سوال
میں نے آٹھ سال پہلے دوسری شادی کی اس کے بعد میری پہلی بیوی کی جانب سے حالات بہت زیادہ کشیدہ ہو گئے میں نے سخت دباؤ آ کر طلاق دے دی۔میں نے طلاق بذریعہ عدالت بھیجی جس میں طلاق اول لکھا تھا ۔اس طلاق اول کے مضمون کو میں نے نہیں پڑھا لیکن اتنا پتہ تھا کہ اس میں ایک طلاق کا ذکر ہے ۔یہ پہلی طلاق موصول ہونے کے بعد میں نے اس کو فون پر بھی تینوں طلاقیں دے دیں ۔
پھر دوسری اور تیسری طلاق بھی بذریعہ عدالت بھیجوا ئی ۔ لیکن پہلی طلاق جب بیوی کو موصول ہوئی تو وہ حیض میں تھی۔اسی طرح پہلے طلاق نامہ میں جو طلاق کا مضمون درج تھا اس میں یہ تھا کہ مسماۃ انجم اعجاز کو طلاق اول دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کرتا ہوں اور اپنے نفس پر حرام کرتا ہوں ۔۔
اب دوسری بیوی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ آپ نے عدالت کے ذریعہ جو طلاق بھیجوائی وہ طلاق بائن تھی اس کے بعد نکاح ٹوٹ گیا تھا لہذا اس کے بعد باقی طلاقیں نافذ نہیں ہوں گی۔
سائل:محمد حفیظ /کھاریاں گجرات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں انجم اعجاز تین طلاقوں کے ساتھ آپ پر حرام ہو چکی ہے ۔اب آپ کے پاس اس سے رجوع کا کوئی اختیار نہیں، آپ کے لیے اس کی حیثیت اجنبیہ کی ہے اس سے میاں بیوی والامعاملہ ناجائز و حرام ہے ۔
طلاق کسی حالت میں بھی دی جائے واقع ہو جاتی ہے ،بیوی پاس ہو دور ہو،پاکی کی حالت میں ہو یا حیض سے ہو بہر حال جب بھی طلاق دیں واقع ہو جاتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا ناپسندیدہ عمل ہے۔
صحیح مسلم کی حدیثِ مبارک میں ہے کہ جب حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ کو حالت حیض میں طلاق دی توسیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ذکر نبی کریمﷺ سے کیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا، أَوْ حَامِلًا ترجمہ:اسے حکم دوکہ وہ اس(مطلقہ بیوی)سےرجوع کرے،پھر اسے حالتِ طہر میں یا حالتِ حمل میں طلاق دے۔(صحیح مسلم،رقم الحدیث:3659)
آپ نے عدالت کے ذریعہ جو طلاقِ اول بھیجوایا بقول آپ کے اس مضمون کو پڑھا نہیں،لیکن جب آپ نے سائن کر دیا تو یہ نفسِ مضمون پر رضامندی کی دلیل ہے ۔
طلاق اول کے مضمون میں سے زوجیت سے آزاد کرتا ہوں جملہ سے طلاق رجعی واقع ہوئی تھی اور دوسرے جملہ اپنے نفس پر حرام کرتا ہوں سے طلاق ِبائن پڑی ہے اس لیے کہ اس میں شدت والا معنی پایاجا رہا ہے ۔
ردالمحتار میں ہے:" أَفْتَى الْمُتَأَخِّرُونَ فِي أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ بِأَنَّهُ طَلَاقٌ بَائِنٌ لِلْعُرْفِ بِلَا نِيَّةٍ".ترجمہ: علماء متاخرین نے اس پر فتوی دیا کہ " تو مجھ پر حرام ہے" کہنے سے بغیر نیت کے طلاق بائن ہو جائے گی۔ (ردالمحتار, جلد:4، صفحہ:464، امدادیہ ملتان)
امام اہلسنت امام احمد رضاخاں علیہ رحمۃ الرحمن لفظ حرام کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :" ہر چند یہ لفظ (حرام) بوجہ عرف ملحق بالصریح ہے کہ بے حاجت نیت طلاق بائن واقع ہو۔ (فتاوی رضویہ , جلد: 12، صفحہ: 586, رضا فاؤنڈیشن لاہو ر)
پھراس کے بعد عدت کے دوران ،آپ نے فون پر تین طلاقیں دیں تو وہ بھی واقع ہو گئی ہیں اس لیے کہ طلاق رجعی طلاق بائن کو لاحق ہوجاتی ہے(بشرائط دیگر)۔
منحۃ الخالق میں ہے:الرجعي يلحق البائن ترجمہ:طلاق رجعی بائن کو لاحق ہوتی ہے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،جلد:4،صفحہ:77،دار الکتاب الاسلامی)
ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ۔ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ۔( البقرہ : 230)
بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ حلالہ شرعی کی وضاحت میں فرماتے ہیں :حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے،وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اورحمل رہ جائےتو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے۔( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 جمادی الثانی1444 ھ/03 جنوری 2023 ء