ ہوگی۔ (بہار شریعت، جلد1،حصہ3،صفحہ487، 488مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17محرم الحرام1443 ھ/26اگست 2021ء